وزیراعظم کی تازہ تقریر

وزیراعظم کی تازہ تقریر

  



وزیراعظم عمران خان نے میاں والی میں تقریر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کی بیماری کی تحقیقات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو حیران رہ گیا،ڈاکٹروں کی رپورٹیں نکال کر دیکھیں تو ان میں لکھا تھا کہ مریض کی حالت اتنی خراب ہے کہ کسی بھی وقت مر سکتا ہے۔ اسے دل، گردوں،ذیابیطس کی بیماریاں ہیں اور پلیٹ لیٹس بھی کم ہیں۔ یہاں اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی شان ہے، کیا یہ مریض جہاز کو دیکھ کر ٹھیک ہو گیا یا لندن کی ہوا لگنے سے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنا یہ عہد ایک بار پھر دہرایا کہ وہ جب تک زندہ ہیں کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کرسی بچانے کے لئے نہیں، ملک میں تبدیلی لانے کے لئے آئے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی اس تقریر میں مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری اور شہبازشریف کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اپنے مداحوں کے بڑے اجتماع کو دیکھ کر ان کے اندر کا ”اپوزیشن لیڈر“ پھر بیدار ہو گیا اور انہوں نے وزیراعظم کا سا لب و لہجہ اپنانے کے بجائے ایک بار پھر انتخابی مہم کے جوہڑ میں چھلانگ لگا دی۔ وزیراعظم اپنی مرضی کے مالک ہیں، وہ جس لہجے کو اپنائیں اور جو بھی الفاظ چنیں، انہیں اس کا حق حاصل ہے، ملک کا دستور انہیں بھی تحریر و تقریر کی وہی آزادی عطا کرتا ہے، جسے دوسرے شہریوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔ اگر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدان بے تکان، بے سروپا الزامات کی گردان کررہے ہیں تو ان کو بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا جا سکتا ہے۔ جوابی حملے کے حق سے انکار ممکن نہیں۔اگر عمران خان صرف تحریک انصاف کے چیئرمین ہوتے تو ان کے جملوں کی داد دینے میں احتیاط سے کام لینا (شاید) بخیلی قرار پاتا، لیکن خوش قسمتی سے وہ وزیراعظم کے منصب پر بھی فائز ہو چکے ہیں۔ دستور کے لحاظ سے وہ پاکستان کے سب سے با اختیار شخص ہیں۔ انہوں نے برسراقتدار آنے سے پہلے جو وعدے کئے تھے اور عام آدمی کو جو آسودگی فراہم کرنے کا عہد کیا تھا، لوگوں کو اس حوالے سے ان سے بڑی توقعات ہیں۔ انہیں ووٹ دینے والے بھی اور ووٹ نہ دینے والے بھی وزیراعظم کے طور پر ان کی کارکردگی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کا تعلق محض ان کی ذات سے نہیں پوری قوم سے ہے، ان کی کارکردگی بہتر ہو گی تو ہر پاکستانی کو فائدہ پہنچے گا۔ تعلیم، صحت، انصاف اور امن و امان کے حوالے سے جو خواب اسے دکھائے گئے تھے،ان کی تعبیر پا کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ حریفانِ سیاست کی مبینہ کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتے چلے جانے سے مستقبل کی تعمیر میں کوئی مدد نہیں مل سکے گی۔ نام نہاد چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنے اور انہیں سزا دلوانے کے لئے دنیا بھر میں ادارے کام کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی احتسابی اور عدالتی ادارے قائم ہیں، انہیں اپنا کام کرنا چاہیے، حکومت کو اپنا کام کرنے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔

زیر بحث تقریر میں تو وزیراعظم نے کئی قدم آگے بڑھ کر بیٹ گھمایا اور سابق وزیراعظم کی بیماری ہی کا مذاق اڑایا ہے۔حکومت کے اپنے بنائے ہوئے میڈیکل بورڈ پر سوالات اٹھا دیئے ہیں اور محض اس وجہ سے کہ نوازشریف وہیل چیئر یا سٹریچر پر جہاز تک جانے کے بجائے پاؤں پر چل کر گئے، ان کی بیماری کو مشکوک ٹھہرا دیا ہے۔ وزیراعظم کے بقول انہیں اس بات پر بھی حیرانی ہوئی کہ وہ خود جہاز کی سیڑھیاں چڑھ گئے(حالانکہ جہاز تک جانے کے لئے انہوں نے لفٹ استعمال کی تھی)۔ وزیراعظم آکسفورڈ کے ڈگری یافتہ اور ایک بہت بڑے ہسپتال کی تعمیر پر دنیا بھر سے خراج تحسین وصول کرنے والے شخص ہیں، ان کو تو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ ہر مرض کا مریض سٹریچر پر لٹانا ضروری نہیں ہوتا۔ وہیل چیئر یا سٹریچر کسی مریض کے مرض کی شدت جانچنے کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔ وزیراعظم کو تو اپنے حریفِ سیاست کی داد دینی چاہیے تھی کہ وہ بیماری کا مقابلہ بڑے حوصلے سے کر رہا ہے۔یہ اس کی دین ہے،جسے پروردگار دے۔

ہم بصد ادب یہ عرض کرنے کی اجازت چاہیں گے کہ کسی بھی جماعت کے اندھے اور جذباتی کارکن اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کی رہنمائی کرنے کی بجائے ان کو رہنما بنا لینے والے کبھی راستہ کشادہ نہیں کر پاتے، اسے تنگ کرتے چلے جاتے ہیں۔ کرسی بچانے کے بجائے تبدیلی لانے کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ ہمارے ذہین اور باصلاحیت وزیراعظم بھی اگر ان لوگوں کے راستے پر چلیں گے تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ وہ مستقبل پر نظر رکھنے والوں میں اپنا شمار نہیں کرانا چاہتے۔ان کی صلاحیتیں تبدیلی لانے کے کام نہیں آئیں گی۔ یہ اہلِ پاکستان کے لئے یقینا ایک بری خبر ہو گی۔

مزید : رائے /اداریہ