قانون کے محافظ ہی عوام کے دشمن بن گئے ہیں:حافظ نعیم الرحمٰن

قانون کے محافظ ہی عوام کے دشمن بن گئے ہیں:حافظ نعیم الرحمٰن

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور  نوجوان نبیل کی ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے ایک اور نوجوان کی ہلاکت صوبائی حکومت اور محکمہ پولیس کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیئے،قانون کے محافظ اور عوام کی جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کے ذمہ دار عوام کے دشمن بن گئے ہیں،گزشتہ دو سال کے دوران کراچی میں 3بچوں سمیت 8افراد اسی طرح کے واقعات میں پولیس کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں اور ان کے اہلخانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جرائم کی روک تھا م،جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد پر نظر رکھنا اور ان کے خلاف کاروائی کرنا یقینا پولیس کی ذمہ داری ہے لیکن پولیس کو قانون سے ماورا اقدامات کرنے کا اختیار اور کسی بھی شہری پر بلاجواز فائرنگ کرنے کا حق ہرگز نہیں دیا جاسکتا۔وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ کی ذمہ داری ہے کہ کینٹ اسٹیشن کے قریب ہونے والے اس افسوسناک واقعے کا سختی سے نوٹس لیں اورفائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ بھی وضاحت کریں کہ گزشتہ دو سال میں ہونے والے 8واقعات میں ملوث پولیس اہلکاروں اور اداروں کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی گئی اور انہیں کیا سزا دی گئی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ نبیل کے اہل خانہ کو بھی انصاف فراہم کیا جائے،اس طرح واقعات کا تدارک کیا جائے اور پولیس کو لگام دی جائے تاکہ آئندہ یہ واقعات رونما نہ ہو سکیں۔حافظ نعیم الرحمن نے نبیل کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ ایک جانب منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف ان کی سر پرستی بھی کی جاتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر اپنی سر گرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر