ایک بینک اکاﺅنٹ، دو مالک، ایک جمع کروائے، دوسرا وزیراعظم کا تحفہ سمجھ کر نکال کر لے جائے، ایسا واقعہ کہ جان کر آپ کی ہنسی نہ رکے

ایک بینک اکاﺅنٹ، دو مالک، ایک جمع کروائے، دوسرا وزیراعظم کا تحفہ سمجھ کر ...
ایک بینک اکاﺅنٹ، دو مالک، ایک جمع کروائے، دوسرا وزیراعظم کا تحفہ سمجھ کر نکال کر لے جائے، ایسا واقعہ کہ جان کر آپ کی ہنسی نہ رکے

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میںدو افراد کے نام اور دیگر شناختی تفصیلات ایک جیسی ہونے کے باعث ایسا مضحکہ خیز واقعہ پیش آیا ہے کہ سن کر آپ کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست مدھیاپردیش کا ہے جہاں سٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک برانچ میں حکم سنگھ نام کے دو افراد نے اپنے اکاﺅنٹ کھلوائے۔ ایک حکم سنگھ رورائے نامی گاﺅں کا رہنے والا تھا اور دوسرا رونی نامی گاﺅں کا۔

ان کی لگ بھگ تمام تفصیلات ایک جیسی تھیں سوائے تصاویر کے۔ اس پر بینک منیجر دھوکا کھا گیا اور انہیں ایک ہی بینک اکاﺅنٹ نمبر الاٹ کر دیا۔ گویا ان دونوں حکم سنگھ نامی اشخاص کا ایک ہی بینک اکاﺅنٹ کھل گیا۔ اکاﺅنٹ کھلوانے کے بعد رورائے نامی گاﺅں والا حکم سنگھ ملازمت کے لیے ہریانہ چلا گیا اور وہاں سے ہر مہینے اپنی تنخواہ اس بینک اکاﺅنٹ میں جمع کرواتا رہا جبکہ رونی گاﺅں والا حکم سنگھ ہر مہینے جاتا اور اکاﺅنٹ میں جمع کی گئی رقم نکلوا کر لے آتا۔

یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کی تھی۔ انہوں نے رات 12بجے اپنے اچانک خطاب میں کہا تھا کہ اب سے ہزار اور پانچ سو والے نوٹ نہیں چلیں گے اور یہ اقدام کالے دھن کو نکلوانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے خطاب میں قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کالا دھن نکلوا کر قوم میں تقسیم کریں گے۔ رونی گاﺅں والا حکم سنگھ یہی سمجھ رہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی اپنا یہ وعدہ پورا کر رہے ہیں اور لوگوں سے نکلوایا گیا کالا دھن تقسیم کر رہے ہیں، جس میں سے اس کا حصہ اس کے بینک اکاﺅنٹ میں آ رہا ہے۔

اگلے 6مہینوں میں رونی گاﺅں والے حکم سنگھ نے اکاﺅنٹ سے 89ہزار بھارتی روپے (تقریباً 1لاکھ 92ہزار روپے) نکلوائے۔ یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا جب رورائے گاﺅں والا حکم سنگھ ہریانہ سے واپس آیا اور اپنا بینک اکاﺅنٹ چیک کیا۔ اس میں صرف 35ہزار 400روپے پڑے تھے حالاکنہ یہ 1لاکھ 40ہزار روپے ہونے چاہئیں تھے۔ اس نے بینک حکام کو شکایت کی جس پر تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ رونی گاﺅں والے حکم سنگھ کی 6مہینے سے لاٹری لگی ہوئی ہے۔ رونی گاﺅں والے حکم سنگھ نے رقم نکلوانے کا اعتراف کر لیا ہے اور بینک حکام کو بتایا ہے کہ وہ تو وزیراعظم کا تحفہ سمجھ کر رقم نکلواتا رہا اور تمام رقم خرچ کر چکا ہے۔ اب اس کے پاس کچھ نہیں۔ یہ معاملہ تو پکڑا گیا ہے لیکن تاحال یہ بات غیرواضح ہے کہ بینک اس صورتحال سے کیسے نمٹے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس