وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے کے سرکاری سکولوں کے حوالے سے سب سے بڑا اعلان کردیا 

وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے کے سرکاری سکولوں کے حوالے سے سب سے بڑا اعلان ...
وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے کے سرکاری سکولوں کے حوالے سے سب سے بڑا اعلان کردیا 

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سے بلوچستان کے کسی سکول میں ٹاٹ نہیں ہوگا ،شیلٹر لیس سکولوں کو عمارت دیں گے، تعلیم کے حوالے سے پانچ سالہ منصوبہ بنا رہے ہیں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مزید محنت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ،بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کی ایک بڑی وجہ تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے عملی کام کا نہ ہونا بھی تھا، تبدیلی بہتری کیلئے لائے ہیں۔

 یونیسف اور یورپین یونین کے تعاون سے بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ ٹو پروگرام کی لانچنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم تعلیم کو گھر گھر تک لے جانے اور بچوں کی سکولوں تک رسائی کو ممکن بنائیں گے،عوام ہمارا ساتھ دیں، خاص طور پر تعلیم کے فروغ کے اقدامات میں ہم سے قدم سے قدم ملا کر چلیں، ہمیں ایک قوم کی طرح آگے بڑھانا ہے۔

وزیراعلی نے کہا کہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ڈاکٹر اور اساتذہ اپنی ڈیوٹیوں پر نہیں جاتے، ان کی بڑی تعداد کوئٹہ ہی میں موجود رہتی ہے، ہمیں اس رجحان کا سختی سے خاتمہ کرنا ہوگا، تعلیم معاشرے کے ہر فردکا بنیادی حق ہے اور ہمارے ملک کا آئین بھی ملک کے تمام شہریوں کو بلا کسی تفریق تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے، تعلیم انفرادی اور اجتماعی طور پر سب کیلئے نہایت اہم ہے، تعلیم ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے، جو قوم کو معاشی دولت، معاشرتی استحکام اور سیاسی قابلیت دیتی ہے، تعلیم میں سرمایہ کاری بہتر اور پڑھی لکھی لیبر فورس،پیداواری صلاحیتوں اور ہنر مند ورکرز میں اضافہ کرتی ہے،موجودہ دور کا تقاضہ فنی مہارت، صنعتی اور پیشہ ورانہ تعلیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں صرف عوام کے مسائل کے حل کیلئے آئے ہیں، ہم نے وعدہ کیاتھا کہ جب کام کریں گے، تب عوام کے سامنے اپنی کارکردگی رکھیں گے ہم چاہتے ہیں کہ یہ حکومت اپنے کام کی وجہ سے ہی پہچانی جائے، بلوچستان کی بد حالی کی صورتحال کسی سے چھپی ہوئی نہیں، یہاں ہر شعبہ توجہ اور تبدیلی کا طلبگار ہے، ہماری  حکومت میں سب سے اہم توجہ تعلیم کے شعبہ پر ہے،ہمارا صوبہ وسیع و عریض ہونے کے باعث تعلیمی مسائل کا شکار ہے، تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کے ساتھ ساتھ طلبا کا ڈراپ آٹ ریٹ بھی زیادہ ہے جو یقینا حل طلب مسائل ہیں۔

وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ آج کی تقریب سے ہم سب  کو صورتحال کا بہتر اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہمیں صوبے کے لوگوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے ہنگامی نبیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے، ہمارے اشاریے ایسے ہیں کہ صرف افریقہ کے کسی ریجن کے برابر ہیں،آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے ہم آج بھی سکولوں میں بنیادی سہولیات پہنچانے میں لگے ہیں،سکولوں میں فرنیچر کی جگہ ٹاٹ استعمال ہوتا ہے اور بہت بڑی تعداد ایسے سکولوں کی ہے جن کی عمارت ہی نہیں ہے، آج بھی ہمارے لاکھوں بچے بچیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں، جہاں ترقیاتی کام اور روزگار ضروری ہے وہاں تعلیم کے شعبے کو بھی بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، ہمیں تعلیم کو سیاسی نعرہ بنانے کی بجائے عملی اقدامات کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی ترقیاتی پروگرام دیکھ رہے ہیں اور بجٹ میں تعلیم کے شعبے میں زیادہ اور ٹھوس منصوبوں پر کام کرنا ہے، حکومت کے ایجوکیشن سیکٹر پلان کا بھی ذکر کرنا چاہیں گے جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہمیں بہت سے وسائل کی ضرورت ہے،ہم اکیلے اس کاوش میں کامیاب نہیں ہوسکتے وہ یورپی یونین اور یونیسف کے شکر گذارہیں کہ وہ تعلیم میں ان ترجیحات پر توجہ دے رہے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے، ہماری کوشش اور فوکس بچوں کو سکولوں میں تمام ضروریات کی فراہمی اور اساتذہ کی ٹریننگ پر رہے گا۔ 

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -