جمہوریت کے لئے خدمات!

جمہوریت کے لئے خدمات!
جمہوریت کے لئے خدمات!

  



چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ہماری مسلح افواج کے دوسرے سربراہ ہیں جن کو سول حکومت کی طرف سے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ دونوں جنرل حضرات میں قدر مشترک یہ پائی گئی کہ وہ ملک میں جمہوریت کے زبردست حامی ہیں۔ جنرل (ر) اسلم بیگ مرزا کو تو سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے تمغہ جمہوریت بھی دیا کہ انہوں نے جب و ہ ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف تھے اور 17 اگست 1988ء کو چیف آف آرمی سٹاف، صدر مملکت جنرل ضیاء الحق جہاز کے حادثہ میں چل بسے تو انہوں (اسلم بیگ مرزا) نے موقع اور حالات ہوتے ہوئے بھی مارشل لاء لگایا نہ حکومت سنبھالی بلکہ انہوں نے ملک میں عام انتخابات کرا دیئے ان کے نتیجے میں محترمہ وزیر اعظم بنی تھیں۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی بہت زیادہ تعریف کی اور بتایا کہ انہوں نے (عمران) نے برسر اقتدار آنے کے تین ماہ بعد ہی جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا فیصلہ کر لیا تھا وزیر اعظم کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت کے زبردست حامی اور ان کی معاشی، سیاسی، اقتصادی اور ملکی تحفظ کے حوالے سے بہت زبردست خدمات ہیں اور وہ تمام محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور چیف آف آرمی سٹاف پہلی ٹرم 29 نومبر کو مکمل ہو رہی ہے۔ ان کو 30 نومبر سے مزید تین سال کے لئے توسیع دی گئی ہے۔ ان کو خراج تحسین ہی کے لئے شاید پہلی مرتبہ ہے کہ کم از کم چار بار بالواسطہ یا براہ راست ان کی ملازمت میں توسیع کے حوالے سے خبر دی گئی وزیر اعظم نے کہا تو ساتھ ہی وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے بھی بتایا گیا کہ جنرل باجوہ کو اگست ہی میں توسیع دی گئی اور نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔ یہ کچھ غیر معمولی اتفاق ہے کہ جب مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ چل رہا تھا تو ٹی وی پروگرام کے دوران اینکر حامد میر نے ایک دوسرے ٹیلیویژن چینل سے مستعار لے کر کلپ چلایا، جو صدر مملکت کے انٹرویو کا تھا اور صدر مملکت نے بتایا کہ وہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری منظور کر کے اس پر دستخط کر چکے ہوئے ہیں۔ چنانچہ حامد میر کے اس پروگرام میں یہ وضاحت کی گئی جو شاید سوشل میڈیا اور ملک میں جاری بعض افواہوں یا خواہشات پر مبنی خبروں کو رد کرنے کے لئے کی گئی، اس کے بعد بھی دو تین مرتبہ ایسا ہوا اور اب تو وزارت قانون نے بھی بتا دیا کہ توسیع کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو چکا ہوا ہے توقع ہے کہ اب اس حوالے سے تمام ”خبریں“ یا ”افواہیں“ از خود دم توڑ دیں گی۔

بہر حال قمر جاوید باجوہ موجود ہیں اور جب 29 نومبر آئے گی تو اس حوالے سے سارے ابہام بھی ختم ہو جائیں گے۔ جنرل باجوہ اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل زبیر محمود حیات کی تقرری ایک ہی روز ہوئی اور ان کی مدت ملازمت بھی 29 نومبر تک ہی ہے، جنرل باجوہ کو توسیع ملی تاہم جنرل زبیر محمود حیات کی جگہ نئے چیئرمین کا تقرر کر دیا گیا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کی تقرری کر کے نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو گیا یوں یہاں تک بات مکمل ہو گئی۔ اب سوشل میڈیا والوں کو خاموش ہو جانا چاہئے۔

یہ عرض کرنا تھی کر دی، ملکی سیاست کے حوالے سے بات کرنا ہے تو مولانا کا آزادی مارچ دھرنا پر منتج ہوا اور دھرنا ختم کر کے پلان بی بھی مکمل ہو چکا اب پلان سی کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق ملک بھر میں جلسے شروع کر دیئے گئے ہیں یہ متحدہ اپوزیشن کا سلسلہ ہے جو اب بھی مطمئن اور کہتے ہیں عوام کو اچھی خبر ملے گی۔ ان کے حوالے سے تو اچھی خبر اقتدار کی تبدیلی ہی ہو سکتی ہے۔ لیکن عوام کا اس سے کیا تعلق ان کے لئے تو خوشی کی خبر روز گار کی فراہمی اور مہنگائی کا خاتمہ ہی ہو سکتی ہے، اب عوام کو کسی اور امر سے کوئی تعلق نہیں وہ مہنگائی کی چکی میں مسلسل پس رہے ہیں اور ان کے لئے بہترین تحفہ قیمتوں کو معمول پر لانا ہے۔ جو شاید ممکن نہ ہو کہ سٹیٹ بنک کے سربراہ مسلسل ایسے اقدام اٹھا رہے اور کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی مزید بڑھے گی۔ اور حکومت کے اقدامات سے ایسا ہو بھی رہا ہے۔ انہی حالات میں وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں، ”میں کرسی نہیں تبدیلی کے لئے آیا ہوں۔“ میانوالی کے دورہ کے دوران وہ رہ نہیں سکے حالانکہ انہوں نے ایک روز قبل ہی یہ یقین دلایا تھا کہ اب وہ نوازشریف اور بلاول کو کچھ نہیں کہیں گے اس کے باوجود انہوں نے نوازشریف کی علالت پر تو تبصرہ کر ہی دیا اور کہتے ہیں۔ ”نوازشریف کا تو سب کچھ خراب تھا، ان کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو حیران رہ گیا، شاید جہاز دیکھ کر یا تو لندن کی ہوا کھا کر ٹھیک ہو گئے۔

وزیر اعظم نے سابق وزیر اعظم کی روانگی اور اس کے لئے اجازت کے حوالے سے مکالمہ بازی کے بعد اب پھر شک ہی کا اظہار کیا ہے حالانکہ ان کا اپنا کہنا تھا میں نے ”رپورٹیں دیکھ لی ہیں نوازشریف واقعی بیمار ہیں“ ان کو یقین ہو گیا تھا تو تبھی انہوں نے خود کہا وہ (نواز) بہت زیادہ بیمار ہیں، لیکن اب ان کی رائے تبدیل ہوئی ہے۔ شاید وہ بھی انہی حضرات میں شامل ہیں جن کا خیال تھا کہ نوازشریف سٹریچر پر لے جائے جائیں گے۔ رائے میں تبدیلی کے ذمہ دار نوازشریف کے معالج ڈاکٹر عدنان ہیں جو کہتے ہیں کہ نوازشریف کا علاج طوالت بھی اختیار کر سکتا ہے اور ان کو امریکہ بھی لے جانا پڑ سکتا ہے، اس سے ان حضرات کی باتوں کی توثیق ہوتی ہے جو یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ نوازشریف واپس آنے کے لئے تو نہیں گئے اگرچہ بقول محمد شہباز شریف نوازشریف کے مسلسل ٹیسٹ ہو رہے ہیں کہ ان کے مرض کی تشخیص تو ہو سکے۔ یوں یہاں ہوتے ہوئے اختلاف تھا تو ان کے جانے کے بعد بھی ہو رہا ہے۔

بہر حال محمد نوازشریف کو یہ سب اندازے غلط ثابت کر کے علاج کے فوراً بعد وطن واپس آنا چاہئے کہ ایسی باتیں نہ ہوں، بہر حال صحت مندی کے لئے دعا گو ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ جلد ہی جلد صحت یاب ہوں، واپس آئیں تاکہ افواہیں دم توڑیں اور ملک میں سیاسی استحکام آئے جس کی شدید ضرورت ہے، عوام کے مسائل بھی تب ہی حل ہو سکیں گے۔ اس لئے دعاء خیر ہی کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم