بکل دے وچ چور

بکل دے وچ چور
 بکل دے وچ چور

  



کبھی کبھی بات کا کہہ جانا بہت اوکھا ہوتا ہے لیکن مسئلہ سمجھ آجائے تو معاملہ سوکھا ہوتا ہے۔ وزیراعظم اگر منجھی تھلے ڈانگ پھیر لیتے یا بکل میں چھپے چوروں کے کان پکڑ لیتے تو انہیں سابق نیلسن منڈیلا جونئر کی رپورٹیں دیکھ کر حیرانی ہوتی اور انہیں ہشاش بشاش جہاز میں، میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال گاندے دیکھ کر پریشانی ہوتی، میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ حیرانی اور پھر پریشانی صرف سنتا سنگھ پر سوٹ کرتی ہے۔ گو میرا کئی مرتبہ وزیراعظم کی معصومیت دیکھ کر ان پر نثار ہوجانے کو دل کرتا ہے لیکن پھر سوچتا ہوں یہ خیال ان کے بدلے وقتوں کے لئے بچا رکھوں۔ ابھی تو ان کے گرد ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ کے کئی سو قربان اور نثار ہونے کو پھرتے ہیں۔

سنتا سنگھ خاموش بیٹھا تھا کسی نے پوچھا تو بولا یار سوچتا ہوں کہ شریف ہو جاؤں پھر سوچتا ہوں ہو بھی گیا تو کیا فائدہ، کسی نے یقین تے کرنا نئی۔ اس لئے اس سنہری موقع پر جب عمران خان وزیراعظم ہیں اور ان کے چاروں طرف واہ واہ کی صدائیں ہیں ہمارے نثار ہونے پر کسی نے یقین نہیں کرنا۔ میری گذارش اتنی ہے کہ جب وزیراعظم کو اس بات کا احساس ہو ہی گیا کہ نواز شریف کی بیماری کی رپورٹس کے حوالے انہیں ”چونا“ لگا دیا گیا ہے۔ تو عوامی سطح پر اس فراڈ کے اعتراف کے بجائے اس بات کی تحقیقات کرائیں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹروں سے لیکر ان کی اپنی وزیر صحت یاسمین راشد تک سب کو کس طرح اور کتنے میں "Manage"کیا گیا۔ بنتا سنگھ کا سرپھٹ گیا۔ ڈاکٹر نے کہا ٹانکے لگیں گے جن پر دوہزار خرچ آئے گا۔ بنتا سنگھ بولا ڈاکٹر ٹانکے لگانے ہیں یا زخموں پر کڑاہی کرنی ہے جو اتنے پیسے۔

بہرحال یہ زخم تین وقت کے وزیراعظم اور اس خطے کے امیر ترین سیاستدان کے زخم تھے ان پر اور ان کی پروموشن پر جتنے پیسے بھی لگ جاتے کم ہے۔ بے شک عمران خان بائیس سال کی جدوجہد کے بعد ایک پالش سیاستدان بن گئے ہیں لیکن وہ ایک معصوم آدمی ہیں۔ جنے لایا گلی اوہدے نال ٹرچلی، وہ اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر بار دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ہاں یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ ان کے گرد ساتھیوں کے نقاب میں دیہاڑی باز جمع ہیں اور انہوں نے چن چن کر انہیں مخلص اور نظریاتی دوستوں سے دور کردیا ہے۔

کرکٹ برصغیر کے نوجوانوں کا پہلا رومانس ہوتا ہے کہتے ہیں بندے کوپہلی مار بھول جاتی ہے پہلا پیار نہیں بھولتا۔ آپ آج کی سیاست دیکھ لیں اس میں اصطلاحات بھی کرکٹ کی استعمال ہوتی ہیں، عمران خان نے تو خیر کھیلی ہی کرکٹ ہے اس لئے انہیں کرکٹ ”مائی بیسٹ فرینڈ“ کا مضمون لگتا ہے۔ وہ کوئی بھی مضمون ہو وہ مائی بیسٹ فرینڈ کو ضرور لے آتے ہیں۔ ہماری پیاری آپا (جو فردوس بھی ہیں عاشق بھی اور اعوان بھی) کہتی ہیں عمران سیریز جیت چکے۔

دوسری جانب ملکہ جذبات مریم اورنگزیب جنہیں دیکھ کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ کوئی رونے دھونے والی دیوداس ٹائپ فلم شروع ہوے لگی ہے اور فلم بھی بلیک اینڈ وہائٹ۔ وہ بھی یہی کہتی ہیں کہ یہ کیسا میچ ہے جس میں دوسری ٹیم کو کھیلنے ہی نہیں دیا جارہا۔ گویا سیاست نہ ہوئی کھیل ہوگیا۔ خدمت نہ ہوئی چھولیاں داوڈ ہوگیا۔ بھائی یہ سیاست ہے سیاست بیس کروڑ عوام اس میں سے اپنے لئے بہتری مانگتے ہیں اور آپ اسے بچوں کا کھیل سمجھ رہے ہیں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں خودکشیاں کر رہے ہیں۔

بیماروں کو دوائیاں نہیں مل رہی، جوانوں سے روزگار روٹھ گیا ہے اور آپ کے کھیڈ تماشے نہیں مکتے، سنتا سنگھ بیوی سے بولا ایک گلاس پانی دو۔ وہ اٹھلا کے بولی کیا پیاس لگی ہے۔ سنتا سنگھ سڑ کے بولا نہیں میں گلے دا پنکچر چیک کرنا ہے۔ عوام روٹی مانگ رہے ہیں اور ان کی اٹھلاہٹ ختم نہیں ہو رہی۔

ٹارزن کی واپسی تو سب نے دیکھی ہے اسد عمر کی واپسی بھی دیکھ لیں، گو وہ چیتے کا لباس پہن کرشاخوں پر لہراتے آں آں آں کرتے نہیں آئے لیکن آئے وہ دھماکہ خیز انداز میں ہیں، سی پیک پاکستان اور چین کا داخلی معاملے ہے لیکن امریکہ بدو بدی ہمارا ماما بن رہا ہے۔ اگر سی پیک سے پاکستانی معیشت کو خطرہ ہے تو ہماری معیشت پہلے کونسی محفوظ ہاتھوں میں، میں تو چھم چھم ناچوں گاتی پھر رہی ہے۔ اسے کہتے ہیں تو کون میں خوامخواہ، میرا خیال ہے امریکہ پاکستان کی معاشی تباہی کا کریڈٹ خود اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔

یہ اعزاز چین کو ملے اسے قبول نہیں۔ اسد عمر نے آج واضح طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ سی پیک پاکستان کا ذاتی معاملہ ہے۔ قاتل ریمنڈ ڈیوس کی حوالگی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بے شرمانہ امریکہ منتقلی کا مطلب یہ نہیں کہ اب ہم امریکہ کو سی پیک میں بھی مداخلت کرنے دیں، الحمد لللہ اس کے لئے ہماری اپنی سیاسی بیٹرے ہی کافی ہیں۔ یہ ٹڈی دل جب چاہیں گے دھرنوں، لاک ڈاؤن، شاہراہوں کی بندش کے ذریعہ سی پیک کی فصل کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ماضی میں یہی ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی یہی ہوتا رہے گا۔

خاتون بکری لیکر گھر آئیں، شوہر سنتا سنگھ بولا اس بھینس کو گھر کیوں لے آئیں، بیگم بولیں یہ بھینس نہیں بکری ہے۔ سنتا سنگھ بولا تم چپ رہو میں بکری سے پوچھ رہا ہوں۔ ہمیں تو ذرائع بتاتے ہیں کہ چودھری برادران اور فضل الرحمان کی ملاقات میں نگران وزیر اعظم کے نام تک ڈسکس ہوئے۔ جس پر عمران خان بہت سیخ پا ہیں۔ انہوں نے نجی پیغامات میں بھینس کو بہت صلواتیں سنائی ہیں، لیکن فضل الرحمٰن اور چوہدری برادران مطمئن ہیں کیونکہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ عمران خان بکری کو گولیاں دے رہے ہیں یا بھینس کو، لیکن ہم آپ کو یہ بات کہتے ہیں کہ جیسے جمعتہ المبارک میاں برادران کے لئے بھاری رہتا تھا دسمبر خان صاحب کے لئے بہت بھاری ہے، اس میں مائنس ون فارمولے کی کامیابی پر پورا زور لگے گا، عدالتی فیصلے کی لٹکتی تلوار کبھی بھی گر سکتی ہے۔

اس لئے مشتری ہشیار باش،یہ پاکستانی سیاست جہاں بھل چک لین دین ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ شاید پاکستان کی قسمت کے سکرپٹ میں یہ بھی تحریر ہے کہ کسی حکومت کو توجہ سے عوامی مسائل پر کام نہیں کرنے دینا، اسے ہمیشہ ”پھباں پھار“ رکھنا ہے۔ قیادت کے نام پر دیہاڑی باز موقع پرست تو موجود ہیں ہی ہمارے ادارے بھی ان ناپاک خواہشات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم