’مجھے خواتین جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں‘ پروفیسر نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا، وجہ بھی ناقابل یقین

’مجھے خواتین جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں‘ پروفیسر نے انتہائی حیران کن ...
’مجھے خواتین جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں‘ پروفیسر نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا، وجہ بھی ناقابل یقین

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے ایک پروفیسر نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین انہیں جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اس کی ایسی حیران کن وجہ بھی بتائی ہے کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ علم جرمیات (Criminology)کے پروفیسر ڈیوڈ ولسن ہیں جو برمنگھم سٹی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ وہ جرائم، بالخصوص قتل پر اب تک درجن سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں اور بے شمار ٹی وی شوز کے سکرپٹ لکھ چکے ہیں جن میں قتل کی مختلف وارداتوں کو فلمایا جاتا تھا اور پروفیسر صاحب کے بقول یہی خواتین میں ان کی مقبولیت کی وجہ ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ خواتین میرے پاس آتی ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ میں ’قتل‘ کے موضوع پر ان کے ساتھ گفتگوکروں اور پھر موقع پا کر میرے ساتھ شرمناک حرکات شروع کر دیتی ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر ڈیوڈ نے بتایا کہ ”ایک بار میں ایک بڑے کتاب میلے میں موجود تھا اور لوگوں کو اپنی کتابوں پر دستخط کرکے دے رہا تھا۔ اس دوران ایک خاتون آئی جس کی عمر 50سال کے لگ بھگ ہو گی۔ وہ چہرے مہرے سے بہت سلجھی ہوئی اور پڑھی لکھی خاتون لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی پیشہ وارانہ یادداشتوں پر مبنی کتاب پر دستخط کر دیئے اور اس دوران ہمارے درمیان چند جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پھر اس نے میری ساتھ سیلفی کی درخواست کی۔میرے ہاں کہنے پر اس نے ایک ہاتھ میں موبائل فون تھاما اور دوسرا ہاتھ میرے سینے کی طرف لے کر گئی اور میری شرٹ کے نیچے ڈال کر میرے سینے کے نپل پر زور سے چٹکی کاٹ دی۔“

پروفیسر ڈیوڈ کا مزید کہنا تھا کہ ”خاتون کی یہ حرکت دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا اور اس سے کہا کہ اگر یہی کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا ہوتا تو تم اسے ’جنسی حملہ‘ قرار دیتیں۔ اس پر خاتون ایک زور دار قہقہہ لگا کر چلی گئی۔ اسے معلوم تھا کہ اسے یہ سب کچھ معاف ہو جائے گا کیونکہ وہ عورت ہے۔ اسی طرح کئی مواقع پر کئی خواتین میرے جسم کے پوشیدہ حصے کو ہاتھ لگا دیا۔ مجھے اکثر خواتین کی طرف سے ایسی ہی شرمناک ای میلز بھی موصول ہوتی رہتی ہیں۔“ پروفیسر ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ”میری کتابیں خریدنے والوں میں اکثریت خواتین ہی کی ہوتی ہے۔ اب آدئنہ ماہ گلاسگو آڈیٹوریم میں ایک تقریب ہونے جا رہی ہے۔ اس آڈیٹوریم میں 450سیٹیں ہیں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوںکہ 90فیصد سیٹوں پر خواتین موجود ہوں گی۔ میں نہیں چاہتا کہ 60سال کی عمر میں پہنچ کر مجھ پر کوئی گھٹیا الزام لگے اور میری کئی دہائیوں کی اہلیہ کا دل ٹوٹے چنانچہ میں سوچ رہا ہوں کہ اس تقریب میں میں اپنے ساتھ باڈی گارڈ لے کر جاﺅں۔“

مزید : برطانیہ