”دین و دُنیا میں اعتدال اور اُمت ِ وسط“(1)

”دین و دُنیا میں اعتدال اور اُمت ِ وسط“(1)
”دین و دُنیا میں اعتدال اور اُمت ِ وسط“(1)

  



سورۃ البقرہ آیت143 کے ابتدائی حصے کا ترجمہ پیش ہے: اور اسی طرح، کیا ہم نے تم کو اُمت ِ وسط (اُمت معتدل) تاکہ تم ”گواہ“ لوگوں پر اور ہو…… رسولؐ تم پر گواہی دینے والا“…… (البقرۃ143:) اُمت ِ محمدیہ کا خاص اعتدال …… لفظ وسط یفتح السین بھی ”اوسط“ ہے اور خیر الامور اور افضل اشیاء کو ”وسط“ کہا جاتا ہے۔ ترمذی میں روایت ابو سعید خدری ؓ حضور ؐسے لفظ ”وسط“ کی تعبیر ”عدل“ کی گئی ہے،جو بہترین کے معنی میں آیا ہے (تفسیر قرطبی)……اس آیت میں اُمت ِ محمدیہ کی ایک امتیازی فضیلت و خصوصیت کا ذکر ہے کہ وہ ایک معتدل اُمت بتائی گئی۔اعتدال کے معنی اور حقیقت کیا ہے؟وصف اعتدال کی یہ اہمیت کیوں ہے کہ اس پر فضیلت کو رکھا گیا۔اس اُمت ِ محمدیہ کے معتدل ہونے کے واقعات کی رُو سے کیا ثبوت ہیں؟اعتدال کے لفظی معنی ہیں ”برابر ہونا“۔یہ لفظ عدل سے مشتق ہے۔اس کے معنی برابر کرنے کے ہیں،انسان کا بدن چار خلط خون، بلغم، سوداء، صفراء سے مرکب ہے اور انہی چاروں افلاط سے پیدا شدہ چاروں کیفیات مزاج انسانی کے مناسب حدود کے اندر معتدل رہتی ہیں۔

وہ بدنِ انسانی کی قسمت و تندرستی کہلاتی ہے اور جہاں اُن میں سے کوئی کیفیت مزاج انسانی کی حد سے زیادہ ہو جائے یا گھٹ جائے، وہی مرض ہے اور اگر اس کی اصلاح و علاج نہ کیا جائے تو ایک حد میں پہنچ کر وہی موت کا پیغام ہو جاتا ہے۔ اس مخصوص مثال کے بعد، آپ روحانیت اور اخلاقیات کی طرف آیئے! تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان میں بھی اعتدال اور بے اعتدالی کا یہی طریقہ جاری ہے۔ اس کے اعتدال کا نام روحانی صحت اور بے اعتدالی کا نام روحانی اور اخلاقی مرض ہے۔اس مرض کا اگر علاج کر کے اعتدال پر نہ لایا جائے تو اس کا نتیجہ روحانی موت ہے۔جوہر انسانیت،جس کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات اور آقائے کائنات مانا گیا ہے،وہ اس کی گوشت پوست اور حرارت و برودت وغیرہ سے بالا تر کوئی چیز ہے،جو انسان میں کامل اور اکمل طور پر موجود ہے۔دوسری مخلوقات کو اس کا وہ درجہ حاصل نہیں۔ وہ انسان کا روحانی اور اخلاقی کمال ہے، جس نے اس کو مخدومِ کائنات بنایا ہے۔مولانا رومیؒ نے خوب فرمایا ہے:

و آدمیت لحم و شحم و پوست نیست

آدمیت جز رضائے دوست نیست

ترجمہ: ”آدمی ہونا گوشت اور کھال(چربی) کا مجموعہ ہونے کا نام نہیں۔آدمی ہونا تو دوست (یعنی اللہ تعالیٰ) کی رضا حاصل کرنے کے سوا کسی چیز کا نام نہیں“۔ اور اِس وجہ سے وہ انسان جو اپنے جوہر شرافت و فضیلت کی بے قدری کر کے اس کو ضائع کرتے ہیں،اُن کے بارے میں فرمایا:

اینکہ می بینی خلافتِ آدم اند

نیستند آدم غلافِ آدم اند

ترجمہ: وہ آدمی جسے تو دیکھے کہ وہ آدم، یعنی اللہ کے رسولوں کے برخلاف ہے۔وہ آدمی نہیں ہے،بلکہ آدمیت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے“۔سورۃ الحدید25: کا ترجمہ کچھ یوں ہے:”ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور اُن کے ساتھ ”کتاب“ اور ”میزان“ نازل کی، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور لوہا اتارا، جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہے“۔اُمت ِ محمدیہ میں ہر قسم کا اعتدال ہے۔ اس لئے اُمت ِ محمدیہ کو اُمت ِ وسط، یعنی ”معتدل اُمت“ فرمایا: اور یہ ”اُمت“ ساری اُمتوں“ سے ممتاز اور افضل ہے۔ بھلا کیوں؟ سورۃ الاعراف 181:۔ ترجمہ: یعنی ان لوگوں میں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے۔ ایک ایسی ”اُمت“ ہے جو سچی راہ بتلاتے ہیں اور اس کے موافق انصاف کرتے ہیں۔ اس میں اُمت ِ محمدیہ کے اعتدالِ روحانی و اخلاقی کو واضح فرمایا۔ سورہئ آلِ عمران 110:۔ ترجمہ: یعنی تم سب اُمتوں میں بہتر ہو جو عالم میں بھیجی گئی ہوں، حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو بُرے کاموں سے اور اللہ پر ایمان لاتے ہو“۔

ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا:”الدین النصیحۃ“ ریاض الصباط کا یہی مطلب ہے کہ دین اس کا نام ہے کہ سب مسلمانوں کی خیر خواہی کرے اور بُرے کاموں میں کفر، شرک، بدعات،رسوم قبیحہ، فسق و فجور اور ہر قسم کی بداخلاقی اور نامعقول باتیں شامل ہیں۔ اُن سے روکنا بھی کئی طرح ہو گا، کبھی زبان سے، کبھی ہاتھ سے، کبھی قلم سے، کبھی تلوار سے، غرض ہر قسم کا جہاد اس میں شامل ہو گیا۔یہ صفت جس قدر عزم واہتمام سے، اُمت ِ محمدیہ میں پائی گئی، پہلی اُمتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔اِس امت کے ”توسط و اعتدال“ کی چند مثالیں پیش ہیں: سب سے پہلے اعتقادی اور نظری اعتراز کو لیجئے۔ تو پچھلی اُمتوں میں ایک طرف تو یہ نظر آئے گا کہ اللہ کے رسولوں کو اس کا بیٹا بنا لیا اور ان کی عبادت اور پرستش کرنے لگے۔ سورۃ التوبہ30:۔ ترجمہ:”یعنی یہود نے عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اور نصاریٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا“۔ اور یہاں تک کہ سورۃ المائدہ 24: ……ترجمہ: یعنی جایئے آپ اور آپ کا پروردگار، وہی مخالفین سے قتال کریں۔ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں“۔ اس کے برعکس ”اُمت ِ محمدیہ“ ہر ”قرن“ ہر زمانے میں، ایک طرف تو آپؐ سے عشق و محبت رکھتے ہیں اور آپؐ کے آگے اپنی جان و مال اور اولاد و آبرو، سب کو قربان کر دیتے ہیں۔ بقول شاعر:

سلام اُسؐ پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں

بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں

اور دوسری طرف یہ ”اعتدال“ کہ رسولؐ کو رسولؐ اور خدا کو خدا سمجھتے ہیں۔آپؐ کو بایں ہمہ کمالات و فضائل عبدۂ و رسولہ ماننا سعید اعتقاد کے بعد ”عمل“ اور ”عبادت“ کا نمبر ہے۔پچھلی اُمتوں میں اپنی شریعت کے احکام کو چند ٹکوں کے بدلے فروخت کیا جاتا تھا۔رشوتیں لے کر آسمانی کتاب میں ترمیم کی جاتی تھی یا غلط فتوے دیئے جاتے ہیں، اور طرح طرح کے حیلے بہانے کر کے، شرعی احکام کو بدلا جاتا تھا۔عبادت سے پیچھا چھڑایا جاتا تھا یا ترکِ دُنیا کر کے، ”رہبانیت“ اختیار کر لی اور وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے بھی،اپنے آپ کو محروم رکھنے اور سختیاں جھیلنے کو عبادت و ثواب سمجھتے تھے۔”اُمت ِ محمدیہ“ نے اس کے برعکس ایک طرف تو ”رہبانیت“ کو ”انسانیت“ پر ظلم قرار دیا اور دوسری طرف،احکام خدا اور رسولؐ پر مر مٹنے کا جذبہ پیدا کیا، اور قیصر و کسریٰ کے تخت و تاج کے مالک بن کر دُنیا کو دکھلایا کہ ”دیانت و سیاست“ میں یا ”دین و دُنیا“ میں بَیر نہیں، مذہب صرف مسجدوں یا خانقاہوں کے گوشوں کے لئے نہیں آیا، بلکہ اس کی حکمرانی بازاروں اور دفتروں میں بھی ہے اور وزارتوں اور امارتوں پر بھی۔

اس نے بادشاہی میں فقیری اور فقیری میں بادشاہی سکھلائی۔ معاشرتی اور تمدنی اعتدال کے بارے میں یہ ہے کہ اُمت ِ محمدیہ اور اُس کی شریعت نے پہلی اُمتوں کی سب بے اعتدالیوں کا خاتمہ کیا۔ایک طرف انسان کو انسان کے حقوق بتلائے اور نہ صرف صلح دوستی کے وقت،بلکہ عین میدانِ جنگ میں مخالفین کے حقوق کی حفاظت فرمائی، جس سے آگے بڑھنے اور پیچھے رہنے کو جرم قرار دیا اور اپنے حقوق کے معاملہ میں درگزر، عفو و چشم پوشی کا سبق سکھلایا۔دوسروں کے حقوق کا پورا اہتمام کرنے کے آداب سکھلائے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم