سندھ اسمبلی کا اجلاس ، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی ، قائد حزب اختلاف ایسی چیز ایوان میں لے آئے کہ آپ کی بھی ہنسی چھوٹ جائے

سندھ اسمبلی کا اجلاس ، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی ، قائد حزب اختلاف ایسی چیز ...
سندھ اسمبلی کا اجلاس ، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی ، قائد حزب اختلاف ایسی چیز ایوان میں لے آئے کہ آپ کی بھی ہنسی چھوٹ جائے

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے متواتر شورشرابہ اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا،ایوان کی کارروائی کے آغاز ہی میں اپوزیشن نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ہنگامہ آرائی شروع کردی , ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اچھال دی گئیں اور قائد حزب اختلاف ایوان میں اپنا میگا فون لے آئے جس پر سرکاری ارکان نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میگافون لیکر آئے ہیں کل کوئی اسلحہ بھی لیکر آسکتا ہے۔

تفصیلات کےمطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو اپوزیشن کی جانب سے اس بات پر اعتراض کیا گیا کہ کارروائی شروع کرنے میں غیر ضروری طور اتنی تاخیر کیوں کی گئی ہے؟ اس موقع پر اپوزیشن ارکان شور شرابہ کرتے ہوئے سپیکر کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے۔ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا یہ کونسا طریقہ ہے کہ صاحب لوگوں کا انتظار کیا جائے کہ جب وہ آجائیں تو اجلاس شروع ہو۔

وقفہ دعا کے دوران ایم ایم اے کے رکن اسمبلی سید عبدالرشید نے کہا کہ لیاری میں قتل و غارت گری کا آغاز ہوگیاہے،علاقے میں مظاہرے پر موٹرسائیکل سواروں نے براہ راست فائرنگ کی ،لیاری میں مسلح لوگ گھوم رہے ہیں ،دعا کریں کہ ظالموں بھتہ خوروں سے نجات ملے۔ایوان کی کارروائی کے دوران ارکان کی جانب سے دلچسپ دعائیں بھی کی گئیں۔متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیوایم)پاکستان کے محمد حسین نے کہا کہ دعا کریں کہ اللہ ڈپٹی سپیکر کو ایجنڈا پورا کرنےکی توفیق دے جبکہ پیپلز پارٹی کی ہیر سوہو نے جواباً دعا کرائی کہ سندھ حکومت کےخلاف سازشیں کرنےوالے نیست و نابود ہوں۔

 پیپلز پارٹی کے نعیم کھرل نے کہا کہ چھوٹے بڑے مسئلے ہر سیاسی جماعت میں ہوتے ہیں ،فہمیدہ سیال میری رشتے دار ہے کسی خون پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔کارروائی کے دوران اپوزیشن کے احتجاج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن نے ایوان میں غیر پارلیمانی رویہ اپنارکھا ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ارکان اسمبلی قواعد پڑھ کر نہیں آتے۔ مکیش کمار نے وزیراعظم کو کٹھ پتلی قراردیتے ہوئے کہا کہ کل ایک وفاقی وزیر نے گندم چوری سے متعلق غلط بیان دیا ہے، وفاق میں چور بیٹھے ہیں، سندھ میں کوئی گندم چوری نہیں ہوئی ، ایل این جی چور تو وفاقی حکومت میں بیٹھے ہیں، سندھ حکومت نے گندم پر 25 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، سندھ میں گندم کی سالانہ خریداری ہی 12لاکھ ٹن ہوتی ہے،کیسے ممکن ہے کہ 16لاکھ میٹرک ٹن گندم سندھ سے چوری ہوجائے؟ انکوائری تو یہ کی جائےکہ 68لاکھ گندم چوری کیسے ہوئی؟بڑے چوہے وفاقی کابینہ میں بیٹھے ہیں،سندھ سے 16لاکھ ٹن گندم چوری کا جھوٹ بولاگیا اوروفاقی کابینہ میں بیٹھ کر غلط بریفنگ دی گئی۔

مکیش کمارکے ان اشتعال انگیز ریمارکس پر اپوزیشن کے ارکان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ہنگامہ شروع کردیا۔ ڈپٹی سپیکر نے حلیم عادل شیخ اور اپوزیشن کے دیگر ارکان کے مائیک بندکرادیئے۔اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے اپنا میگا فون ہاتھ میں تھام لیا جو وہ اسمبلی میں لے آئے تھے۔ڈپٹی سپیکر نے مائیک ایم کیوایم پاکستان کے خواجہ اظہار الحسن کو دے دیا۔اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئےپاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس قادر شاہ نےکہا کہ یہ لوگ آج ایوان میں میگا فون لائے ہیں کل کوئی اسلحہ لاسکتاہے،اس لئے اس چیز کی حوصلہ شکنی کی جائے،ایوان میں سیکیورٹی کیا کررہی ہے?سپیکر اپنےاختیارات استعمال کریں،ایوان کا ماحول بہت خراب ہورہا ہے۔خواجہ اظہارالحسن نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ آج دونوں طرف سے دعا کے وقفے میں بد دعائیں دی گئیں،سپیکر کی چیئر بھی کمپرومائز نہیں ہونی چاہییے،وزیراعلی سندھ کو کئی معاملات میں اپوزیشن لیڈر کے ساتھ بیٹھنا ہوتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے،سٹینڈنگ کمیٹی میں ہمارا کوئی ممبر نہیں ہے،ناظم جوکھیو پر قرار داد لانا چاہتے تھے۔شرجیل میمن نے کہا تھا کہ لے آئیں گے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 40فیصد سندھ کی نمائندگی ہمارے پاس ہے،اسلام آباد میں آپ کے نمائندے بولتے ہیں۔ہم ہاوس کو چلانا چاہتے ہیں لیکن اس کےلئےضروری ہےکہ سندھ میں جمہوریت کاجنازہ نہ نکلے،آغا صاحب کی یادآئی تیرے جانےکے بعد، آغاصاحب پھراجلاس چلا رہے ہیں، توجہ دلاو نوٹس پر کبھی پابندی نہیں دیکھی۔انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے کہا کہ آپ ہماری بہن ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر کا مائیک بند نہ کیا جائے،اپوزیشن ارکان کا حق ان کو موقع دیا جائے۔

حلیم عادل شیخ کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار نے کہا کہ جمہوریت تو پورے ملک میں خطرے میں ہے اپوزیشن کو قائمہ کمیٹیوں میں نمائندگی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں جب چاہیں قائمہ کمیٹیوں کے الیکشن کرائیں نمائندگی لیں۔ 

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -