ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

  



کسی ریستوراں میں داخل ہو کر ایک آدمی نے پہلے تو کولڈ ڈرنک کا آرڈر دیا، پھر بغیر پئے ڈرنک واپس کر دی اور کہنے لگا کہ اِس کی جگہ چائے لے آؤ۔ مزے سے چائے کا کپ پی کر جب وہ رخصت ہو رہا تھا تو ویٹر نے اسے روک کر بل کی رقم مانگ لی۔ گاہک نے کہا ’اگر کولڈ ڈرنک کے پیسے چاہئیں تو اس کی بوتل تو میں تمہیں کب کی واپس کر چکا ہوں، اور اگر چائے کی قیمت کا مطالبہ ہے تو وہ مَیں نے بوتل کے بدلے منگوائی تھی‘۔ یہ قصہ سننے کے بعد ممکن ہے کہ آپ کی ہمدردیاں گاہک کی بجائے ریستوراں والے کے ساتھ ہو گئی ہوں۔ پھر بھی یہ تو ماننا پڑے گا کہ عملی زندگی میں لوگ آپ کے ساتھ کئی ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں جنہیں پولیس کی دست اندازی کے دائرے میں لانا چاہیں تو وہ بارڈر لائن کیس بن جائیں گی اور آپ سوچتے رہ جائیں گے کہ:

شرع و آئین پر مدار سہی

ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

وِیک اینڈ پہ ہنگامی شاپنگ میں دکاندار نے سلام کا جواب نہ دیا۔ رنگ روڈ پہ چڑھتے ہوئے ٹول پلازہ کے اہلکار نے رسید یوں تھما ئی جیسے چپت لگانے کی کوشش میں ہو۔ دفتر کے کوئی جونئیر ساتھی جو آپ کو ’شاہد بھائی‘ کہتے نہیں تھکتے تھے، اپنے عہدے میں معمولی ترقی کے بعد فوراً ’تم‘ کے صیغہ میں بات کرنے لگے۔ یہ تو اُس رویہ کی موٹی موٹی مثالیں ہیں جسے معمولی بحث مباحثہ کے بعد بیشتر لوگ بدتمیزی کی ذیل میں شامل کر لیں گے۔ تو کیا اِن سے کوئی ایسا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے جس کا مدار شرع و آئین پر نہ ہو۔ غالب کے اِس شعر کا پورا لطف ایک مرتبہ اپنے ’ہول ٹائمر‘ چائے نوش استاد اور پنجابی کے صاحبِ طرز شاعر زمرد ملک کی زبان سے سُن کر آیا تھا۔ کہنے لگے ’یار، صبح بچے کو کانوینٹ اسکول کے گیٹ پر اتارتے ہوئے اُسی کار والی بیگم کا ہارن یوں سنائی دیا جیسے وہ کل کی طرح آج پھر پھر میرے اسکوٹر کا مذاق اڑا رہی ہو‘۔

منفرد دانشور پروفیسر امین مغل اور دیال سنگھ کالج والے ’بھا‘ ظفر علی خاں تصور کر سکتے ہیں کہ جناح اسلامیہ، سیالکوٹ میں انگریزی ادب کی کلاس لینے کے بعد جب ٹک شاپ میں ’کیونڈر‘ کا سگریٹ سلگا کر اُن کے دوست نے یہ کہانی کہی تو اُس کے دھیمے شائستہ لہجہ کی پر مزاح ’گٹک‘ کیا مزا دے رہی ہو گی۔ گفتگو کا دلچسپ پہلو بیان کردہ حقائق سے ایک خاص طرح کی لا تعلقی بھی ہے، جیسے یہ واردات درحقیقت کسی اور کا مسئلہ ہو۔ یوں بھی زمرد صاحب کئی بار کہا کرتے تھے کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے، پندرہ بیس دن بعد تو وہ ایک طرح کا لطیفہ ہی بن جاتا ہے، سو بہتر ہے کہ آدمی اسے پہلے ہی لطیفہ سمجھ لے۔ میرے خیال میں استادِ محترم کی یہ سوچ ’شرع و آئین‘ کے مدار سے باہر کی ایک ایسی حکمت عملی تھی جسے مَیں پوری طرح نہ اپنا سکا۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی چار سال کی عمر کے اُس واقعہ کو یاد کر کے گلا بند ہو جانے کا احساس ہونے لگتا ہے جب دادا کے بڑے بھائی، جنہیں مجذوبانہ کیفیت کی وجہ سے ہم لالہ ساءِیں کے طور پہ جانتے تھے، مجھے ایک روز کلاس روم کی کھڑکی سے اشارہ کر کے چھٹی سے پہلے ہی گھر بھگا لے گئے۔ آبائی شہر میں امام علی الحق کے چوک میں واقع اس اسکول کا نام تھا سٹی میموریل، مگر عام لوگوں نے اسے ہمیشہ یحیی شاہ کا اسکول ہی کہا۔ فرار کی کارروائی کو تیزتر کرنے کے لیے لالہ جی نے مجھے اپنے کندھے پہ سوار کر لیا تھا۔ لیکن ایک ایسے زاویہ پر جیسے پاکستانی عورتیں اپنے باپ، بھائی یا شوہر کے پیچھے موٹر سائیکل پہ بیٹھا کرتی ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر لالہ سائیں شمال سے جنوب کی طرف جارہے تھے تو گھر پہنچنے تک میرا رخ مسلسل مشرقی سمت میں رہا۔

کندھے پہ بیٹھے بیٹھے شاید شرع و آئین کا معاملہ بھی خود بخود طے پا جاتا، لیکن ڈیوڑھی میں داخل ہونے سے پہلے لالہ جی نے مجھے یہ ہدایت کر دی کہ گھر والوں کے سامنے کہہ دینا کہ اسکول میں چھٹی ہو گئی ہے۔ جھوٹ پر مبنی اِس ارشاد پہ عمل کرنا میری جبلت کے خلاف تھا اور یہ بات بھی آسان نہیں تھی کہ لالہ کی حکم عدولی کروں۔ بس اپنی حالت کا کیا بتاؤں، سوائے اس کے کہ حلق میں پتھر سے اٹک گئے تھے۔ رک رک کر اتنا کہہ سکا کہ اسکول لگا ہوا ہے مگر لالہ سائیں مجھے ساتھ لے آئے ہیں۔ نئی صورت حال لالہ جی نے اسکول بند ہو جانے کے بیان کو اپنی بجائے، مجھ سے منسوب کر دیا۔ اب ایک عمر رسیدہ بزرگ سے کوئی کیا پوچھ گچھ کرتا، لیکن میری طرح کبھی آپ نے بھی ماں کے علاوہ بیک وقت چار سیالکوٹی پھو پھیوں کا سامنا کیا ہو تو بقیہ داستان سنانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

اگلا واقعہ پانچویں جماعت میں پیش آیا اور وہ بھی گھر سے چند گز دور جہاں میرے ہم عمر دوست سہیل بٹ کی نظر سرکاری کوارٹروں کے اُس پار گزرتی ہوئی ایک استانی پہ جا پڑی، جو ایک سال پہلے میری ٹیچر انچارج رہ چکی تھیں۔ اُن دنوں اسکول میں نئی نئی ڈبل شفٹ شروع ہوئی تھی۔ سہیل کو پتا نہیں کیا ہوا، گانا گانے کے سے بچگانہ انداز میں چلانے لگا ’دوسری شفٹ کی ہیڈ مس، مس غلام فاطمہ‘۔ میں تو چکر ا ہی گیا، بھاگ کر اُس کے پاس پہنچا اور زور سے اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھنے کی کوشش کی، مگر سہیل کو تو جیسے جن چڑھے ہوئے تھے، ’استھائی‘ کے بعد دوڑتے دوڑتے پھر ’انترا‘ اور ایک بار نہیں تین دفعہ۔ اگلی صبح پہلے پیریڈ کے بعد ایک رعب دار کڑک گونجی اور میں صرف اتنا کہہ سکا کہ ’وہ جی، دوسرا لڑکا‘۔ ’مگر تم بھی تو ساتھ ساتھ تھے‘۔ ’جی وہ۔۔۔‘ حلق کے پتھروں کا بوجھ بہت بڑھ گیا تھا۔

ایک تجربہ ولایت میں کئی سال پہلے یوں ہوا کہ ایمان افروز تصنیف ’موت کا منظر‘ کی طرز پر والد محترم نے ایک مفصل ’ہدایت نامہء طالب علم‘ لکھ بھیجا۔ مگر ان ہدایات میں سالِ نو کے جشن کے بارے میں شاید دانستہ چشم پوشی برت گئے۔ چنانچہ زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد کے ٖایک باریش فوڈ ٹیکنالوجسٹ ڈاکٹر ریاض نے، جو ’پوسٹ ڈوک‘ کر رہے تھے، دو ہم وطن نوجوانوں کو ایک ایسی ڈسکو میں چلنے کی کامیاب ترغیب دے دی جہاں ’ٹاپ لیس‘ اور ’باٹم لیس‘ شرکاء کو بچوں کی طرح آدھے ٹکٹ کی رعایت حاصل تھی۔ پیسے بچانے کے لئے ہم نے استقبالیہ کاؤنٹر پر اپنی اپنی قمیضیں جمع کرا دیں۔ مجھے افتخار کا تو پتا نہیں، جو اب اِس دنیا میں نہیں رہا۔ لیکن میری ہم رقص نے تو باقاعدہ میرے کان کھینچ کر کہا تھا کہ دفع ہو جاؤ، تمہیں تو ڈانس کرنا آتا ہی نہیں۔ اس جائے وقوعہ پر میرا مدار شرع و آئین پر نہیں تھا، پھر بھی ایک نا قابلِ بیان حق تلفی ضرور محسوس ہوئی۔

ابھی آٹھ نو سال پہلے کی بات ہے کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے مین بلاک کے باہر مجھے پائپ پیتا دیکھ کر ایک انڈر گریجویٹ نے میرے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی، جسے میں نے مسکراتے ہوئے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ’بیٹا جی، میں کاپی رائٹ میٹیریل ہوں‘۔ یہ خلاف ِ توقع مگر اصولی موقف سن کر سڑک پر کھڑے کوئی درجن بھر اسٹوڈنٹس خوب ہنسے اور میری ’ٹوہر‘ بن گئی۔ مگر دو ہی ہفتے بعد اسی ’کاپی رائٹ میٹیریل‘ والے آدمی نے فیس بک پر یہ عجیب منظر دیکھا کہ وہ گہرے سرخ رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس مری کی مال پہ ٹہل رہا ہے جبکہ ایک اور جگہ کسی نجی محفل میں کالی واسکٹ پہن کر بظاہر کلاسیکی موسیقی سنی جا رہی ہے۔ تیسری تصویر اور حیران کن لگی جس میں ’کاپی رائٹ‘ والے کی اہلیہ ایک خوبرو نوجوان کو ’جپھا‘ مارے ہوئے تھیں، جو چشمہ لگا کر دیکھا تو اپنا ہی بیٹا اسد نکلا۔

یوں میری ذاتی زندگی کی جو بے حرمتی ہوئی اور میرے ملکیتی حقوق (قانونی زبان میں معہ حق ترجمہ وغیر) پہ جو ڈاکہ ڈالا گیا، اس کا سوؤ موٹو نوٹس تو کسی عدالت نے نہ لیا۔ ہاں یہ طے تھا کہ میرے ’بارڈر لائن‘ انسانی حقوق کی ان پامالیوں کے پیچھے کسی نہ کسی گھریلو جاسوس کی کارستانی کو دخل ہو گا۔ پچھلے ہفتے میرے ایک دوست کے ساتھ ہو بہو یہی حرکت تو نہیں ہوئی، لیکن امکانی احتیاط کے باوجود، لوگوں کو بعض ایسے فن پارے دیکھنے کو مل گئے جو بھلے تو تھے مگر پہلی ہی نظر میں احساس ہوا کہ ’یہ گھر کی بات ہے، گھر میں رہے تو اچھا ہے‘۔ دوست نے خفت مٹانے کے لیے (اپنی خفت، میری نہیں) جب مجھے ’ان فرینڈ‘ کیا تو دھچکا سا لگا۔ یہ البتہ واضح ہو گیا کہ (حقیقی یا خیالی) عزتِ نفس کی حفاظت کے لیے ہم انسانی طور پہ جو کچھ نہ کر سکیں، وہ فنی سطح پہ کر لینا بہر حال ممکن ہے۔ تو پھر آپ ہی بتائیے کہ ’ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی‘۔

مزید : رائے /کالم