نوازشریف کے جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا فائدہ؟

نوازشریف کے جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا فائدہ؟
نوازشریف کے جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا فائدہ؟

  



حکومت نے خود نوازشریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی منظوری دی ہے، تو اب کم از کم چار ہفتے کے لئے ان کی بیماری پر کوئی تبصرہ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر چار ہفتے بعد وہ اپنی ضمانت کی مدت میں مزید اضافہ مانگتے ہیں تو اس وقت یہ بحث ہو سکتی ہے کہ وہ واقعی اس قابل ہیں کہ انہیں بیرون ملک رہ کر اپنا علاج کرانا چاہئے یا نہیں؟…… مگر لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس تاثر کے زیر اثر ہیں کہ ان پر نوازشریف سے ڈیل کا الزام نہ لگ جائے، اس لئے پہلے انہوں نے عدلیہ پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ اس کی وجہ سے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت ملی، جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فوری جواب دیتے ہوئے باور کرایا تھا کہ کسی کو باہر جانے کی اجازت خود حکومت نے دی، عدلیہ نے صرف جزئیات طے کیں۔ غالباً اسی لئے وزیر اعظم عمران خان نے میانوالی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کی بیماری کو نشانہ بنایا اور کہا کہ یہاں طبی رپورٹیں دی گئیں کہ نوازشریف سخت بیمار ہیں اور جلد بیرون ملک نہ بھیجا گیا تو ان کی زندگی ختم ہو سکتی ہے، جبکہ وہ جہاز میں سوار ہوتے ہی ہشاش بشاش نظر آئے اور لندن میں تو بالکل ہی ٹھیک نظر آتے ہیں، کہنا وہ غالباً یہ چاہتے تھے کہ نوازشریف نے بیماری کے نام پر جھوٹ بولا تاکہ ملک سے باہر جا سکیں۔

وزیر اعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس کی تحقیق ہونی چاہئے کہ نوازشریف کی بیماری کا ڈرامہ کس نے رچایا؟ کیا وزیر اعظم عمران خان کو یہ باتیں کرنی چاہئے تھیں؟ کیا یہ کہہ کر وہ اپنی ناکامی تسلیم نہیں کر رہے کہ انہیں بھی دھوکے میں رکھا گیا۔ اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی تو شاید ان کی باتوں کا کوئی جواز بھی نظر آتا، مگر وہاں تو پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور صوبائی وزیر صحت خود ایک ڈاکٹر ہیں، جن کے یہ بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ نوازشریف واقعی سخت بیمار ہیں اور انہیں ایک نہیں کئی امراض لاحق ہیں، پھر اس مقصد کے لئے سرکاری طبی بورڈ بھی بنتے رہے، جن کی رپورٹیں ریکارڈ پر ہیں، جو اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں پیش کی جاتی رہیں،اگر واقعی شریف خاندان نے پورے نظام کو ہائی جیک کر لیا تھا، تو یہ باتیں درست نظر آتی ہیں، لیکن اگر طبی بورڈوں نے میرٹ پر کام کیا اور حکومت بھی ان کی رپورٹوں سے مطمئن ہو کر انہیں باہر بھیجنے پر تیار ہو گئی تو اب لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ؟

”نوازشریف کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہئے“…… یہ بیانیہ ان دنوں بہت مقبول ہوا تھا،

جب وہ پاکستان میں تھے، یہاں تک کہ خود وزیر اعظم عمران خان نے اپنے وزراء کو منع کر دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں تبصرے نہ کریں۔ ان دنوں یہ بات بھی مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تواتر کے ساتھ کی جا رہی تھی کہ نوازشریف کی زندگی کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔ کیا اس بیانیہ کی وجہ سے عمران خان نفسیاتی طور پر دباؤ میں آ گئے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے کابینہ اجلاس میں یہ تک کہہ دیا تھا کہ مَیں نے اپنے ذرائع سے پتہ کر ایا ہے، نوازشریف واقعی بہت بیمار ہیں، اس لئے ہمیں انسانی بنیادوں پر انہیں علاج کے لئے بیرون ملک جانے دینا چاہئے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کو باہر لے جانے کی جنگ بڑی مہارت سے لڑی، حتیٰ کہ بدترین مخالف بھی خود یہ دہائیاں دینے لگے کہ نوازشریف کو بیرون ملک جانا چاہئے۔ جب یہ سب کچھ ہو چکا ہے اور نوازشریف کو حکومت نے اپنی مرضی سے رخصت کیا ہے، تو پھر اب اس موضوع پر سیاست کیوں کی جا رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان، نوازشریف کے جانے کو صرف اس لئے تنقید کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں کہ وہ جہاز پر خود چل کر سوار ہوئے یا ان کا طیارہ ایمبولینس نہیں، بلکہ ایک چارٹر جہاز تھا۔ فیصلہ کر لینے کے بعد اگر ملک کا حکمران خود ہی یہ ڈھنڈورا پیٹنے لگے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو قوم کا کیا بنے گا؟ اگر وفاقی و صوبائی حکومت کے ہوتے ہوئے اتنی آسانی سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے تو باقی معاملات کیسے چلتے ہوں گے؟ وزیر اعظم عمران خان میانوالی کے جس جلسے میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی تعریف کر رہے تھے، اسی جلسے میں انہوں نے نوازشریف کی فرضی رپورٹوں کا ذکر بھی کیا، جبکہ ان رپورٹوں پر مہر تصدیق تو ڈاکٹر یاسمین راشد نے ثبت کی تھی، وہ ان سے پوچھتے تو سہی کہ آپ کہتی تھیں وہ بہت بیمار ہیں، لیکن وہ تو صحت مند نکلے، بعض وزراء نے نوازشریف کے لئے ہٹے کٹے کی اصطلاح بھی استعمال کی، جو کسی بھی حوالے سے مناسب نظر نہیں آتی۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ایک دم یوٹرن کیوں لیا؟ جب میاں نوازشریف کی حالت کو خفیہ رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی تھی اور ان کی کوئی تصویر تک باہر نہیں آ رہی تھی، صرف ان کے سخت بیمار ہونے کی خبریں جاری کی جا رہی تھیں تو کم از کم باہر جانے کا سکرپٹ بھی اسی کے مطابق ہونا چاہئے تھا۔ نوازشریف کا یہ اپنا فیصلہ تھا کہ انہوں نے پینٹ کوٹ پہن کر جہاز میں سوار ہونا ہے اور وہ بھی خود چل کر، یا انہیں شہباز شریف نے ایسا کرنے کو کہا تاکہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں میں بددلی نہ پھیلے۔ بالفرض نوازشریف مریض کے لباس میں ہوتے اور اس وہیل چیئر پر بیٹھ جاتے جو ان کے لئے ایئرپورٹ پر لائی گئی تھی، تو وزیر اعظم سمیت کسی کو بھی یہ کہنے کا موقع نہ ملتا کہ نوازشریف بیماری کا ڈرامہ رچا کر بیرون لک گئے ہیں اور انہوں نے قوم کو دھوکہ دیا ہے۔ پھر جہاز کے اندر کی تصویر کس نے لیک کی، کس نے انگور سامنے رکھ کر نوازشریف کی تصویر بنائی اور جہاز اڑنے سے پہلے اسے میڈیا کو بھی بھیج دیا۔ جتنی احتیاط سروسز ہسپتال اور جاتی امرا میں کی گئی تھی، اسے جہاز میں کیوں برقرار نہیں رکھا گیا؟

کیوں یہ سمجھ لیا گیا کہ اب ہم آزاد ہو گئے ہیں؟ میاں نوازشریف کوئی معمولی آدمی تو نہیں کہ قانون کی گرفت سے نکل گئے تو معاملہ ختم ہو گیا، وہ تو بہت بڑے سیاستدان ہیں اور پاکستانی سیاست میں ان کا بہت کردار ہے۔ ان پر آج جو تنقید ہو رہی ہے، اور جس طرح ان سے ہمدردی کی وہ فضا زائل ہو چکی ہے جو سخت بیماری کی خبروں کے باعث پاکستان میں چھائی ہوئی تھی، اس میں اس بے احتیاطی کا بھی بڑا کردار ہے جو اس ضمن میں روا رکھی گئی۔ آج اگر حکومت نوازشریف کے جانے کے بعد لکیر پیٹ رہی ہے تو خود مسلم لیگ (ن) کے رہنما بھی شاہی طیارے کو ایمبولینس ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، حالانکہ اس کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ جو تیر کمان سے نکلنا تھا، وہ نکل چکا ہے، یہی بات وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزراء کو بھی کہی جا سکتی ہے۔ وہ نوازشریف پر دھوکہ دہی کا الزام لگانے کی بجائے اپنا محاسبہ کریں کہ کیوں تمام تر ذرائع ہونے کے باوجود وہ بیماری کے جھانسے میں بقول ان کی رائے کے آئے اور غلط فیصلہ کیا۔

بہتر تو یہی ہے کہ فی الوقت نوازشریف کی بیماری کے باب کو بند کر دیا جائے۔ اس وقت کا انتظار کیا جائے جب وہ اپنی اگلی رپورٹیں سامنے لائیں گے۔ ہائیکورٹ کے فیصلے میں چونکہ علاج کی بابت سفارت خانے کے ذریعے حکومت پاکستان کو با خبر رکھنے کا پابند کیا گیا ہے، اس لئے جلد حقائق سامنے آ جائیں گے۔ ویسے بھی کسی شخص کی ظاہری حالت کو دیکھ کر اس کے اندر موجود بیماریوں کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے؟ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ نوازشریف کو ہائی سٹیرائیڈز ادویات دے کر سفر کے قابل بنایا گیا تھا۔ پھر جب ایک اتھارٹی فیصلہ کر دیتی ہے تو اس میں کیڑے نہیں نکالے جاتے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بالکل درست کہا ہے کہ جانے کی اجازت حکومت نے پہلے دی، یہ معاملہ بعد میں ہائیکورٹ میں آیا، جس میں صرف بانڈ دینے یا نہ دینے کی بحث ہوئی۔ گویا حکومت نوازشریف کی بیماری سے متفق ہو چکی تھی اور ان کے باہر علاج کرانے کو ضروری سمجھتی تھی۔ اب اس بڑے بلنڈر پر مٹی ڈال دی جائے تو بہتر ہے، چہ جائیکہ دھوکہ دہی کا پروپیگنڈہ کیا جائے۔

اگر تمام تر ریاستی اداروں پر کنٹرول کے باوجود وزیر اعظم اور ان کی کابینہ دھوکے میں آ گئی تو یہ ان کے لئے ہزیمت کی بات ہے،ناکہ فخر کی۔ مان لینا چاہئے کہ نوازشریف کی بیماری پر حکومت کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے اور وہ اس خوف میں مبتلا ہو چکی تھی کہ نوازشریف کو کچھ ہو گیا تو سارا الزام اس کے سر آئے گا، اسی خوف سے نکلنے کے لئے نوازشریف کو جانے کی اجازت دی گئی، لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ نوازشریف کا چلے جانا تو ”این آر او نہیں دوں گا“ کے بیانیہ کی نفی ہے، جس کے بعد یہ ساری جنگ چھیڑی گئی۔ اب یہ معاملہ وقت کے ہاتھوں میں ہے، باقی سب ہاتھوں سے نکل چکا ہے بے وقت کی راگنی الاپنے کی بجائے وقت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے، وہی بتائے گا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا، کس نے بیماری کے نام پر سیاست کی اور کس نے بیمار ہونے کا ڈرامہ رچا کر دھوکہ دیا؟

مزید : رائے /کالم