یہ”آوے کا آوا“ کدھر جا رہا ہے؟

یہ”آوے کا آوا“ کدھر جا رہا ہے؟
یہ”آوے کا آوا“ کدھر جا رہا ہے؟

  

آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو خبروں کی اتنی بھرمار ہے کہ تبصرے کے لئے انتخاب مشکل ہو رہا ہے پھر بھی نمایاں اور اہم ترین کو دیکھا جائے تو اپنے منفرد اور جارحانہ انداز تخاطب سے ملک گیر شہرت پانے والے علامہ خادم حسین رضوی کا سانحہئ ارتحال اور عظیم النظیر جنازہ، پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ عام، میاں نوازشریف کی علالت اور ان کی والدہ ماجدہ کے انتقال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ حافظ خادم حسین رضوی پانچ برس سے حکمرانوں کے اعصاب پر سوار تھے۔ نواز دور میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ ”نامعلوم افراد“ کے اشارے پر دارالحکومت میں گھس کر پوری حکومت کو لرزہ براندام کر رہے ہیں تب ختم نبوت کے معاملے پر ایک آئینی ترمیم کا معاملہ تھا پھر ان کا دھرنا ختم ہوا مگر ان کی توپوں کی  حکمرانوں پر گولہ باری جاری رہی۔ اس بار پھر وہ جم غفیر لے کر نکلے اور اسی طرح فیض آباد چوک بلاک کر کے وفاقی دارالحکومت میں سرکاری انتظام و انصرام کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب حکومت تو نا معلوم افراد کے پسندیدہ لوگوں کی بتائی جا رہی تھی، مگر معاملہ بین الاقوامی تھا۔ فرانس میں توہین رسالت پر مبنی خاکوں پر احتجاج کیا جا رہا تھا۔ پہلی بار ایک جمہوری اور منتخب سول حکومت کے دور میں پُر امن مظاہرین کی آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور واٹر کینن کے کیمیکل ملے (بقول مظاہرین) پانی سے تواضع کی گئی، مگر گھنٹوں کے اس ظالمانہ آپریشن کے باوجود مظاہرین کو منتشر نہ کیا جا سکا۔ پولیس کے پاس آنسو گیس کے شل ختم ہو گئے مگر مظاہرین ڈٹے رہے چنانچہ حکومت کو علامہ صاحب اور ان کے نمائندوں سے معاہدہ کرنا پڑا جس میں مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔

 برستی بارش اور آنسو گیس کے کثیف دھوئیں میں بیٹھے اس عاشق رسول کی طبیعت پہلے ہی خراب تھی، وہ بخار میں مبتلا تھے۔ سردی، دھوئیں اور بارش نے انہیں شدید متاثر کیا، وہ سخت بیمار پڑ گئے، انہیں بمشکل لاہور ان کے گھر لایا گیا۔ طبیعت نہ سنبھل سکی تو انہیں جمعرات کی صبح ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ ان کی رحلت کی خبر ان کے چاہنے والوں کے دلوں پر بجلی بن کر گری۔ وہ سکتے میں آگئے کسی کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ سخت سردی میں دھرنے کے دوران مجاہدانہ کردار ادا کرنے والے یوں اچانک  کیسے جدا ہو گئے۔ ان کے چاہنے اور ماننے والے کشاں کشاں لاہور پہنچے جہاں ہفتے کی دوپہر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ان کا جنازہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا جنازہ خود دیکھا ہے جو قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہوا تھا۔ پورا سٹیڈیم بھرا ہوا تھا۔ وہ اپنے وقت 1979ء کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ راقم نے 1963ء میں خاکسار تحریک کے بانی علامہ مشرقی کا جنازہ بھی فیروز پور روڈ اچھرہ لاہور میں دیکھا تھا وہ ڈسپلن کے اعتبار سے شاندار مظاہرہ تھا مگر شرکاء کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ ڈاکٹر اسرار احمد کا جنازہ بھی بڑے جنازوں میں شمار ہوتا رہا، مگر ممتاز قادری کا لیاقت باغ راولپنڈی میں جنازہ ان سب پر بازی لے گیا۔ اسی واقعے سے علامہ خادم رضوی ابھر کر سامنے آئے تھے۔ اب جب علامہ خادم  حسین رضوی خود رخصت ہوئے تو ان کا جنازہ ان سب سے کئی گنا بڑا تھا…… حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

پی ڈی ایم کے کامیاب جلسوں میں ایک اور اضافہ پشاور کا جلسہ عام ہے، جو شرکاء کی تعداد کے حساب سے کراچی اور کوئٹہ کے جلسوں سے شاید کم ہو، مگر بہت بھرپور تھا۔ جوش و خروش بھی دیدنی تھا۔ اس جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اس لئے خطاب نہ کر سکے کہ میاں صاحب کی والدہ محترمہ شمیم اختر صاحبہ لندن میں عین اس وقت انتقال کر گئیں جب جلسہ سج چکا تھا مریم نواز نے صرف اپنی دادی کی رحلت کا اعلان کیا اور چلی گئیں …… بیگم شمیم اختر لندن میں فوت ہوئیں، ایک نماز جنازہ وہاں ہوئی، جس میں ان کے بیٹے میاں نوازشریف، پوتے اور لیگی رہنما و کارکنان شریک ہوئے۔ اس طرح میاں نوازشریف مخالفین کے اس طعنے سے بچ گئے کہ وہ کیسے بزدل بیٹے ہیں کہ گرفتاری کے خوف سے والدہ کے جنازے میں شریک ہونے پاکستان نہیں آئے۔

پشاور کے جلسہ عام میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا خطاب کلیدی تھا۔ انہوں نے علامہ خادم حسین رضوی مرحوم، بیگم شمیم اختر مرحومہ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی وفات پر اظہار تعزیت کے بعد انتہائی جارحانہ تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ جن کو ”نامعلوم افراد“ کہا جاتا ہے ان کا سب کو معلوم ہے۔ محمود اچکزئی نے پشتو میں خطاب کیا اور الزام لگایا کہ وطن عزیز میں خرابیوں کے ذمہ دار ہمارے  ادارے ہیں۔ کہا جا رہا تھا کہ میاں نوازشریف کا رویہ جارحانہ ہے وہ  نام لے لے کر دشنام طرازی کر رہے ہیں جو وطن دشمنی ہے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ اس ”جرم“ میں میاں صاحب تنہا نہیں ہیں بلکہ ”آوے کا آوا“ ہی مروجہ حدود و قیود میں رہنے سے انکاری ہے۔ یہ ایسی روش ہے جس پر قبل ازیں کبھی کوئی نہیں چلا تھا۔ اگر ایسا طرز تخاطب رواج پا جائے تو محترم اداروں کا وقار مجروح ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس کے لئے خود محترم اداروں کے تھنک ٹینکس کو بھی غور کرنا ہوگا کہ یہ نوبت کیوں آ رہی ہے؟ اور اس کا تدارک کیسے ہو؟ کیا جبر اور سختی کے روایتی طریقوں سے اس غیر روایتی مسئلے کا حل ممکن ہے؟ یا اعلانیہ اور نا دیدہ پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت آن پڑی ہے؟

مزید :

رائے -کالم -