چار دن کی چاندنی

چار دن کی چاندنی
چار دن کی چاندنی

  



چاپوری کہاوت اس طرح ہے کہ ”چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات“…… در حقیقت اس کہاوت کا صحیح اظہار اس طرح ہے کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری قبر……قبر کچی ہو یا پکی،۔ اس کے اوپر جتنے چاہے قمقمے روشن کر لیں، اس کے اندر بہرحال اندھیرا ہوتا ہے۔ بے شک سارے نہیں کچھ لوگ چند روزہ زندگی کو اس طمطراق اور دھونس سے گزارتے ہیں جیسے چمک دمک اور اختیارو اقتدار انہیں ہمیشہ کے لئے مل چکا ہے۔ کم لوگ سوچتے اور یہ دھیان میں رکھتے ہیں کہ اقتدار و اختیار عارضی اور مختصر وقت کے لئے ہے۔ سکندر اعظم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے بہت سی فتوحات کر لیں،۔ جب موت کی جھلک دکھائی دینے لگی تو اسے احساس ہوا کہ مَیں نے مارا مار فتوحات کرلی ہیں،ساری کامیابیاں اور کامرانیاں میرا ساتھ چھوڑ جائیں گی۔مَیں خالی جیب اور خالی ہاتھ قبر میں جانے والا ہوں۔

اس نے نصیحت کی کہ میرے دونوں خالی ہاتھ کفن سے نکال دینا تاکہ ُدنیا دیکھ لے کہ سکندر جب گیا دُنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے۔صرف سکندر اعظم پر موقوف نہیں، ہم سب نے اپنی ساری کمائی، سارے وسائل اور سارا رعب و بدبہ چھوڑ کر خالی ہاتھ قبر میں جانا ہے۔دُنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کے منکسر المزاج اور خدمت گزار سابق وزیراعظم، جنہیں عوام کی محبتوں کا اس قدر اعزاز نصیب ہوا کہ تین بار بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے اور پاکستان کے وزیراعظم بنے۔انہیں مختلف قسم کے مقدمات کی بھرمار کے ذریعے پہلے نیب کی گرفت میں ر کھا گیا، بعد ازاں جیل میں ڈال دیا گیا۔ شدید بیماری کی وجہ سے ڈاکٹروں نے گھر میں تیار کردہ پرہیزی کھانا کھانے کی ہدایت کی، لیکن سدا اقتدار میں رہنے کے زعم میں مبتلا حکمرانوں نے ڈاکٹروں کی ہدایات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جیل کا کھانا دینے کا حکم صادر فرمایا۔

معلوم نہیں ہر دلعزیز سابق وزیراعظم کو جیل کا کھانا کھلانے میں کیا راز پوشیدہ تھا۔ میاں محمد نواز شریف کی بیماریوں میں شدت پیدا ہو گئی۔ سرکاری اور نجی شعبے کے ڈاکٹروں نے متفقہ فیصلہ دیا کہ چیک اپ کے لئے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک بھیجنا ضروری ہے۔ اپنے قد سے اوپر ایڑیاں اُٹھا اُٹھا کر بعض اینکر پرسن اور وزیر، مشیر پروگراموں اور تجزیوں میں اُچھل اُچھل کر سابق وزیراعظم کو بیرون ملک نہ بھیجنے کی سرکاری خواہش کو جواز بخشنے کے لئے زور لگا رہے ہیں۔کیمو فلاج سوچ کے حامل افراد ایک طرف کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب شدید بیمار ہیں، انہیں باہر جانے کی ضرورت ہے، لیکن دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ضمانت پررہائی کے باوجود اربوں رو پے زر ضمانت طلب کیا گیا، جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر اپنا حکم چلانا چاہتے ہیں۔تمام سرکاری اور پرائیویٹ ڈاکٹر، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابقہ اور موجودہ عہدیدار، نامی گرامی وکلا اور سابق وزیراعظم بار بار کہہ رہے تھے کہ میاں محمد نواز شریف سخت بیمار ہیں، انہیں علاج کے لئے بیرون ملک جانے دینا چاہئے۔حکومت کو بتایا جا رہا تھا کہ قبل ازیں میاں محمد نواز شریف اپنی رفیقہ حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر گرفتاری دینے کے لئے واپس آ گئے تھے۔

آتے ہی باپ بیٹی کو اڈیالہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ اپنی بیوی کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے۔ ایسے سچے حوالوں کو بھی حکمران خاطر میں نہیں لا رہے۔انہیں بتایا جا رہا تھا کہ آپ مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں،مدینہ کی ریاست ایسی نہیں تھی کہ شدید بیمار کو علاج سے محروم رکھا جاتا ہو۔

ایسی حالت میں اندرون و بیرون ملک روزانہ کروڑوں ہاتھ اللہ کے حضور اُٹھتے اور میاں محمد نواز شریف کی صحت کی بھیک مانگتے رہے۔اہل ِ اقتدار اور ان کی قربتوں سے فیض یاب ہونے والے ٹی وی چینل اپنے مطلب کے نتائج اخذ کرنے اور اہل ِ اقتدار کو خوش کرنے کا سامان کرتے رہے۔میرے ایک عزیز حصول روزگار کے لئے جرمنی میں ہیں۔ بیماری کی صورت میں انہیں ہسپتال جانا پڑتا ہے۔غیر مسلم معاشرے کی خوبیوں بارے بتاتے ہیں کہ ہسپتال پہنچنے والے مریض کو سب سے پہلے علاج فراہم کرکے انسان کو بچانے کی فکر کی جاتی ہے۔

پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف کو چیک اَپ اور بیماری کی تشخیص کے لئے بیرون ملک جانے کی اشد ضرورت تھی، اعلیٰ عدلیہ انہیں ہمدردی کی بنیاد پر ضمانت پر رہاکر چکی تھی، لیکن حکمران عدلیہ کے حکم پر اپنا حکم بالا تر قرار دیتے ہوئے رہائی کے لئے اربوں روپے طلب کر ر ہے تھے۔ایڑیاں اٹھا اٹھا کر سرکاری حکم کی توثیق کرنے والے چند وزیروں مشیروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسا اختیار و اقتدار سدا رہنے والا نہیں۔ ہم سب نے قبر میں جانا ہے۔ اس وقت ساری اکڑ فوں ختم اور مطلب براری کے سارے سوتے خشک ہو جائیں گے۔خوشامد پرستوں کا کمال نے نوازی کسی کام نہیں آئے گا۔ اکیلے سابق وزیر اعظم نہیں، جس کو بھی شدید بیماری لاحق ہو اور اس کو علاج کے لئے بیرون ملک جانا ضروری قرار دیا جائے، اس کے بارے میں نرم دلی سے سوچا جائے۔

مزید : رائے /کالم