لندن میں قطری سفیر کی انتہائی شرمناک حرکتیں سب کے سامنے آگئیں

لندن میں قطری سفیر کی انتہائی شرمناک حرکتیں سب کے سامنے آگئیں
لندن میں قطری سفیر کی انتہائی شرمناک حرکتیں سب کے سامنے آگئیں

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں تعینات قطری سفارتی عملے کے ایک خاتون کے ساتھ شرمناک سلوک کے جرم میں قطر کو 3لاکھ 90ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 7کروڑ 87لاکھ روپے)جرمانہ کر دیا گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق 58سالہ ڈیانے کنگسن نامی برطانوی خاتون لندن میں واقع قطری سفارتخانے میں قطری سفیر کی پرسنل اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کرتی تھی جسے خود ایگزیکٹو ایمبیسڈر فہد المشائری اور سینئر سفارت کار علی الحریری سمیت عملے کے کئی مرد سالہا سال تک جنسی ہراسگی کا نشانہ بناتے رہے۔ ڈیانے برطانوی شہری تھی تاہم اسے عربی زبان پر بھی عبور حاصل تھا اور وہ روانی سے عربی بولتی تھی۔

لندن کے ٹربیونل میں بتایا گیا کہ خاتون کے ساتھ یہ سلوک اس لیے روا رکھا گیا کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھی۔ چنانچہ سفارتی عملے کے مردوں کے خیال میں ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ ڈیانے جولائی 2006ءمیں قطری سفارت خانے میں ملازم ہوئی اور اسے جون 2014ءمیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ ان سالوں میں فہد المشائری نے بار بار ڈیانے کو اپنے فلیٹ پر آنے کی پیشکش کی۔

وہ اسے منشیات اور قیمتی تحائف کا بھی لالچ دیتا رہا لیکن جب ڈیانے مسلسل اس کی پیشکش مسترد کرتی رہی تو فہد المشائری نے یہ قبیح حرکت ڈیانے کی 19سالہ بیٹی کے ساتھ شروع کر دی۔ وہ ڈیانے کو کہتا کہ وہ اپنی بیٹی کو اس کے ساتھ فرانس چھٹیاں منانے بھیجے۔ وہ اسے ہر وہ چیز خرید کر دے گا جو وہ کہے گی۔ اس نے ڈیانے اور اس کی بیٹی کو متعدد مواقع پر غیرمناسب انداز میں چھوا اور فحش گفتگو کی۔ علی الحریری نے خود ڈیانے کو اپنے ساتھ کیوبا چھٹیاں منانے کے لیے جانے کو کہا تاہم ڈیانے سے اسے بھی منع کر دیا۔

ایک بار قطری سفارتخانے میں قطر کے قومی دن پر تقریب ہو رہی تھی جس میں سینکڑوں لوگ موجود تھے۔ اس دوران فہد المشیری نے مجھے کہہ دیا کہ وہ میری بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر مجھے شدید جھٹکا لگا لیکن میں نے اپنے احساسات پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اس کا پہلے ہی بوائے فرینڈ ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ قریب ہی کھڑی میری 19سالہ بیٹی سنے گی تو کیا سوچے گی۔ میرا جواب سن کر فہد المشیری نے کہا کہ ”تمہارے پاس انکار کا آپشن نہیں ہے، اپنی بیٹی کو بلاﺅ، میں اس سے بات کروں گا۔“ میں نے اپنی بیٹی کو بلایا اور اس کے کان میں کہہ دیا کہ اسے کہنا کہ تمہارا پہلے ہی بوائے فرینڈ ہے۔ یہ سن کر میری بیٹی ہکا بکا رہ گئی تاہم اس نے فہد المشیری کو وہی جواب دے دیا جو میں نے کہا تھا۔ یہ جواب سن کر المشیری انتہائی غصے میں آ گیا اور اس پوری تقریب کا ماحول ہی بدل گیا۔

عدالت میں بتایا گیا کہ سفارتخانے کے مردوں کی طرف سے ہونے والے مسلسل جنسی ہراسگی کے حملوں کے باوجود ڈیانے وہاں نوکری کرنے پر مجبور تھی کیونکہ وہ دو بچوں کی اکیلی ماں تھی اور اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ لوگ ڈیانے کو نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دیتے تھے اور بالآخر سالہا سال کی کوششوں کے باوجود جب ڈیانے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر رضامند نہ ہوئی تو بالآخر انہوں نے اسے نوکری سے نکال دیا۔ عدالت نے اب اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قطری حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ڈیانے کو3لاکھ 90ہزار پاﺅنڈ ہرجانہ ادا کرے۔

مزید : برطانیہ