اعلیٰ حکام کی بار بار پیشی درست نہیں:چیف جسٹس

  اعلیٰ حکام کی بار بار پیشی درست نہیں:چیف جسٹس

  



لاہور (نامہ نگار،کرائم رپورٹر)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اعلی حکام کی عدالتوں میں بار بار پیشی میرے نزدیک درست نہیں، عدالتیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں، سپریم کورٹ انصاف کی اعلی ترین آخری عدالت ہے، حکام کام کر رہے ہوں تو عدالتوں کو مداخلت کی ضرورت نہیں ہوتی،ہر ادارہ متحرک ہو تو عدالت کو نوٹس لینے کی ضرورت نہیں پڑتی، کسی میں گواہی دینے کی ہمت نہیں تو انصاف نہ مانگیں، تہیہ کرلیں کہ ہم نے جھوٹی گواہی کونہیں ماننا،  ریٹائرڈ پولیس افسران نے بھی پولیس اصلاحات کمیٹی میں کردار ادا کیا،، میری اولین ترجیح عدالتوں میں پیش ہونے والوں کا وقار برقرار رکھنا ہے۔ہفتہ کو لاہور میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ پولیس افسران نے بھی پولیس اصلاحات کمیٹی میں اہم کردار ادا کیاہے جبکہ بطوروکیل اور جج پولیس کے ساتھ ہمیشہ بہتر تعلق رہا ہے اور نیشنل پولیس اکیڈمی میں خطاب سے براہ راست پولیس سے تعلق ہوا، میرا پولیس سے متعلق 1976سے شروع ہوا جب میں طالب علم تھا اور اس وقت کے پولیس افسران اب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جبکہ کرمنل کیسز کے دوران میرا پولیس سے رابطہ رہا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پولیس اصلاحاتی کمیٹی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے قائم کی اور انصاف فراہمی کیلئے ماڈل کورٹس شروع کیں، میری اولین ترجیح عدالت میں پیش ہونے والوں کا وقار برقرار رکھنا ہے، ہمیں یقینی بنانا ہے کہ عدالتیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ اعلیٰ حکام کی بار بار عدالتوں میں پیشی میرے نزدیک درست نہیں، پولیس یا کسی بھی شخصیت کی عدالت میں پیشی پر اس کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بطور چیف جسٹس آف پاکستان پولیس، آئی ٹی اور عدلیہ میں اصلاحات کیں،سپریم کورٹ انصاف کی اعلیٰ ترین آخری عدالت ہے اور اگر سپریم کورٹ پہلے دن مداخلت کرے تو معاملہ الجھ جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکام اگر اپنا کام ٹھیک کریں تو مداخلت کی ضرورت نہیں رہتی ہے جبکہ اصلاحات کی بدولت ہائیکورٹس میں اپیلوں کے دائر ہونے میں پندرہ فیصد کمی ہوئی ہے اور ماضی کی غلطیوں سے بچنے کیلئے ضلعی تعین کمیٹیوں کا کردار اہم رہا ہے، صرف بہتر انتظامی اقدامات سے اسی عدلیہ نے زبردست نتائج دیئے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی تیز تر فراہمی میں پولیس کی تفتیش کا بنیادی کردار ہے، ایک لاکھ 20ہزار شکایات میں سے ایس پی کی سطح پر 80فیصد مسئلے حل ہوئے ہیں، ہائیکورٹس میں 15فیصد اور ضلعی عدالتوں میں 30فیصد مقدمات میں کمی ہوئی ہے، ماڈل کورٹس نے 24ہزار سے زائد منشیات سے متعلق کیس نمٹائے، 27ہزار469مقدمات مجسٹریٹ کی عدالتوں نے نمٹائے ہیں، 189دنوں میں 18اضلاع میں قتل کے مقدمات مکمل طور پر نمٹا دیئے گئے، 25اضلاع میں اس وقت منشیات سے متعلق کوئی بھی کیس زیر التواء نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس، وکلاء، ججز کی انتھک محنت سے زبردست نتائج حاصل ہوئے ہیں، عدالتوں نے ایک ارب روپے سے زائد کی رقوم متاثرین کو واپس دلوائیں، ماڈل کورٹس نے اب تک 27ہزار سے زائد مقدمات کی سماعت مکمل کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی کی تعریف واضح کرنے سے بھی مقدمات کی شرح میں کمی ہوئی اور جھوٹی گواہی کے سدباب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے، حلف اٹھا کر جھوٹی گواہی دینا بذات خود بڑا جرم ہے اور جھوٹی گواہی کی روک تھام کی اولین ذمہ داری تفتیشی آفیسر پر ہے، جھوٹی گواہی ثابت ہونے پر تفتیشی آفیسر کو بھی برابر کا ملزم قرار دیں گے، تہیہ کریں کہ جھوٹی گواہی ہر صورت روکیں گے جبکہ حلف لینے کے بعد ملزم کے والد، دادا،نانی، ماں سب کو ملزم بنا دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے طے کیا کہ حلف اٹھا کر غلط بیان دینا جرم ہے اور 15دفعات اس پرعائد ہوتی ہیں جبکہ ہمیں معاشرے میں سچی گواہی کو عام کرنا ہے کیونکہ وقتی فائدے سے مستقبل میں نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گواہ حلف لے کر کہتا ہے جو کہوں گا سچ کہوں گا لیکن وہ سب کچھ کہتا ہے لیکن سچ کے سوا، جھوٹی گواہی کیلئے معاشرے کو اسلامی اصولوں کا پابند بنانا ضروری ہے، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور ہمارے اسلام میں ہے کہ سچ کی گواہی دیا کرو جبکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گواہی کیلئے صرف سچے لوگوں کو لایا جائے اور اگر سچے گواہ نہیں آتے تو کوئی جھوٹی گواہی قابل قبول نہیں ہے، لوگوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا، تب ہی جا کر معاشرے میں انصاف کا نظام ٹھیک ہو گا۔ اس سے قبل  پولیس ریفارمز کمیٹی  اے اجلاس میں چیف جسٹس نے اندراج مقدمہ کی درخواستوں کی تعداد میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں کے اضافہ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا ہے،پولیس اصلاحات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اجلاس میں پولیس اصلاحات کے  بارے  میں اٹھائے گئے اقدامات پرعمل درآمدکا جائزہ لیاگیا،چیف جسٹس نے مزیدکہا ہے کہ مقدمات کی بروقت اندراج کے اقدامات کو یقینی بنایاجائے، پولیس کمپلینٹ سیل میں موصول شکایات کے فوری ازالے اور تفتیش کے معیار کو بہتر کرنے سے متعلق اقدامات یقینی بنائے،ملزموں کی بریت،اور ضمانتوں سے متعلق کیسز پر جواب بروقت جمع کروایا جائے،مقدمات کے بروقت فیصلوں اور ملزمان کو سزائیں دینے کے لئے پولیس اصلاحات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایاجائے، ڈسٹرکٹ اسیسمنٹ کمیٹی کی ملزمان کے بری ہونے اور ضمانتیں حاصل کرنے اور نظر ثانی کے  بارے میں اقدامات میں بہتری لائی جائے، چیف جسٹس نے تھانوں میں قانون کے مطابق مقدمات کے بروقت اندراج کے اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے،اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو کو دیے گئے ٹاسک پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا،، اجلاس میں شریک آئی جی صاحبان نے پولیس اصلاحات  اور تفتیشی نظام کی بہتری بارے کئے گئے اقدامات بارے رپورٹ پیش کی،اجلاس میں آئی جی پنجاب کیپٹن (ر)عارف نواز، آئی جی سندھ سید کلیم امام، آئی جی بلوچستان محسن بٹ،آئی جی خیبرپختونخوا ڈاکٹرانعام خان اورآئی جی گلگت بلگستان ثناء اللہ سمیت 7ریٹائرڈ آئی جی پولیس شریک ہوئے  

مزید : صفحہ اول