دہشتگردی حساس ایشو،مجرموں کو سزا کا دارومدار بہتر انویسٹی گیشن پر ہوگا:چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

دہشتگردی حساس ایشو،مجرموں کو سزا کا دارومدار بہتر انویسٹی گیشن پر ہوگا:چیف ...

  



لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سردارمحمد شمیم خان نے کہاہے کہ دہشت گردی ایک حساس ایشو ہے، ماضی میں پاکستان دہشت گردی سے بری طرح متاثر رہا ہے،دہشت گردی مقدمات میں سزاؤں کا تناسب بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن مجرموں کو سزاؤں کا دارومدار بہترین انویسٹی گیشن پر ہوتا ہے، اس لئے ہمارے تفتیشی اداروں کو بھی اس حوالے سے تربیت کی ضرورت ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں چائلڈ جسٹس اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کے حوالے سے تین روزہ دو مختلف ورکشاپس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا،چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر ہم دہشت گردی کی بات کریں تو ہم سب جانتے ہیں کہ دہشت گردی ایک حساس ایشو ہے، ماضی میں پاکستان دہشت گردی سے بری طرح متاثر رہا ہے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ہے کہ اب اس میں کافی حد تک کمی آئی ہے،پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ہمارے ججز کو بہترین انداز میں ریسرچ بیسڈ تربیت فراہم کر رہی ہے، اس کے لئے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے تمام انسٹرکٹرز اور سٹاف مبارکباد کا مستحق ہے، دہشت گردی کے مقدمات میں دوسری سب سے اہم بات سپیڈی ٹرائل کی ہے، اگر ماڈل کورٹس میں فوجداری مقدمات کا ٹرائل سات دن میں ہو سکتا ہے تو دہشت گردی عدالتوں میں ایسا ممکن کیوں نہیں ہے، جج کا منصب بہت اہم ہے، ایک عادل کی زندگی دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ زندگی ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کے معاملات بھی ہماری سوسائٹی کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور یہ امر ہم سب کے لئے باعث اطمینان ہے کہ ہماری جوڈیشل اکیڈمی اس اہم معاملے کی جانب توجہ مبذول کئے ہوئے ہے اور ہمارے ججوں کو چائلڈ جسٹس کے حوالے سے بہترین تربیت فراہم کررہی ہے،ورکشاپس کے اختتامی سیشن میں رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالستار، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر اور ڈائریکٹر جزیلہ اسلم سمیت اکیڈمی کے دیگر انسٹرکٹرز اور افسران نے شرکت کی،قبل ازیں چیف جسٹس نے تربیتی ورکشاپس مکمل کرنے والے جوڈیشل افسران میں اسناد بھی تقسیم کیں،اس موقع پر ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر اور تربیتی ورکشاپس مکمل کرنے والے جوڈیشل افسران کے نمائندوں نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر