زندگیاں سلامت رہیں تو سیاست بھی ہوگی

زندگیاں سلامت رہیں تو سیاست بھی ہوگی
زندگیاں سلامت رہیں تو سیاست بھی ہوگی

  

تحریر: محمد بلال نصراللہ

موسم سرما کے آغاز کے بعد کرونا کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا کیسز میں تیزی کی ایک وجہ موسم کا سرد ہونا اور دوسری بڑی وجہ عوام کی کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی ہے۔   عام مشاہدے میں آیا ہے کہ عوام کرونا ایس او پیز کو یکسر نظر انداز کر چکے، بازاروں ،شادی ہالز  اور دیگر پبلک مقامات پر نہ تو عوام فیس ماسک کا استعمال کررہے ہیں اور نہ ہی سماجی فاصلوں کو کسی خاطر میں لایا جارہا ہے۔

 دوسری طرف سیاسی جماعتیں بھی قدرے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ایک دوسری کو نیچا دکھانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن نے پہلے گلگت میں عوامی اجتماعات کیے دونوں دھڑے اس کوشش میں تھے کون زیادہ لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے۔  اس وقت جب کرونا کیسز میں شدت آرہی تھی تو کسی نے عوام کا خیال نہ کیا، اب صورتحال یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دو ہزار سے زاید کیسز سامنے آرہے ہیں جو کہ ایک تشویشناک صورتحال کی جانب اشارہ ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ہوش آہی گیا اور جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی اور پی ٹی آئی نے اپنے جلسے منسوخ کرنے کا اعلان کردیا، لیکن اپوزیشن سمجھنے کو تیار ہی نہیں  وہی اپوزیشن جو مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کررہی تھی آج کرونا کو مذاق اور جلسوں کو روکنے کی سازش قرار دے رہی ۔ جبکہ حکومت کی جانب سے بھی ابھی مختصر اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے جیساکہ جلسوں کی منسوخی کے بعد وزیراعظم نے فیصل آباد میں تقریبات سے خطاب کیا۔ حکومت بھی ابھی تک کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہے،  میگا سٹیز میں بازار بھرے پڑے ہیں۔  لیکن اس او پیز کا اطلاق کہیں نظر نہیں آرہا۔  حکومت اور اپوزیشن کی جاری اس کشمکش میں عوام بھی کرونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔

 دوسری طرف این سی او سی بار بار شہریوں سے ایس او پیز پر عمل کرنے کی تاکید کررہا ہے۔ آج وزرائے تعلیم کے اجلاس میں صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کی بندش کا بھی اعلان کردیا گیا  ہے۔ تعلیمی ادارے  کرونا کے باعث 26اکتوبر سے 24 دسمبر تک بند رہیں گے جبکہ 25 دسمبر سے 10جنوری 2021تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی اور 11جنوری کو تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں گی۔ اب اس ساری صورتحال کو دیکھا جائے تو کسی بھی طور  سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنا ملک میں دوبارہ لاک ڈاؤ ن کی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ اور ملکی معاشی صورتحال پہلی ہی اتنی پتلی ہو چکی ہے کہ ملک دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا ، کرونا کی پہلی لہر کے دوران ہی ملکی معاشی صورتحال اس قدر گراوٹ کا شکار ہو چکی کہ عام شہری کی زندگی مہنگائی کے باعث اجیرن ہو ہی چکی تھی رہی سہی کسری کرونا کے باعث لاک ڈاؤن نے نکال دی ۔ میری نظر میں مکمل لاک ڈاؤن بھی صورتحال کا حل نہیں ۔ وباسے نمٹنے کا طریقہ ایک ہی ہے کہ خود کو محدود کیا جائے اور سماجی فاصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے تمام سرگرمیاں  جاری رہیں، شہری فیس ماسک کا استعمال یقینی بنائیں  ۔

اپوزیشن بھی اس وقت سیاست کو چھوڑ کر عوام کی زندگیوں کا خیال کرے۔  کرونا صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہو اور شہریوں کو آگاہی مہم میں حکومت کا ساتھ دے۔ زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں ، مشہور مقولہ ہے جان ہے تو جہان ہے، زندگیاں سلامت رہیں گی تو سیاست بھی ہو جائے گی ، حکومت بھی یہیں ہے اپوزیشن بھی اور عوام بھی۔ حکومت کی کارکردگی بھی ایسی ہے کہ فوری طور پر حکومت معاشی صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔ اس وبائی صورتحال سے نمٹ لینے کے بعد سب کچھ ہو جائے بس اس وقت ملک میں یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ جس طرح کرونا کی پہلی لہر کا مقابلہ کیا اب بھی  اس مشکل صورتحال سے نکل سکیں۔

۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -