جی ڈی پی کی صورتحال اور ہمارا کردار

جی ڈی پی کی صورتحال اور ہمارا کردار
جی ڈی پی کی صورتحال اور ہمارا کردار

  

آج کی دنیا میں معاشی اعداد و شمار ایک گورکھ دھندہ ہیں۔ اعشاریوں اور اشاروں کی زبان کون سمجھے؟ ہم ایسوں کو تو بھوک لگتی ہے تو کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے اور بازار کی قیمتوں کو دیکھ کر بھوک مٹ جاتی ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت میں اس کا جی ڈی پی مرکزی حیثیت رکھتا یا رکھتی ہے، لیکن کتنے لوگ ہیں جن کو یہ معلوم ہے کہ یہ جی ڈی پی ہوتا کیا ہے۔ دراصل کسی بھی ملک کا جو اصل اثاثہ ہوتا ہے، وہ یہی اپنی قومی پیداوار ہی ہوتا ہے باقی سب مانگے تانگے کی باتیں ہیں۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ مختلف علاقوں کے لوگ اپنے علاقے کی پیداوار کے بدلے دوسرے علاقوں سے اپنی ضرورت کی اشیاء لیا کرتے تھے۔ پھر کرنسیاں بنیں، اس کے بعد کرنسیوں کی قدر و قیمت میں اتار چڑھاؤ آتے گئے، پھر زرمبادلہ اور پلاسٹک کارڈز وغیرہ ……اب بات اس سے بھی آگے نکل رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کرنسی کو ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ بلکہ کارڈز سے بھی جدید چیز متعارف کروا رہے ہیں۔ آپ کسی بھی ملک میں جا کر اپنا نام یا ایک مخصوص نمبر بتا کر اپنی حیثیت کے مطابق خریداری کر سکیں گے۔ کسی بھی ملک کا اصل اثاثہ آج بھی اس کی قومی پیداوار ہے۔ جب تک آپ اپنی قومی پیدوار میں اضافہ نہیں کرتے، اس وقت تک آپ دوسروں کے دست نگر رہیں گے۔ آپ کی کرنسی کی بھی کوئی قدر نہیں ہوگی۔ پاکستان کی معیشت کے مسائل میں ایک بڑا مسلہ افراط زر کا ہے، کیونکہ ہم  نوٹ زیادہ چھاپ دیتے ہیں۔ جبکہ ہماری پیداوار بہت کم ہوتی ہے تو پھر نوٹ اپنی قدر کھو بیٹھتے ہیں۔ افراط زر کے ساتھ ساتھ پاکستان کو افراط آبادی کے بھی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی بڑھنے کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ لیکن ہماری پیداواری صلاحیتوں میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہو رہا حالانکہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا پاک کلام قرآن پاک موجود ہے، جس میں بار بار توازن پر زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توازن اور میانہ روی کی تلقین فرماتا ہے۔ 

ہمارے لیے فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے، جبکہ ہماری زمین اور قومی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ قیام پاکستان سے 2018ء تک ہماری قومی پیداوار(جی ڈی پی) میں بتدریج کچھ اضافہ ہوتا رہا ہے] لیکن 2019ء اور 2020 ء میں کم ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق 2018ء میں پاکستان کا جی ڈی پی 314 بلین امریکی ڈالر تھا جو 2019 ء میں 278 اور 2020ء میں 270 ہوگیا۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ میری  سوچ کے مطابق ہم من حیث القوم سست لوگ ہیں اور محنت سے جی چراتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں، اپنے لیے دولت اکٹھی کرنے کے آسان طریقے استعمال کرتے ہیں اور جلد امیر ہونا چاہتے ہیں۔ 

پاکستان ایک زرعی ملک تھا(کیونکہ اب نہیں رہا) لیکن ہم نے زراعت کے ساتھ جو کیا ہے۔ اب اس ملک کو زرعی ملک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آج تک کسی حکومت نے نہ تو زرعی اصلاحات کیں نہ کوئی مستقل زرعی پالیسی بنائی جس سے قومی پیداوار میں اضافہ ہو سکے، جن جاگیرداروں کے پاس ہزاروں ایکڑز زمینیں ہیں، انہوں نے اپنی ضرورت یا عیاشی کی حد تک وہ زمینیں آباد کر رکھی ہیں اور جن کے پاس زرعی زمین کنالوں میں ہے، انہوں نے اس لیے غیر آباد کر رکھی ہے کہ اتنی تھوڑی زمین سے ان کو روزی میسر نہیں ہوتی۔ لہٰذا وہ لوگ بیرون ملک چلے جاتے ہیں یا پھر زمین بیچ کر کوئی کاروبار کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف آبادی کی زیادتی کے سبب ہماری زرعی زمینوں پر دھڑا دھڑ ہاؤسنگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں اور زرعی زمین سکڑ رہی ہے۔ یہ رحجان بہت ہی خطرناک ہے۔ ہمارے عوام کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ ان زمینوں سے جو فصل حاصل ہوتی ہے، وہ ہماری ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ قومی پیداوار میں بھی اضافہ کرتی ہے اور ہمارا قیمتی زرمبادلہ بچاتی ہے۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ اگر ہم 4 من گندم یا دو بوری چاول اگا بھی لیں گے تو کیا فائدہ؟ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ قومی پیداوار میں ہم نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ہے اور 4 من گندم یا دو بوری چاول پیدا کر کے 50 ڈالر کا زرمبادلہ کمانا ہے یا بچانا ہے۔ 

اسی طرح ہماری صنعت بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔ صنعتی یونٹ بند پڑے ہیں یا بیمار ہیں۔ اس شعبے میں بھی تحقیق اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ ہمارا سرمایہ دار کاروبار بڑھانے سے زیادہ فوری منافع میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ جہاں تک قدرتی وسائل کا تعلق ہے، ان کی تلاش کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بیرونی کمپنیاں بھی پاکستان کا رخ نہیں کرتیں۔ ہماری صنعت میں جدیدیت کا فقدان ہے۔ ہمارے پاس بہترین خام مال موجود ہے لیکن تحقیق اور تکنیک کا فقدان ہے۔ پاکستان میں بہترین چمڑہ ہے، لیکن اچھے جوتے، بیگز اور جیکٹیں ہمیں درآمد کرنا پڑ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ چین، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور ترکی سے چمڑے کی جو مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں وہ پاکستانی چمڑے ہی کی بنی ہوتی ہوں۔ پاکستان میں آج بھی بہترین پھل اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں، لیکن منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ عوام اور حکومت کو اپنی زرعی زمینوں کو بچانے اور زرعی اصلاحات کے لیے کام کرنا چاہیے، ورنہ ہم نئی نسل کو ایک سنگین بحران میں مبتلا کر دیں گے۔ 

مزید :

رائے -کالم -