بدلتی سیاسی صورت حال،اپوزیشن کا حکومتی اتحادیوں سے رابطوں کا فیصلہ

بدلتی سیاسی صورت حال،اپوزیشن کا حکومتی اتحادیوں سے رابطوں کا فیصلہ

  



کراچی (این این آئی)ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کے باعث اپوازیشن جماعتوں نے حکومت سے نارض اتحادیوں سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ان جماعتوں کے سربراہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ذاتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان،بی این پی (مینگل) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کو قائل کریں کہ ملک میں سیاسی استحکام اور معیشت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ  اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ہونے والی سیاسی انتقام کی کارروائیاں بند کرائی جائیں۔اس ضمن میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی پہلے ہی جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے آزادی مارچ سے ملک کا سیاسی موسم تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتیں انتہائی متحرک انداز میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار ہوگئی ہیں۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے علاج کے سلسلے میں بیرون ملک جانے کے بعد یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا مستقبل قریب میں ریلیف مل سکتا ہے۔اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اس بات پر قائل ہیں کہ وہ کسی صورت میں ملک کااندر جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گی اور نہ اس طرح کے حالات پیدا کرنا چاہتی ہیں جس کا فائدہ کوئی دوسرا فریق اٹھالے تاہم تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی کارکردگی اور اس کے یکطرفہ احتساب کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطوں کو تیز کیا جائے اور ان کواس بات کا قائل کیا جائے وہ تحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔اپوزیشن جماعتو ں کے سربراہوں کی جانب سے اپنے رہنماؤں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف عوام کے سامنے مہنگائی،بے روزگاری اور دیگر عوامی ایشوز کو ہائی لائٹ کریں بلکہ ایم کیو ایم پاکستان،بی این پی (مینگل) اور جی ڈی اے کو بھی اس بات پر قائل کیا جائے کہ اگر وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو اس کا سیاسی نقصان مستقل میں ان جماعتوں کو بھی اٹھانا پڑسکتا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ایک اجلاس میں  یہ بات بھی زیر غور آئی ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے وعدے پورے نہ کرنے کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان،بی این پی (مینگل) اور جی ڈی اے اگر کوئی بڑا فیصلہ کرتی ہیں تو اس صورت حال میں ان ہاؤس تبدیلی کے لیے کیا لائحہ عمل طے کیا جائے تاہم دو بڑی اور اہم سیاسی جماعتیں اس وقت ان ہاؤس تبدیلی کے تیار نہیں ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام وزیراعظم کے استعفیٰ اور فوری الیکشن کے مطالبے پر قائم ہے۔ذرائع نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلا م کو دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قائل کیا جارہا ہے کہ فوری الیکشن مسائل کا حل نہیں ہیں اور جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں اپنی مدت پوری کریں تاہم عوام کو ریلیف پہنچانے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کرانے کے لیے تمام آپشنز استعمال کیے جائیں۔حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے بڑھانے فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مستقبل قریب میں ان رابطوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو ریلیف ملنے آثار نمایاں ہوجائیں گے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی انتہائی متحرک ہیں اور ان کی جانب سے حکومت کو مشورہ بھی دیا جاچکا ہے کہ وہ دیگر ایشوز کو چھوڑ کر ملک کی معاشی صورت حال پر توجہ دیں اور عوام کی حالت زار میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کریں۔

مزید : صفحہ اول