صوابی،ویمن یونیورسٹی کی طالبات کی جانب سے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

صوابی،ویمن یونیورسٹی کی طالبات کی جانب سے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

  



صوابی(بیورورپورٹ)وومین یونیورسٹی صوابی کی طالبات نے اپنی چارٹر آف ڈیمانڈ میں مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں تحریری طور پر ضمانت دی جائے کہ احتجاج میں حصہ لینے والی طالبات اور جن اساتذہ کو اس میں ملوث کیا گیا ہے اُن کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی نہیں کی جائے گی انتظامیہ میں اُن افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے جو ہراسانی اور احتجاج میں طالبات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور اُن کے نقاب اُتارنے میں ملوث پائے گئے ہیں اور جنہوں نے غیر اخلاقی زبان کا استعمال کیا ہے انتظامیہ کی جانب سے تحریری معافی مانگی جائے جو اس بات کی غماز ہو کہ انتظامیہ نے والدین کو اساتذہ اور طالبات کے حوالے سے مس گائیڈ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمپیوٹر سائنس کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ طاہر سلیم کو واپس لاکر اُس کے خلاف سارے شوکاز نوٹس واپس لئے جائیں۔فزکس کے ڈاکٹر اشفاق الرحمان اور باٹنی کی ڈاکٹر زیب النساء کو خدمات کی بدولت پر نیا کنٹریکٹ دیا جائے، پولیٹیکل سائنس کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر اشفاق الرحمن کے خلاف سارے شوکاز نوٹس کا خاتمہ کیا جائے۔ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک غیر جانبدارانہ کمیٹی بنائی جائے جو جولائی 2019کے بعد یونیورسٹی سے نکالے جانے والے سارے فیکلٹی اور دیگر ممبران کی تحقیقات کرے۔گورنر اور وزیراعلی سے تحریری طور پر باور کرایا جائے کہ ایک مہینے کے اندر اندر یونیورسٹی میں خاتون وائس چانسلر کی تعیناتی کی جائے گی۔ ایم فل، ماسٹر اور بی ایس کی طالبات کے لئے سمسٹر فیس میں پچاس فی صد کمی جائے مین کمپیس سے کوٹھا کیمپس اور امن چوک تک طالبات اور فیکلٹی ممبران کے لئے مفت بس سروس شروع کی جائے۔ دونوں کیمپس میں تمام شعبہ جات کے کمپیوٹر لیب اور انٹرنیٹ مہیا کرنے کے علاوہ لائبریریوں کو فعال بنا یا جائے جبکہ ہرشعبے میں بھی متعلقہ مضمون کے حوالے سے چھوٹی سی لائبریری بنائی جائے جس میں کتابیں موجود ہوں۔ ہر شعبہ میں ایک مہینے کے اندر اندر کم ازکم پانچ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ یہ بھی ضمانت دی جائے کہ جو فیکلٹی ممبران تین سالہ کنٹریکٹ پر ملازمت کر رہے ہیں اُن کے کنٹریکٹ میں توسیع کردی جائے وہ میل فیکلٹی ممبرز ہیں یافیمیل۔ جب تک پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبرز کی تعیناتی نہیں ہوتی انہیں یونیورسٹی نہ نکالا جائے۔  پراجیکٹ میں ملازمت کرنے والے ملازمین کے کنٹریکٹ میں بھی توسیع کی جائے۔ تمام شعبہ جات کے سر براہان کو اختیارات دی جائے تاکہ وہ فیکلٹی ممبران اور شعبے کی بہتری کے حوالے سے خود بہتر فیصلے کر سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر