کاشتکارابر آلود موسم اور دھند میں زہرپاشی کا عمل موخر کر یں

کاشتکارابر آلود موسم اور دھند میں زہرپاشی کا عمل موخر کر یں

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) کاشتکاروں کو گندم کی چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں باتھو، پوہلی، پیازی، جنگلی پالک، جنگلی مٹر، ھالوں، ریواڑی، سینجی، کرنڈ، شاہترہ، کاشنی، مینا، لیہلی، بلی بوٹی، پیازی، لیہہ اونٹ چرا اور درانک،باریک یا نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں دمبی سٹی، جنگلی جئی، جنگلی سوانک اور گھاس کی فوری تلفی کی ہدایت کی گئی ہے اور کہاگیاہے کہ گندم کی فصل سے چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے بجائی کے 30سے 35دن بعد جبکہ باریک یا نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے بجائی کے 45سے 50دن بعد زمین کی تروتر حالت میں سفارش کردہ زہروں کا سپرے کیاجائے تاکہ گندم کو ان کے سنگین نقصان سے بچایا جاسکے۔ محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہاکہ جڑی بوٹیوں کے 3سے 5پتوں کے مرحلہ پر زہر سے انسداد آسان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ حالیہ تحقیق میں پتہ چلاہے کہ 80فیصد کھیتوں میں جڑی بوٹیاں نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا اس صورت میں کیمیائی زہریں سپرے کرکے تلف کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ سپرے کرتے وقت چند ایک احتیاطوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے جس کے مطابق سپرے دھوپ میں اس وقت کی جائے جب اوس جزوی طور پر ختم ہوجائے جبکہ ابر آلود موسم اور دھند میں زہرپاشی کا عمل موخر کر دیا جائے۔

اور چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کیلئے الگ الگ مخصوص زہروں کا سپرے کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ کوشش کی جائے کہ کہیں اوور لیپنگ نہ ہو یعنی کوئی جگہ خالی نہ رہے اور نہ ہی کہیں دوہرا سپرے ہو۔ علاوہ ازیں سپرے کیلئے مخصوص ٹی جیٹ نوزل یا فلیٹ فین پیتل کی نوزل استعمال کی جائے اور سپرے کیلئے پانی 120 لیٹر فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔اسی طرح خشک وتر میں 150لیٹر فی ایکڑ تک استعمال کیا جائے اور سپرے کے کم از کم دس پندرہ دن تک کھیت کو پانی نہ لگایا جائے نہ ہی اس میں گوڈی کی جائے۔

مزید : کامرس /رائے