ایل ڈبلیو ایم سی ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ کے لئے پْرعزم

ایل ڈبلیو ایم سی ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ کے لئے پْرعزم

  

لاہور(سٹی رپورٹر)  لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ کے لیے پْرعزم ہے۔ کوڑے سے بجلی بنانے والے فارمولہ پر ریسرچ آخری مراحل میں پہنچ گئی ہے۔سی ای او علی عنان قمر نے لکھو ڈیر میں جاری ورکنگ کا جائزہ لینے کے لیے لکھو ڈیر لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا۔سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی علی عنان قمر کا کہنا ہے کہ لکھو ڈیر لینڈ فل سائٹ پر 2014 سے 2022 تک ڈمپ کیے گئے ویسٹ کے 210 نمونہ جات لیے گئے اور ان سیپمپلز سے 40 پیرامیٹرز کو سٹڈی کیا گیا۔24 ملین ٹن سے زائد ویسٹ لکھو ڈیر اور محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ پر ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ کیلئے دستیاب ہے۔ ریسرچ کے نتائج ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ میں دلچسپی رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کیلئے معاون ثابت ہوں گے۔سی ای او علی عنان قمر کا مزید کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں ویسٹ ٹو انرجی میں دلچسپی کی حامل ہیں۔ تھائی لینڈ کی معروف کمپنی نے منصوبے پر کام کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔جرمن اور تھائی لینڈ کی دیگر کمپنیوں کو بھی ریسرچ کے لئے مدعو کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ نے پنجاب میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبہ کے لئے 20ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں۔شہریوں کو ویسٹ ٹو انرجی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پنجاب جلد ہی محکمہ توانائی،اسٹیک ہولڈرز بشمول ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر سے توانائی اور ماحولیات کے ماہرین کو مدعو کر کے ایک وسیع سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد کرے گی۔ترجمان ایل ڈبلیو ایم سی کے مطابق ویسٹ ریسرچ کا مقصد ڈمپنگ کوڑے کے نمونہ جات میں لیچرڈ، کلوروسڈ، ہائیڈوجن،کاربن،نائیٹروجن،سلفر اور اکسیجن کی فیصد مقدار کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنا ہے۔نمونہ جات چار فٹ،آٹھ فٹ اور بارہ فٹ گہرائی سے حاصل کیے گئے،سٹڈی کئے گئے 210 نمونہ جات ایشین انوائر مینٹل سروسز لیب میں بھجوا دیئے گئے ہیں۔

۔مزید براں سی ا ی او ایل ڈبلیو ایم سی علی عنان قمر کے مطابق پاکستان میں پہلی بار اس نوعیت کی ویسٹ کریکٹرائزیشن سٹڈی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔مختلف سائنسی طریقہ کار کے ذریعے 2014 سے 2022 تک ڈمپ کیے گئے ویسٹ کو انرجی پراجیکٹ کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -