”پچاس کے بارہ، پچاس کے بارہ“غریب کو کون کونسی مشکلات درپیش ہیں؟ویڈیو دیکھتے ہی حامد میر خاموش نہ رہ سکے

”پچاس کے بارہ، پچاس کے بارہ“غریب کو کون کونسی مشکلات درپیش ہیں؟ویڈیو ...
”پچاس کے بارہ، پچاس کے بارہ“غریب کو کون کونسی مشکلات درپیش ہیں؟ویڈیو دیکھتے ہی حامد میر خاموش نہ رہ سکے

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)کراچی کے علاقہ لالوکھیت میں شہری انتظامیہ کی جانب سے ٹھیلے ہٹائے جانے پر پھل فروش شہری نے پھلوں کی فروخت کا انوکھا طریقہ اختیار کرلیا۔اور کیلے بھی فروخت کرتارہا۔

اس افسوسناک ویڈیو کو دیکھ کر سینئر صحافی حامد میر بھی چپ نہ رہ سکے ،انہوں نے کہا”جب غریب آدمی سڑک کنارے ٹھیلہ بھی نہ لگا سکے تو پھر کیا کرے؟یہ شخص گردن میں کیلے لٹکا کر آواز لگا رہا ہے ”پچاس کے بارہ پچاس کے بارہ“ اللہ اس مظلوم کی مشکلات دور فرمائے (آمین)

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے پھل فروش شہری نے کیلوں کو رسی کے ساتھ باندھ کر گلے میں لٹکا لیااور وہیں کھڑے ہوکر بیچنے لگا ۔پچاس روپے درجن کیلے بیچتے اس پھل فروش کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر لوگ ہمدردی کااظہارکررہے ہیں۔پھل فروش کا کہنا ہے کہ وہ احتجاجا گلے میں کیلے باندھ کر فروخت کررہے ہیں۔کیونکہ اس سمیت کئی پھل فروشوں کے ٹھیلے انتظامیہ نے ہٹا دئیے ہیں،پھل فروش کے مطابق وہ ٹھیلے کھڑے کرنے پہ سرکار کو بھتہ بھی دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے حامد کے ٹویٹ پر ملے جلے ردعمل کااظہارکیا۔ایک شخص نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا”حامد میر صاحب کہنے کو تو ہم آزاد ملک میں رہ رہے ہیں. لیکن یہ کتنا آزاد ہے بطور عوام ہم سے بہتر اس کو کوئی نہیں جان سکتا۔یہ جو ہمارے بڑے بڑے سیاستدان اور جرنیل خاص طور پر انہیں تو ہر چیز فری میں مل جاتی ہے چاہے گیس ہو بجلی کا بل ہو سب فری میں ملتا ہے رول تو عوام جاتی ہے“

ایک اور صارف نے لکھا”چلنے والے ٹھیلے میں کوئی برائی نہیں۔ ایک مخصوص جگہ پرقبضہ کرکے اجارہ داری اور بدمعاشی کرنا۔ ٹریفک کو جام کرکے رکھنا غلط ہے۔

بیوی بچے موٹرسائیکل پربٹھائے ہوئے بیچ روڈپرکھڑی کرکے ٹھیلے والے سے کیلے و کینو کابھاو¿ تاو¿ کرناکیا صحیح ہے کہ جس کی وجہ سے پیچھے کا ٹریفک جام ہوچکا ہو؟“

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی