چین میں 30 لاکھ مسلمانوں کو کس طرح قید کیا گیا ہے؟ تڑپادینے والی تفصیلات منظر عام پر

چین میں 30 لاکھ مسلمانوں کو کس طرح قید کیا گیا ہے؟ تڑپادینے والی تفصیلات منظر ...
چین میں 30 لاکھ مسلمانوں کو کس طرح قید کیا گیا ہے؟ تڑپادینے والی تفصیلات منظر عام پر

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں ازسرنوتعلیم کے نام پر 30لاکھ مسلمانوں کو قید رکھ کر ان پر ظلم کے جو پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ان کی گاہے ایسی داستانیں سامنے آتی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اب اس قید خانے سے نکلنے والی ایک خاتون نے اندر کی مزید ایسی ہی ہولناک تفصیلات دنیا کو بتا دی ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق چین سے فرار ہو کر سویڈن میں پناہ حاصل کرنے والی سائراگل ساﺅتبے نامی اس خاتون نے بتایا ہے کہ ”اس قید خانے میں سکیورٹی اہلکار قطاروں میں کھڑے کیے گئے مردوخواتین میں سے کسی ایک خوبصورت ترین لڑکی کو منتخب کرکے باہر نکالتے ہیں۔ اس لڑکی کا سر بھی دیگر قیدیوں کی طرح منڈھا ہوا ہوتا ہے اور اس نے دیگر قیدیوں کی سی یونیفارم پہن رکھی ہوتی ہے۔ باہر نکال کر سکیورٹی اہلکار اسے کپڑے اتار کر برہنہ ہو جانے کا حکم دیتے ہیں اور پھر باقی سینکڑوں مردوخواتین کے سامنے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس لڑکی کو حکم ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مزاحمت کرے گی اور نہ ہی روئے گی اور درد سے چیخے چلائے گی۔ جبکہ باقی سینکڑوں لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور یہ سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھیں۔“

سائرہ گل کا کہنا تھا کہ ”اس لڑکی کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس نے مزاحمت کی یا حتیٰ کہ روئی بھی تو سکیورٹی اہلکار اس کے اہلخانہ میں سے کسی عورت کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے جبکہ باقی لوگوں میں سے اکثر کوئی شخص یہ دیکھ کر آنکھیں بند کر لے تو اسے ایک سپیشل کمرے میں لیجایا جاتا ہے جو تشدد کرنے کے لیے خاص طور پر بنایا گیا ہوتا ہے۔اس کمرے کو ’بلیک روم‘ کہا جاتا ہے اور یہ قید خانے کا واحد کمرہ ہوتا ہے جہاں نگران کیمرے نہیں لگے ہوتے۔ یہاں لوگوں کو بجلی کے جھٹکے دینے سے لے کر ناخن اکھاڑنے تک کے آلات پڑے ہوتے ہیں جن کے ذریعے قیدیوں کو اذیتیں دی جاتی ہیں۔ اس کمرے میں جنہیں ایک بار لیجایا جاتا ہے ان میں سے اکثر قید خانے میں دوبارہ نظر نہیں آتے۔ میرے خیال میں ان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور لاشیں ٹھکانے لگا دی جاتی ہیں۔مجھے بھی ایک بار اس کمرے میں لیجایا گیا۔ وہاں مجھے بجلی کے کرنٹ والی چھڑی سے پورے جسم پر پیٹا گیا اور پھر دو دن تک مجھے بھوکا رکھا گیا۔ میری عمر زیادہ تھی، شاید اسی وجہ سے میں اجتماعی جنسی زیادتی جیسی اذیت سے بچ گئی، کیونکہ وہ صرف نوعمر اور خوبصورت لڑکیوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے تھے۔“

سائرہ گل کا مزید کہنا تھا کہ”قید کے دوران میں نے ایسے درجنوں واقعات اپنی آنکھیں کھلی رکھ کر دیکھے۔ ایک بار ایک لڑکی کو اتنے مردوں نے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔ اس واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور کئی راتیں میں سو نہیں سکی تھی۔“ سائرہ گل کا کہنا تھا کہ ”کچھ عرصہ قید میں رہنے کے بعد قید خانے کی انتظامیہ نے میری بطور ٹیچر نوکری لگا دی۔ شاید وہ میرے برتاﺅ سے سمجھ رہے تھے کہ میں نفسیاتی طور پر بدل چکی ہوں اور اپنے اسلامی عقائد مکمل طور پر چھوڑ چکی ہوں۔ ا س چند ماہ بعد انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر کچھ دنوں بعد مجھے پتا چلا کہ وہ مجھے دوبارہ قید خانے لےجانے والے ہیں جس پر میں چین سے فرار ہو گئی۔ سائرہ گل نے چین کے ان قید خانوں کو جرمنی کے نازی دور کے عقوبت خانوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں جہاں نگرانی کے طریقے انتہائی جدید ہیں لیکن تشدد کے طریقے انتہائی قدیم۔ان قید خانوں میں ہنسنے پر بھی کسی کو موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔“واضح رہے کہ سائرہ گل اپنے شوہر اویلی اور دو بچوں سمیت چین سے فرار ہو کر قازقستان پہنچی جہاں قازق پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور واپس چین بھیجنا چاہا جس پر انہوں نے قازقستان کی عدالت میں اپنی ملک بدری کے خلاف درخواست دائر کر دی اور طویل قانونی جنگ لڑنے کے بعد عدالت نے انہیں واپس چین نہ بھیجنے کا فیصلہ سنا دیا جس کے بعد وہ قازقستان سے نکل کر سویڈن چلے گئے اور اب وہاں انہوں نے پناہ حاصل کر رکھی ہے۔“

مزید : بین الاقوامی