پہلی بیوی کی بھانجی سے شادی کرنے والے پر 35 ہزارروپے جرمانہ عائد

 پہلی بیوی کی بھانجی سے شادی کرنے والے پر 35 ہزارروپے جرمانہ عائد

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس انوارالحق پنوں نے عدالت سے غلط بیانی کرنے پر پہلی بیوی کی بھانجی سے شادی کرنے والے شہری پر 35 ہزارروپے جرمانہ عائدکر تے ہوئے دوسری بیوی کی بازیابی کے لئے دائر درخواست مسترد کردی،دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر کنویں میں چھلانگ لگانا چاہیں تو کیا عدالت اس کی اجازت دیدے؟ اوکاڑہ کے شہری مشتاق احمد کی جانب سے دائردرخواست میں دوسری بیوی کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی، درخواست گزار کا موقف تھاکہ اس نے سائلہ بی بی سے شادی کی تاہم سسرالیوں نے زبردستی بیوی کو اپنے پاس رکھا ہواہے،دوران سماعت درخواست گزار کی پہلی بیوی بلقیس بی بی بھی بچوں کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوگئی،خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس کے شوہر نے طلاق دیئے بغیر دوسری شادی کرلی ہے جس لڑکی سے شادی کی ہے وہ اس کی کی بھانجی ہے،عدالت نے غلط بیانی کرنے پر شہری مشتاق احمد کو پہلے ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا تاہم وکیل نے استدعا کی کہ درخواست گزار ایک لاکھ روپیہ ادا کرنے کی استعداد نہیں رکھتا،جس پرعدالت نے 35 ہزار جرمانہ کاحکم دیااور ہدایت کی کہ جرمانے کی رقم فوری طور پر پہلی بیوی کو ادا کی جائے، درخواست گزار نے 13ہزار کی رقم ادا کی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا کہ آپ کوجیل بھجوا دیتے ہیں جب باقی رقم ادا کریں گے تو باہر آئیں گے جس پر درخواست گزار نے فوری طور پر تمام جرمانہ پہلی بیوی کو ادا کردیا،درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ دوسری بیوی نے رضامندی سے شادی کی ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہے، عدالت نے یہ استدعا مسترد کر تے ہوئے قراردیاکہ کہ اگر کوئی کنویں میں چھلانگ لگانا چاہے تو کیا عدالت اجازت دے دے. عدالت نے مذکورہ بالاریمارکس کے ساتھ دوسری بیوی کو اس کے والدین کے ساتھ بھجوا نے کاحکم دے دیا۔

بھانجی سے شادی

مزید :

صفحہ آخر -