نیا پاکستان اس صورت بن سکتا ہے کہ پرانا پاکستان ملک ریاض کو بیچ دیں،انور مقصود نے سب کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردیا

نیا پاکستان اس صورت بن سکتا ہے کہ پرانا پاکستان ملک ریاض کو بیچ دیں،انور ...
نیا پاکستان اس صورت بن سکتا ہے کہ پرانا پاکستان ملک ریاض کو بیچ دیں،انور مقصود نے سب کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)اداکار،شاعر،مصنف، ادیب اورمزاح نگارانور مقصود اپنے منفرد اسلوب اور انداز بیان کی وجہ سے ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنے ہوئے۔ایک تقریب میں اپنا مزاحیہ کلام پیش کرتے ہوئے انہوں نے ایسے چٹکلے چھوڑے کہ سننے والے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔

اپنی تحریک میں فیض سے ملاقات کااحوال سنایا جس میں پاکستان میں گونجتی تبدیلی پر دلچسپ اندازمیں تبصرہ کیاگیاتھا۔انورمقصود نے کہاکچھ دن پہلے مغرب کے بعد فیض صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا ملک میں تبدیلی آ گئی ہے۔جس پر میں نے کہا جی ٹھیک کہا اب میلہ چراغان کی جگہ فیض میلہ ہوتا ہے جس پر انہوں نے کہا ادبی نہیں سیاسی تبدیلی کی بات کررہے ہیں۔جس پر انور نے کہا کیا مطلب نیا پاکستان کیا مہاجر ہندوستان چلے گئے؟ پنجابی جالندھر چلے گئے، پٹھان افغانستان چلے گئے ، بلوچی ایران چلے گئے؟خالی فوج رہ گئی پاکستان میں؟ وہ تو شروع سے تھی ،پھر نیا پاکستان کہاں سے آگیا،وہ ناراض ہوکر چلے گئے۔ویڈیو دیکھئے 

انور نے کہا ”جانی یہ خود فوج میں کرنل رہ چکے ہیں۔جانی نیا پاکستان صرف ایک صورت بن سکتا ہے اگرپرانے پاکستان کو ملک ریاض کو بیچ دیں،اور نیا ناظم آباد کے پیچھے نیا پاکستان بنا لیں۔پرانا پاکستان بھی کراچی سے شروع ہواتھا نیا پاکستان بھی وہیں سے شروع ہونا چاہئے

انور بولے”تم نے خط میں لکھا تھا کہ تمہیں ایک فنکشن میں شاعری اور سیاست پر بات کرنی ہے پاکستان کیا سیاست سے ٹھیک ہوسکتا ہے یا شاعری سے۔جانی شاعری اور سیاست میں صرف جھوٹ ہوتا ہے۔شاعری اور سیاست میں سے جھوٹ نکال دو تو صرف سفید کینوس بچتا ہے۔شاعر اپنی غزل کے ہردوسرے شعر میں یوٹرن لیتا ہے جبکہ سیاستدان اپنی ہر تقریر میں یوٹرن لیتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس