محکمہ تعلیم کے ملازمین کیلئے ایجوکیشن فائنڈیشن قائم کیا جائے:متحدہ محاذ اساتذہ

محکمہ تعلیم کے ملازمین کیلئے ایجوکیشن فائنڈیشن قائم کیا جائے:متحدہ محاذ ...

  



بنوں ( بیورورپورٹ) محکمہ تعلیم کے ملازمین کیلئے ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا جائے، متحدہ محاذ اساتذہ کے صوبائی جنرل سیکرٹری ریاض خان، ایکٹا کے ضلعی سینئر نائب صدر عبدالوہاب فاروقی، متحدہ محاذ اساتذہ بنوں کے چیئرمین پیرزادہ دل فراز اور دیگر اساتذہ رہنماؤں نے کہاہے کہ صوبہ بھر میں 4 دہائیوں سے ایجوکیشن ایمپلائز فاؤنڈیشن کے نام پر کٹوتی کی جاتی ہے جو کہ ماہانہ کروڑوں بنتے ہیں جو ایجوکیشن ایمپلائز فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹ میں جا کر اس پر سود لگ لگ کر اربوں میں جا پہنچتے ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک کھرب سے تجاوز کر گئے ہیں مگر انتہائی کرب کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب تک صوبے میں اس ادارے کے نام پر مختلف اضلاع میں ایجوکیشن ایمپلائز فاؤنڈیشنکے نام پر نام نہاد کالج کھولے گئے ہیں جنکی بلڈنگز بھی اپنی نہیں ہیں جن میں نورا گاما تو داخل ہو سکتا ہے مگر استاد کے بچے کو سیٹیں ختم ہونے کا کہہ کر بھگا دیا جاتا ہے اسکے علاوہ بنولنٹ فنڈ کاٹا جا رہا ہے جو کہ استاد کو کفن دفن پر ملتا ہے جو کہ اس کے کسی کام کا نہیں ہے ہمارا وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلی محمود خان سے یہ مطالبہ ہے کہ جس طرح آرمی کا اپنا ادارہ فوجی فاؤنڈیشن ہے جس کے زیر اہتمام ہسپتال سکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور مختلف منافع بخش ادارے چل رہے ہیں جو کہ فوج سے وابستہ افراد کی سروس اور بعد ازاں ان کا بیوی بچوں اور والدین کا مفت علاج اور بچوں کیلئے اعلی معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں مگر اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن کا مضبوط چیک اینڈ بیلنس اور نہایت شفاف آڈٹ کا نظام موجود ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اب تک EEF کی مد میں کٹوتی کی گئی رقم کا شفاف آڈٹ کروا کر یہ خطیر رقم برامد کر کے ایجوکیشن کے ملازمین کیلئے بھی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا ادارہ بنایا جائے جس کی زیر نگرانی میں ہر ضلع میں سکولز اور ایک کالج ہو جس میں ایجوکیشن ملازمین کے بچے مفت تعلیم حاصل کر سکیں ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہر ڈویژن میں ایک یونیورسٹی ہو جس میں ایجوکیشن سے وابستہ تمام افراد کے بچے مفت تعلیم حاصل کریں جبکہ عام افراد کو فوجی فاؤنڈیشن کے طرز پر پرائیویٹ داخلے دئیے جائیں جو کہ منافع بخش ثابت ہو گاپورے صوبے میں ابتدائی طور پر ایک جدید اور منظم ہسپتال بنایا جائے جس میں ایجوکیشن سے وابستہ تمام افراد کو مفت طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔اسکے علاوہ دیگر لوگوں کا بھی فوجی فاؤنڈیشن طرز پر عام آدمی کا علاج معالجہ بھی کر کے منافع بخش ثابت ہو گااسکے بعد حکومت جو دو ہزار میڈیکل الاؤنس دیتی ہے وہ بھلے روک لے کیوں کہ 2000 آج کل ایک نارمل ڈاکٹر کی فیس بھی نہیں ہوتی ہے ہمارا ارباب اختیار سے یہ مطالبہ ہے کہ ہمارے اس مطالبے پر غور کیا جائے

مزید : پشاورصفحہ آخر