وہ وقت جب مولاناطارق جمیل نے نوازشریف کو حدیث سنائی اور اجتماعی توبہ کا منصوبہ بنا، حیران کن انکشاف

وہ وقت جب مولاناطارق جمیل نے نوازشریف کو حدیث سنائی اور اجتماعی توبہ کا ...
وہ وقت جب مولاناطارق جمیل نے نوازشریف کو حدیث سنائی اور اجتماعی توبہ کا منصوبہ بنا، حیران کن انکشاف

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اکتوبر1999ءمیں مسلم لیگ ن کی جمہوری حکومت کاتختہ الٹ دیاگیالیکن اس سے قبل بھی حکومت کیلئے حالات کافی مشکل تھے ، ستمبر میں مولاناطارق جمیل سے ملاقات میں میاں نوازشریف نے مسائل سے نکلنے کا حل پوچھاتو مولاناطارق جمیل نے کہاکہ زمینی آفات انسانوں پر آتی ہیں ، طریقہ توہے کہ انسان کسی طرح کفارہ ادا کرے،اگر آسمانی آفات ہوں تو اجتماعی توبہ کریں ، اور پھر ایک حدیث سنائی جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک بدو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت خالد بن ولید ؓ بھی وہاں موجود تھے اور بدونے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ میں امیر بننا چاہتا ہوں تو کیا کروں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ قناعت اختیار کرو ،امیر بن جاﺅ گے،

بدو نے کہا کہ میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تقویٰ اختیار کر و عالم بن جاﺅ گے ،پھر اس نے کہا کہ میں رزق کی کشادگی چاہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ باوضو رہا کرو،اس نے کہا کہ میں گناہوں میں کمی چاہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ استغفار کیا کرو،پھر اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ پر رحم کرے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں پر رحم کیا کرو۔ بدو نے کہا کہ میں اللہ کے غصے سے بچنا چاہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ لوگوں پہ غصہ کرنا چھوڑ دو۔جب مولانا طارق جمیل صاحب نے جب پوری حادیث سنائی تو میاں نواز شریف صاحب بہت متاثر ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ یہ حدیث میری کابینہ کے سامنے سنائیں۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرشاہدمسعودنے بتایاکہ اس کے بعد مولانا طارق جمیل کو میاں نوازشریف نے کابینہ اجلاس میں بلایا اور ستمبر1999ءمیں یہ حدیث مبارکہ کابینہ کوسنائی گئی ، مولاناطارق جمیل نے کہاتھاکہ ان کاخیال ہے کہ اجتماعی توبہ کا وقت آگیاہے جس پر کابینہ اراکین نے اسے ایک تقریر کی شکل دینے کی تجویز دی جس پر میاں نوازشریف نے بھی اتفاق کیا اور مولاناطارق جمیل کو تقریر لکھنے کی ہدایت کی تاکہ وہ تقریر کیساتھ ہی قوم سے اجتماعی استغفار کی اپیل کریں ، مولاناطارق جمیل نے تقریر لکھناشروع کی ہوئی تھی لیکن اس دوران حکومت کا تختہ الٹ گیا۔

مزید : قومی