قصور تھانے میں تشدد کا نشانہ بننے والی دونوں خواتین دراصل کون ہیں اور ڈکیتی کیس سے کیا تعلق ہے ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں 

قصور تھانے میں تشدد کا نشانہ بننے والی دونوں خواتین دراصل کون ہیں اور ڈکیتی ...
قصور تھانے میں تشدد کا نشانہ بننے والی دونوں خواتین دراصل کون ہیں اور ڈکیتی کیس سے کیا تعلق ہے ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں قصور کے تھانہ میں ایک خاتون دو خواتین کو زمین پر الٹا لٹا کر چپل سے تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی ،اس میں نظر آنے والی متاثرہ خواتین کے بارے میں معلومات سامنے آ گئی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ویڈیو میں تشدد کرنے والی خاتون پولیس کی ملازم نہیں بلکہ پرائیویٹ خاتون ہے جبکہ ویڈیو بنانے والی لڑکی پولیس کانسٹیبل عائشہ ہے جس کی شناخت عائشہ کے نام سے ہوئی ۔ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پرائیویٹ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ پولیس کانسٹیبل خاتون اور پولیس افسر کو بھی حراست میں لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا گیاہے ۔

سوشل میڈیا پر دو وڈیو وائرل ہوئی ہیں۔ ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک خاتون کو فرش پر الٹا لٹایا گیا ہے۔ ایک برقع پوش خاتون جنھوں نے چہرہ نہیں ڈھانپا ہوا ہے، خاتون کی پیٹھ پر جوتے برسا رہی ہے۔ فرش پر لیٹی ہوئی خاتون اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنی پیٹھ پر ہاتھ کرتی ہیں تو وہ اس کو ہاتھ ہٹانے کو کہتی ہیں۔برقع پوش خاتون فرش پر لیٹی ہوئی خاتون پر تابڑ توڑ جوتے برساتی رہتی ہیں اور بالوں سے بھی کھینچتی ہیں۔ یہ وڈیو کوئی دو منٹ کے لگ بھگ ہے۔

دونوں گرفتار ملزم خواتین لاہور لاری اڈے کی رہائشی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے قصور میں ہونے والی ایک ڈکیتی میں معاون کا کردار ادا کیا ہے۔ دونوں خواتین ڈکیتی کا نشانہ بننے والے گھر میں بحثیت ملازمہ کام کرتی رہی تھیں اور ا±نھیں لاری اڈا لاہور سے ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -قصور -