صنعتوں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولی کالعدم قرار 

 صنعتوں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولی کالعدم قرار 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس شاہدکریم نے درخواست گزار صنعتوں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولی کالعدم قرار دے دیا، دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ سوئی ناردرن کوعدالتی احکامات پرعمل درآمد نہ کرنے ہرتحلیل کر دینا چاہیے؟ایسے درخواست گزاروں کو بھی ریکوری نوٹس بھجوائے جن کامعاملے کو عدالت نے نمٹایا،سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وصول کیا جا رہا ہے،سپریم کورٹ نے چوبیس اقساط میں صنعتوں سے ٹیکس وصولی کا حکم دیا، درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر حسن صفدر خان نے عدالت کوبتایا کہ قانون کے مطابق صنعتوں پرگیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کا اطلاق نہیں ہوتا، عدالت عالیہ نے سوئی ناردرن کوکمیٹی بنا کر جائزہ لینے کاحکم دیااور عدالت نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ جائزہ لیاجائے کہ کن صنعتوں پر ٹیکس کااطلاق نہیں ہوتا،سوئی ناردرن نے کمیٹی بنانے کی بجائے ریکوری نوٹس بھجوا دئیے،عدالت سے استدعاہے کہ صنعتوں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولی کالعدم قرار دی جائے۔

کالعدم قرار 

مزید :

صفحہ آخر -