مقبوضہ کشمیر،فوجی محاصرہ برقرار،بارش اور برفباری سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ

مقبوضہ کشمیر،فوجی محاصرہ برقرار،بارش اور برفباری سے لوگوں کی مشکلات میں ...

  



سرینگر (این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھار تی فوجی محاصرہ ہفتہ کو مسلسل 111ویں رو ز بھی جاری ہے جس کے باعث وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہیں۔ تازہ بارش اور برف باری نے بھارتی پابندیوں اور محاصرے کے باعث پہلے سے مشکلات کا شکار کشمیریوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلسل محاصرے کے باعث لوگ سردیوں کے سخت موسم کیلئے اشیائے ضروریہ ذخیرہ نہیں کر سکے۔ مقبوضہ وادی کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد سرینگر جموں شاہراہ برف باری کیوجہ سے موسم سرما میں اکثر وقت بند رہی ہے۔ قابض انتظامیہ نے دفعہ 144کے تحت پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں اور چپے چپے پر بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ مقبوضہ علاقے خاص طور پر وادی کشمیر کے لوگ پری پیڈ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے باعث بدستور مشکلات سے دوچار ہیں۔کشمیری عوام غیر قانونی بھارتی قبضے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مذموم بھارتی اقدام کے خلاف اپنے غم وغصے کے اظہار کیلئے سول نافرمانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔سڑکوں پرپبلک ٹرانسپورٹ کم نظر آتی ہے جبکہ سکول اور دفاتر بھی ویران ہیں۔ دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما یشونت سہنا نے سرینگر میں ایک انٹرویو میں کشمیرکے حالات واپس معمول پر آنے کے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کو رد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے کشمیرکی جو تصویر ملک کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے وہ سرینگر میں نظر نہیں آرہی رہی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سب کچھ نارمل نہیں ہے۔یشونت سہنا کی قیادت میں بھارتی سول سوسائٹی اراکین کا ایک وفد جمعہ کو سرینگر پہنچا جہاں وہ 25نومبر تک قیام کرے گا۔ وفد میں یشونت سہنا کے علاوہ سابق بیورو کریٹ وجاہت حبیب اللہ، صحافی بھارت بھوشن اور سول سوسائٹی رکن کپل کاک شامل ہیں۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول