پاکستانی پیاز  چین میں

پاکستانی پیاز  چین میں
پاکستانی پیاز  چین میں

  

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اس وقت پاکستان میں مختلف منصوبہ جات کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور یہ امر قابل زکر ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی و تجارتی شعبے میں تعاون فروغ پا رہا ہے۔  سی پیک کے تحت پاکستان میں 25 بلین ڈالرز سے زائد  کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ گزشتہ آٹھ سالوں میں روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ سی پیک چین کے مجوزہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے یہی وجہ ہے کہ چین اور پاکستان دونوں اسے کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

معاشی و تجارتی روابط کے فروغ کی بات کی جائے تو چین کے لیے پاکستانی برآمدات میں اضافہ دو اعتبار سے نہایت اہم ہے۔اول ،اس سے یقیناً پاکستانی معیشت کی نمو کو فروغ ملے گا اور دوسرا پاکستانی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کی ترقی بھی ممکن ہو گی۔یہاں چین میں قیام کے دوران بخوبی اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ چینی کمپنیاں اپنی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی ہیں۔آپ اگر انتہائی کم نرخ پر بھی مارکیٹ سے یا آن لائن خریداری کرتے ہیں تو  پہلی بات جو فوری آپ کو متاثر کرے گی وہ اس چیز کی کوالٹی کے ساتھ ساتھ  زبردست پیکنگ اور اچھی پریزنٹیشن ہو گی۔اس سے یقیناً صارفین کا حوصلہ بڑھتا ہے کہ وہ زیادہ خریداری کریں۔اس کے برعکس پاکستان میں چیزیں تو بہت اچھی ہوں گی ،کوالٹی بھی عمدہ ہو گی مگر جو پریزنٹیشن کا انداز ہو گا وہ  ایسا ہوتا ہے کہ صارف بعض اوقات ایک مرتبہ خریداری کے بعد ہی بددل ہو جاتا ہے۔یہاں سی پیک کی بدولت پاکستانی صنعتکار چینی کمپنیوں سے سیکھ سکتے ہیں اور اپنی مصنوعات کی عمدگی سے مارکیٹنگ کر سکتے ہیں۔

 پاکستانی برآمدات کے فروغ سے متعلق ابھی حال ہی میں ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ چین اور پاکستان نے پاکستانی پیاز کی چین برآمد کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں جو یقیناً پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ایک زبردست خوشخبری ہے۔ منگل کے روز  پاکستان میں چینی سفیر  نے چین کی کسٹمز جنرل ایڈمنسٹریشن کی نمائںدگی کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ساتھ  " پاکستانی پیاز کی چین برآمد کے لیے معائنہ اور قرنطینہ کی ضروریات کے پروٹوکول" پر باضابطہ دستخط کیے۔یہ اسلام آباد میں زرعی برآمدات کے لیے پہلا معاہدہ ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستانی پیاز نے چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے اس موقع پر کہا کہ چین کے پاس انتہائی وسیع اور مضبوط صارف مارکیٹ ہے اور امید ہے کہ پروٹوکول پر دستخط کے بعد پاکستان چین کو مختلف اعلیٰ اقسام کی پیاز برآمد کر سکتا ہے۔ اس وقت چین پاکستان اقتصادی راہداری دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اس مرحلے کی ترقی کا مرکز ہے۔ مستقبل میں، پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید بڑھانے اور چین میں آم، چیری اور ڈیری سمیت دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد کو ترقی دینے کی امید رکھتا ہے۔پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ 2011 سے 2019 تک چین اور پاکستان کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کا حجم 490 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 830 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ  چکا ہے جس میں شرح اضافہ تقریباً 70 فیصد ہے۔ چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا پروٹوکول یکم جنوری 2020 سے نافذ العمل ہے اور دونوں فریقوں کی جانب سے  75فیصد مصنوعات پر بتدریج "زیرو ٹیرف" تک کمی لائی جائے گی، جس سے چینی منڈی کے مواقع کے ساتھ  پاکستان میں اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات فراہم کی جا سکیں گی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پاکستان ایک زرعی معیشت ہے جبکہ ملک کی زرخیز زمین جدید زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہے ۔یہ بات بھی اچھی ہے کہ  پاکستان میں زیر کاشت زمین کل رقبے کا تقریباً 40 فیصد ہے۔سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار کے لحاظ سے بھی پاکستان نمایاں مقام رکھتا ہے اور چین سمیت دیگر ممالک میں پاکستانی آم ،مالٹا اور چیری بہت مشہور  ہیں۔یہاں ہمارے چینی دوست پاکستانی پھلوں بالخصوص آم اور چیری سیزن کا بے تابی سے انتظار کرتے ہیں اور  یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ پھل چین میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتے ہیں اور آپ کو ایڈوانسڈ بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا زرعی شعبہ آج بھی اپنی صلاحیت کا بھرپور استعمال نہیں کر پا رہا ہے ۔ سی پیک کی تعمیر سے یہ امید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، زرعی سائنس و ٹیکنالوجی، زرعی انفراسٹرکچر کی تعمیر، اور زرعی مصنوعات کی تجارت میں تعاون کو فروغ ملے گا جس سے دونوں شراکت داروں کے لیے ٹھوس ثمرات حاصل ہوں گے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   

مزید :

بلاگ -