’لکس سٹائل ایوارڈز‘‘کی تقریب کل لاہور میں ہوگی

 ’لکس سٹائل ایوارڈز‘‘کی تقریب کل لاہور میں ہوگی

  

لاہور(فلم رپورٹر)’’لکس سٹائل ایوارڈز‘‘کی تقریب کل لاہور میں منعقد کی جائے گی۔اس برس ہونے والی  نامزدگیوں میں حیران کن طور پر موسیقی کی چار مختلف کیٹیگریز میں ایک بھی خاتون کو نامزد نہیں کیا گیا۔ایوارڈز میں میوزک کی چار کیٹیگریز میں ’سنگر آف دی ایئر، سانگ آف دی ایئر، موسٹ اسٹریمنگ سانگ آف دی ایئر اور بیسٹ لائیو پرفارمنس‘ میں ایک بھی خاتون کو نامزد نہیں کیا گیا۔مذکورہ چاروں کیٹیگریز میں صرف مرد حضرات کو نامزد کئے جانے پر میوزک اور شوبز سے وابستہ شخصیات نے لکس سٹائل ایوارڈز انتظامیہ اور کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ گلوکارہ میشا شفیع نے بھی لکس سٹائل ایوارڈز کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ ایوارڈز میں ایک بھی خاتون شاعرہ یا موسیقار کو نامزد نہ کرکے 10 کروڑ خواتین کو نظر انداز کردیا گیا۔میشا شفیع نے متعدد خواتین گلوکاروں کو مینشن کرتے ہوئے انہیں بھی مذکورہ مسئلے پر بات کرنے کی دعوت دی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شوبز شخصیات کی تنقید کے بعد لکس اسٹائل ایوارڈز کی ویب سائٹ سے نامزدگیوں کی فہرست ہٹا دی گئی اور نسٹاگرام پر پیغام جاری کیا گیا کہ ایوارڈز کی ویب سائٹ تکنیکی خرابی کا شکار ہوگئی ہے۔میوزک کی چاروں کیٹیگریز میں خواتین کو نامزد نہ کئے جانے پر متعدد گلوکاراؤں نے لکس سٹائل ایوارڈز کو آڑے ہاتھوں لیا اور لکھا کہ حیرت ہے کہ ایوارڈز جیوری کو کوئی ایک بھی قابل خاتون نامزدگی کے لئے نہ ملی۔گلوکارہ مومنہ مستحسن نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکس سٹائل ایوارڈ کو آڑے ہاتھوں لیا اگلوکارہ رچل وکاجی نے بھی لکس سٹائل ایوارڈز کی میوزک کیٹیگریز میں خواتین کو نامزد نہ کئے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایوارڈ جیوی سے سوال کیا کہ خواتین کے کام کو کیوں تسلیم نہیں کیا گیاگلوکارہ نتاشا نورانی نے بھی خواتین کو نامزد نہ کئیجانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایوارڈ جیوری کو مردانہ کلب قرار دیا۔گلوکارہ ماریہ عنیرا بھی برہم ہوئیں۔گلوکارہ ماریہ عنیرا نے بھی خواتین کو نظر انداز کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کمپنی اپنے صابن تو خواتین کے سہارے ہی فروخت کرتی ہے مگر اس نے میوزک کی کیٹیگریز میں خواتین کو نامزد تک نہیں کیا۔ان کی طرح دیگر گلوکاراؤں نے بھی لکس سٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں میں خواتین کو نامزد نہ کئے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔

مزید :

کلچر -