ڈاؤ یونیورسٹی”ورلڈ اینٹی بائیوٹک آگہی ویک“ کے سلسلے میں پروگرام

ڈاؤ یونیورسٹی”ورلڈ اینٹی بائیوٹک آگہی ویک“ کے سلسلے میں پروگرام

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا ہے کہ اینٹی بائیو ٹک دواؤں کے خلاف ہونے والی مزاحمت کے نتیجے میں ہر سال دنیا بھر میں سات لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، اگر صورتِ حال بہ دستور ایسی ہی رہی تو 2050 تک یہ تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ سالانہ تک پہنچ جائے گی، یہ باتیں انہو ں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کے آراگ آڈیٹوریم میں ڈاکٹر کے ایم رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے باہمی اشتراک سے "ورلڈ اینٹی بائیو ٹک اویرنیس ویک"کے سلسلے میں آگہی سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عزیز اللٰہ و دیگر نے بھی خطاب کیا، قبل ازیں آراگ آڈیٹوریم سے عوامی آگہی واک بھی کی گئی، جس کا اختتام کلاک ٹاور پر کیا گیا، پروفیسر امجد سراج میمین نے کہا کہ عام طور پر جنرل پریکٹشنرز تھرڈ جنریشن اینٹی بائیو ٹک یا پھر نزلے بخار میں ڈبل اسٹرینتھ کی انیٹی بائیو ٹک استعمال کرتے ہیں، اس سلسلے میں دوا ساز اداروں کو بھی جونئیر ڈاکٹرز کی رہمائی کرنا چاہیے،ایسی دواؤں کی پروموشن میں احتیاط کرنا چاہیے، کیونکہ ایسی دواؤں کے استعمال سے مزاحمت بڑھ جاتی ہے، انہو ں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اینٹی بائیوٹک دواؤں کی خریداری کے سلسلے میں شفاف نظام قائم کر دیا گیا اور غیر موثر ہوجانے والی دواؤں کو خریداری کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، حالانکہ اس پر مزاحمت بھی ہوئی کہ برسوں سے جو دوائیں استعمال ہورہی ہیں، وہ کیوں بند کی گئیں، تاہم اب پالیسی بن چکی ہے جو خوش آئند ہے، انہو ں نے عوام پر زور دیا کہ گھر یلو استعمال کے پانی کے ٹینگ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، یہ خوش آئند امر ہے کہ لوگ پینے کے پانی میں صٖفائی کا خیال رکھنے لگے ہیں، مگر استعمال کے پانی سے بھی بیکٹریل انفیکشن کا خطرہ موجود ہے، اس لیے گھریلو پانی کے ٹینک کی ہر چھ ماہ بعد صفائی ضروری ہے، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیز اللٰہ نے کہا کہ غریب ممالک میں اینٹی بائیو ٹک ریزسسٹنس بہت خطرناک حد تک رپورٹ ہونے لگی ہے، جس کے باعت دوسری بیماریاں اور بیکٹریا، وائریسز جنم لیتے ہیں، جن کا بعض اوقات علاج کرنا مشکل یا ناممکن ہوجاتاہے اور کچھ ایسے میڈیکل پروسیجرز جیسے سی سیکشن، کوہلے کی ہڈی جیسے دوسرے پروسیسجر خطرناک ہوجاتے ہیں، ہمارے پاس انفیکشس ڈیزیز جن میں نمونیہ، ٹی بی، گونوریا جیسے دوسری بیماریاں بھی مشکل ہوجاتی ہیں اور کبھی کبھی ان کا علاج نا ممکن ہوجاتاہے،انہو ں نے کہا کہ اینٹی بائیو ٹک کا بے جا استعمال ریزسٹنٹ پیدا کرتا ہے اور ایسے عوامل کو جنم دیتا ہے جن سے اینٹی مائیکرو بائل ریزسسٹنٹ بڑھ جاتی ہے، انہو ں نے بتایا کہ پاکستان میں اینٹی بائیو ٹک کا مس یوز اور زیادہ استعمال، نامناسب پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے مسائل عام ہیں اور ان سے پیدا ہونے والی مسائل اور بیماریاں اور انکی تشخیص ایک مسئلہ ہے، تمام شہریوں کو قابلِ برداشت نرخوں پر اینٹی مائیکرو بیل ویکسین اور ان کی تشخیص دستیاب نہیں، انہون نے کہا کہ انسانوں اور جانوروں میں متعدی بیماریوں کے دباؤ کے باعث ڈرگ ریزسٹنٹ پیتھوجنز کا پھیلاؤ تیز ہورہا ہے، انہوں نے زور دیا کہ اگر اس پھیلاؤ اور مزاحمت کے خلاف فوری اقدامات نہ کیے گیے تو نہایت تباہ کن ہوگا، انہوں نے فارمرز اور زرعی عملے پر زور دیا کہ اینٹی بائیو ٹک دواؤں بے جا استعمال روک دیں اور درختوں، فصلوں اور مویشیوں کے لیے ایسا صحتمند ماحول تشکیل دیں، جس احتیاط ہوتا کہ انفیکشن کا خطرہ کم ہوسکے اور باقاعدہ ویکسی نیشن کرائیں تاکہ اینٹی بائیو ٹک کا استعمال کم ہو، انہو ں نے عوام سے اپیل کی کہ از خود دواؤں کا استعمال ترک کردیں اور کسی بھی مرض کے سلسلے میں ایک مستند ڈاکٹرز کی ہدایت پر دوائیں استعمال کریں اور اگر کسی دوا سے آپ کو فائدہ ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ جیسے کسی دوسرے انسان کے لیے وہی دوائی تیر بہ ہدف نسخہ ہو، اس لیے کبھی بھی کوئی دوا دوسرے مریض کو استعمال کرنے کا مشورہ نہ دیں ڈاکٹرز کو یہ کام کرنے دیں، انہو ں نے زور دیا کہ انفیکشن سے بچنے کے لیے ویکسی نیشن کرائیں یہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

مزید : صفحہ آخر