برطانیہ نے پاکستان کیساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ معطل کردیا، انتہائی شرمناک وجہ بھی سامنے آگئی

برطانیہ نے پاکستان کیساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ معطل کردیا، انتہائی ...
برطانیہ نے پاکستان کیساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ معطل کردیا، انتہائی شرمناک وجہ بھی سامنے آگئی

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں منشیات سمگلروں کے خلاف قانون کی نرمی اور کڑی سزائیں نہ دیئے جانے پر برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ معطل کر دیا۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق وزارت خارجہ کی اوورسیز ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل شوزب عباس نے ذیلی کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے اجلاس میں برطانیہ کے اس اقدام کے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ”برطانوی حکومت پاکستان کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ جاری نہیں رکھنا چاہتی، کیونکہ برطانوی حکومت چاہتی ہے کہ جن منشیات سمگلروں کو برطانیہ میں سزا سنائی جائے، انہیں پاکستان منتقل کیے جانے کے بعد برطانیہ میں دی جانے والی سزا کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ “

شوزب عباس کا کہنا تھا کہ ”اب برطانوی حکومت اسی صورت میں اس معاہدے کو بحال کرے گی جب پاکستان قیدیوں کو برطانیہ میں ملنے والی سزا پاکستان میں برقرار رکھنے کی یقینی دہانی کرائے گا اور اس کی عملاً پاسداری کرے گا۔“ شوزب عباس نے بتایا کہ”چین بھی پاکستان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے پر تیار نہیں ہے اور اس کی بھی یہی وجوہات ہیں۔“

انہوں نے اس موقع پر اپریل 2018ءکے ایک کیس کی مثال دی جس میں 17پاکستانیوں کو منشیات سمگلنگ پر تھائی لینڈ میں سزا سنائی گئی اور انہیں پاکستان منتقل کیا گیا۔ یہاں آ کر انہوں نے دوبارہ کیس دائر کیا اور سپریم کورٹ نے ان میں سے 8کو رہا کر دیا۔ تھائی لینڈ میں منشیات سمگلر کو 40سال قید ہوتی ہے۔ پاکستانی قانون میں سزا کی مدت کا تعین منشیات کی مقدار پر ہوتا ہے اور عام طور پر 10سے 25سال قید ہوتی ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد