” ہمارے کلچر میں یہ اچھی روایت نہیں“عمران خان کی ایسی تصویر سامنے آگئی کہ رﺅوف کلاسرا بھی خاموش نہ رہ سکے

” ہمارے کلچر میں یہ اچھی روایت نہیں“عمران خان کی ایسی تصویر سامنے آگئی کہ ...
” ہمارے کلچر میں یہ اچھی روایت نہیں“عمران خان کی ایسی تصویر سامنے آگئی کہ رﺅوف کلاسرا بھی خاموش نہ رہ سکے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی امور کی انجام دہی یا ملاقاتوں کیلئے آنے والے افراد کیلئے ضیافت کا کچھ خاص اہتمام نہیں کرتے یا بالکل کرتے ہی نہیں۔حال ہی میں ان کی ارشاد بھٹی سے ملاقات کی ایک تصویر بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وزیراعظم کے سامنے تو چائے کا کپ پڑا ہے تاہم ارشاد بھٹی کے سامنے کچھ نہیں رکھا گیا۔

اسی تصویر پر جہاں دوسرے لوگوں نے ردعمل دیا ہے وہیں سینئر صحافی روف کلاسرا نے بھی تبصرہ کیاہے۔ٹویٹر پر دیئے گئے پیغام میں انہوں نے کہا”پاکستان جیسے معاشرے میں فخر کی بات نہیں سمجھی جاتی کہ اپ کسی کو ملنے کے لیے بلائیں اور کچھ نہ کھلائیں پلائیں۔ مہمان نوازی اعلیٰ صفت ہے۔پڑھا تھا جو کسی کے گھر گیا اور بغیر کھائے پیے واپس گیا تو سمجھیں قبرستان گیا تھا۔ایسی باتوں کو گلیمرائز نہ کریں۔ہمارے کلچر میں یہ اچھی روایت نہیں۔“

روف کلاسرا کے ٹویٹ سے زیادہ تر لوگوں نے اختلاف کیا۔

عدنان خطیب نامی شخص نے لکھا”محترم آپ کےبیان کے مطابق تو پھر قائداعظم بھی کوئی اچھی روایت کے حامل نہ تھے جب ان نے چائے دینے سے منع کر دیا تھا، یہ ملک کا پیسہ ہے، عوام کا پیسہ ہے ایسی چیزوں میں روایات کو نہ لائیں بیچ میں۔کوئی تو ملا جسے قائداعظم کے بعد عوام کے پیسے کی فکر ہے“

عبداللہ بن امین نے اپنا خیال پیش کیا کہ ”اگر عمران خان اپنے گھر بلائے اور وہ بھی ذاتی ملاقات کے لئے تب آپ کی بات ٹھیک ہے،سرکاری دفتر میں صرف کام کی بات ہی ہونا چاہئے ،دفتر مہمان نوازی کی جگہ نہیں ہوتا،میں نے خود ایسی کمپنیوں میں بھی کام کیا ہے جہاں مہمان کو بلانے کی بھی اجازت نہیں ہوتا“

فیصل اقبال کا خیال ہے کہ ”کلچر میں بھی ضروری ایڈجسمنٹ کرنے کا وقت آ گیا ہے کلاسرا صاحب۔

گھر پر بلا کے حسبِ توفیق چائے پانی کوئی نا پوچھے تو گلہ جائز ہے۔ سرکاری دفتر میں یہ “چائے پانی” کا کلچر 100% ختم ہونا چاہیے۔ ہربات پر اعتراض ، آپکی عزت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔فیر کہندے نے بوٹا گالاں کڈدا اے“

مزید : قومی