قطر ایئرپورٹ کے باتھ روم میں بچہ پھینک جانے والی خاتون کی شناخت ہوگئی، شرمناک کہانی بھی منظرعام پر

قطر ایئرپورٹ کے باتھ روم میں بچہ پھینک جانے والی خاتون کی شناخت ہوگئی، ...
قطر ایئرپورٹ کے باتھ روم میں بچہ پھینک جانے والی خاتون کی شناخت ہوگئی، شرمناک کہانی بھی منظرعام پر

  

دوحہ (ویب ڈیسک)قطری حکومت نےدعویٰ کیاہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں دوحہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باتھ روم میں نوزائیدہ بچے کو پھینکنے والی خاتون کی شناخت کرلی گئی،گزشتہ ماہ اکتوبر میں کے آغاز میں دوحہ ایئرپورٹ کے حکام کو آسٹریلیا جانے والی فلائیٹ کے وقت باتھ روم سے ایک نوزائیدہ بچی ملی تھی، جس پر حکام نے طیارے سے خواتین کو اتار کر ان کا ’زچگی معائنہ‘ کیا تھا۔مذکورہ خبر اکتوبر کے آخر میں اس وقت سامنے آئی تھی جب کہ آسٹریلوی حکومت نے قطری ایئرپورٹ پر اپنی شہری خواتین کے استحصال پر مذمت کی تھیتاہم قطری حکام نے خواتین کے ’زچگی معائنے‘ پر کہا تھا کہ مذکورہ قدم حفاظت کے پیش نظر اٹھایا گیا، کیوں کہ حکام کو خدشہ تھا کہ بچے کو جنم دینے والی خاتون کی صحت بھی خطرے میں ہوگی۔

ڈان نیوز کے مطابق قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قطری حکام کی جانب سے 23 نومبر کو جاری کیے گئے بیان میں تصدیق کی گئی ایئرپورٹ کے باتھ روم میں بچی کو چھوڑ جانے والی خاتون کی شناخت کرلی گئی، باتھ روم میں نوزائیدہ بچی کو چھوڑ جانے والی خاتون کا تعلق ایشیائی ملک سے ہے اور ان کے ایک مرد کے ساتھ ’ناجائز جنسی تعلقات‘ تھے۔

حکام کے مطابق خاتون نے بچی کو جنم دینے کے بعد اس کے والد کو تصویر بھی بھیجی، تاہم بعد ازاں انہوں نے بچی کو ایئرپورٹ کے باتھ روم میں پھینک دیا، بچی کے والد کی بھی ڈی این اے کے ذریعے شناخت کرلی گئی اور انہوں نے بھی خاتون کے ساتھ ’ناجائز جنسی تعلقات‘کا اعتراف کیا۔قطری حکام نے بتایا کہ بچی کو جنم دینے کے بعد باتھ روم میں چھوڑ جانے والی خاتون کے خلاف فوجداری مقدمات عائد کیے جائیں گے اور اگر ان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں 15 سال تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے، بیان میں یہ تصدیق بھی  کی گئی کہ ایئرپورٹ کے سیکیورٹی افسران پر بھی فوجداری مقدمات عائد کرکے کارروائی کی جائے گی اور ان پر الزام ثابت ہونے پر انہیں تین سال جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بچی کے والد پر بھی کوئی مقدمہ دائر کیا جائے گا یا نہیں اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ بچی کی والدہ اور والد اس وقت کہاں ہیں اور ان کا تعلق ایشیا کے کس ملک سے ہے؟اگرچہ مذکورہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد واقعہ ہے تاہم قطر میں پہلے بھی نوزائیدہ بچے مختلف مقامات سے ملتے رہے ہیں۔قطر میں شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش جرم ہے اور مذہبی حوالے سے بھی اس کی ممانعت ہے تاہم وہاں کام کرنے والی غیر ملکی خواتین کو متعدد بار نوزائیدہ بچوں کو جنم دینے کے بعد پھینکنے میں ملوث پایا گیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -