جی بی کی نئی حکومت سے توقعات

جی بی کی نئی حکومت سے توقعات
جی بی کی نئی حکومت سے توقعات

  

گزشتہ روز (جمعہ 20نومبر 2020ء) چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مسٹر لی جیان ژاؤ  نے ٹویٹ کیا: ”چین، پاکستان کی ان مثبت کاوشوں اور کنٹری بیوشن کو سراہتا ہے کہ جو بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف کی جا رہی ہے۔ وہ تمام کوششیں  اور وہ تمام حربے جو CPEC کو سبوتاژ کرنے کے لئے (انڈیاکی طرف سے) روبہ عمل لائے جا رہے ہیں، وہ ناکام ہوں گے“…… یہی بات لی جیان نے اس ٹویٹ سے دو تین روز پہلے اپنی ریگولر پریس بریفنگ میں بھی ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی تھی کہ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار بابر نے اپنی ایک مشترکہ کانفرنس میں اس بات کے جو بلاتردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے تھے کہ انڈیا، پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبوں کی تعمیر و تشکیل کر رہا ہے اور ان کی جو فنڈنگ کر رہا ہے تو وہ بالکل مبنی برحقیقت تھے۔ پاکستان نے انڈیا کے ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت بھی اس ڈوزیر میں دیئے تھے۔ ان شواہد کے بعد اس امر میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ ہندوستان CPEC کو ناکام بنانے پر تُلا ہوا ہے لیکن چین انڈیا کی ان چالوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے اس ٹویٹ سے پہلے انڈیا کے وزیراعظم نے بھی ایک ٹویٹ میں فرمایا: ”ہماری سیکیورٹی فورسز نے کمال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم بھگوان کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہماری فورسز جاگ رہی ہیں اور دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے میں کامیابی سے ہم کنار ہو رہی ہیں۔ ابھی کل ہی ان فورسز نے پاکستان کی طرف سے لانچ کئے گئے 4دہشت گردوں کو پکڑا ہے اور ان سے بہت بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔ ان پاکستانی دہشت گردوں کا تعلق جیش محمد سے تھا“۔

 امریکہ 20برس تک افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہر طرح کے حربے روبہ کار لاتا رہا لیکن نامراد ہو کر وہاں سے نکلا اور اب وسط جنوری 2021ء تک اس کے صرف 2500ٹروپس افغانستان میں رہ جائیں گے۔ ناٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے میں جس عجلت کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ اہلِ مغرب کو بہت مہنگی پڑے گی۔ بندہ پوچھے ناٹو خود افغانستان سے کیوں نکلا تھا؟…… امریکہ نے تو افغانستان میں اپنے ایک لاکھ سے زیادہ فوجی رکھ کر دیکھ لیا تھا کہ اس کی مرادیں بر نہیں آ سکتیں۔ تاریخ نے بارہا اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ فوجی طاقت کے لحاظ سے کمزور ملک اپنی حکمت عملی سے طاقتور جارح کو بغیر لڑے بھی شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔ چین کے جنرل سن تزو کا مقولہ بار بار سچ ثابت ہوا ہے اور اب 21ویں صدی میں بھی درست ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف، افغانستان میں صرف امریکہ ہی نہیں تھا اس کے ہمراہ ناٹو ممالک کے علاوہ انڈیا اور اسرائیل بھی تھے۔

فطرت کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو دوا بن جاتا ہے اور رات کی ظلمت کی جب انتہا ہو جاتی ہے تو سپیدۂ سحر نمودار ہونے لگتا ہے…… دو اڑھائی برس پہلے پاکستان کے ’درد‘ کی بھی حد ہو چکی تھی۔ اس کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا اور لوٹنے والے باہر سے نہیں آئے تھے، اپنے ہی لوگ تھے جو حکمرانی کے لبادے میں ڈاکہ زنی کرتے رہے۔ فطرت کا اصول کہہ رہا تھا کہ اب پاکستان یا تو صفحہ ء ہستی سے مٹ جائے گا یا اپنے لوٹنے والوں کو مٹا دے گا۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر 1985ء میں کوئی ’کرکٹر‘ پاکستان کا حکمران بن جاتا تو اب تک پاکستان، دنیا کی چوتھی بڑی پاور بن چکا ہوتا (امریکہ، روس اور چین کے بعد)……

اس تناظر میں دیکھا جائے تو نوازشریف کا گلہ عمران خان کے لانے والوں (یعنی پاکستانی فوج) کے خلاف نہیں، چین کے خلاف ہونا چاہیے۔ سی پیک، پاکستان آرمی کا پراجیکٹ نہیں، چین کا وہ فلیگ شپ پروگرام ہے جو BRI کا ہر اول ہے۔ اس لئے میں نے 15نومبر سے پہلے لکھے گئے کالموں میں پیشگوئی کر دی تھی کہ جی بی کے اس الیکشن میں PTI کامیاب ہو گی۔ میں کوئی ’ولی اللہ‘نہیں، ایک گنہ گار تجزیہ نگار ہوں …… اور وہی ہوا…… دیکھ لیجئے سات آزاد اراکین جو اس الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں ان میں سے چھ نے PTI میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ساتواں ’ٹوٹرو‘ بھی باہر نہیں رہ سکتا۔ آج یا کل وہ بھی سات سواروں میں شامل ہو جائے گا اور نہ بھی ہوا تو 17اراکین کی گنتی تو پوری ہو چکی ہے۔ آج کل میں PTI، جی بی میں اپنی حکومت بنا لے گی اور CPECکا یہ دروازہ، آہنی دروازہ بن جائے گا۔ اس سے جو بھی سر ٹکرائے گا، اپنا سر پاش پاش کروا لے گا…… اور امید ہے کہ اول تو کوئی آگے ہی نہیں بڑھے گا۔ الیکشن مہم کے دوران ہم نے دیکھا کہ بلاول زرداری اور مریم صفدر نے کیا کیا جتن نہیں کئے لیکن جب نتائج کا اعلان ہوا اور پی پی پی کو صرف دو تین سیٹیں ملیں تو بلاول غصے میں دیوانے ہو کر باہر نکلے۔ ان کا واویلا سن کر اور ان کے چہرے کے نقوش دیکھ کر مجھے خوف آنے لگا کہ خدا نہ کرے یہ اپنی ہی شعلہ بیانی سے کہیں خاکستر ہو کر نیچے نہ گر جائیں۔ ان کا حالِ زار دیکھ کر مجھے بلاول کے نانا یاد آئے۔

یہ 1970ء کی بات ہے۔میں کراچی میں ایک آرمی کورس کر رہا تھا۔ اعلان ہوا کہ آج سہ پہر ذوالفقار علی بھٹو، چیئرمین نو تشکیل شدہ سیاسی پارٹی (PPP) ایک جلسہ ء عام سے خطاب کریں گے۔ ان کی شعلہ نوائی 1965ء کے دوران ہم دیکھ چکے تھے۔ سارے پاکستان کو ان کی اسی آتش بیانی نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ہم اپنے دوسرے کورس میٹ دوستوں کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچے۔جلد ہی بھٹو صاحب تشریف لائے۔ پہلے بڑے سکون سے تقریر کا آغاز کیا، پھر ٹوپی اتاری، پھر کوٹ اتارا اور آخر میں قمیض کی آستینیں چڑھا کر مجمع کو ششدر کر دیا۔ بلاول بھی اس روز اپنے نانا کی تقلید کرتے نظر آ رہے تھے۔ ان کا جواں سال چہرہ بھی بھٹو صاحب کے ادھیڑ عمر چہرے کا مثنّیٰ بن گیا تھا…… ان کو دیکھ دیکھ کر مجھے فطرت کا ایک اور اصول یاد آ رہا تھا اور فارسی زبان کا یہ مقولہ بھی کہ: ”اگر پدر نتواند،پسر تمام کند“……

ذوالفقار علی بھٹو کی تقلید بعد میں کئی اور دوستوں نے بھی کرنے کی کوشش کی۔ پرویز مشرف کے دور میں ایک جلسہ میں اس وقت کے گورنر پنجاب جنرل (ر) خالد مقبول بھی یاد آئے۔ اگلے روز عسکری بینک میں ان سے ملاقات ہوئی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ یہ وہی جنرل صاحب ہیں جن کی زبان جنرل مشرف کی مدح سرائی میں اس روز اس طرح لڑکھڑائی کہ تمام آدابِ تقریر بدل گئے اور قریب تھا کہ سٹیج پر گرجاتے کہ لوگوں نے پکڑا اور ’تسلی‘ دی…… کچھ یہی حال جناب شہبازشریف کا بھی تھا۔ وہ بھی بارہا اس کیفیت میں دیکھے گئے۔ روسٹرم پر رکھے مائیکروفونوں کی پلٹن کو لہراتے بازوؤں کی ضرب سے چاروں شانے چت گرا کر خود بھی گر جانے سے بال بال بچ جاتے تھے!…… یہ منظر آج بھی ٹی وی پر دیکھ کر انگریزی کے اس مقولے کے بخیئے ادھڑتے دیکھتا ہوں تو سیاستدانوں کو ’داد‘ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا!

Speech is silver but silence is gold!

قارئین جب یہ سطور پڑھیں گے تو شاید جی بی کی صوبائی حکومت / کابینہ تشکیل ہو چکی ہو گی۔ نیا وزیرعلیٰ بھی سامنے آ چکا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت اس نئے صوبے میں اصلاحات کا کیا پیکیچ لے کر آتی ہے۔ لوگوں کی خواہشات اور تقاضے چند در چند ہیں، ان کو پورا کرنے کے لئے وقت چاہیے۔ سڑکیں مرمت کرنا، نئی شاہراہیں بنانا اور بجلی کی فراہمی کے پراجیکٹ ایک طرف لیکن دوسری طرف بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دینا، صحت، تعلیم اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ اس خطے کے اسی طرح کے بڑے بڑے چیلنج ہیں جن سے عہدہ برآ ہونے کے لئے حال ہی میں جنوبی بلوچستان کے 9اضلاع میں ایک بڑا پیکیج دیا گیا ہے۔ انہی خطوط پر بلکہ اس سے بھی بڑا پیکیج جی بی کے لئے ضروری ہے۔ 12،13لاکھ کی آبادی کو  بلوچستان کے صرف 9 جنوبی اضلاع کی چھوٹی سی آبادی کے مقابل رکھ کر اسی نسبت سے Packages کے ایک بڑے سلسلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -