فوجی تقرریوں کا طریق کار

 فوجی تقرریوں کا طریق کار
 فوجی تقرریوں کا طریق کار

  

 نومبر کے آخر میں آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدت ملازمت کے ختم ہونے پر سبکدوش ہونے جا رہے ہیں،اس دوران ان کی مدت ملازمت میں دوسری بار توسیع کی بازگشت بھی سنائی دی مگر خود آرمی چیف نے ایسے کسی امکان کو مسترد کر دیا،اس کے باوجود اس حوالے سے یار لوگ دور کی کوڑیاں لانے کے لئے قیاس و گمان کے گھوڑے دوڑاتے رہے،اس اہم بلکہ حساس ترین عہدے پر تعیناتی کے حوالے سے عام طور پر ہمارا من حیث القوم اور سیاستدانون کا رویہ خاص طور پر غیر ذمہ دارانہ رہا،اس قدر گرد اڑائی گئی کہ سربراہ آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کو خود میڈیا کے سامنے آکر وضاحت دینا پڑی ایسے جیسے کسی دشمن ملک کے زہریلے پراپیگنڈہ کا جواب دیا جاتا ہے،یہ کوئی خوش گوار ردعمل نہ تھانہ ہی اعلیٰ فوجی قیادت کا یوں میڈیا پر آ نا کوئی اچھی روایت تھی،مگر سیاسی قیادت نے اسے کھیل  تماشا بنا کر رکھ دیا جس کے جواب میں پاک فوج کو رد عمل دینا نا گزیر تھا،دلچسپ بات یہ کہ اعتراضات اٹھانے والو ں اور اپنی خواہش کو بدیہی حقیقت کے طور پر پیش کرنے والوں میں اکثر کو معلوم ہی نہیں کہ فوجی سربراہ کی تقرری کا ایک  طریقہ کار ہے،مگر ہر کوئی سقراط اور بقراط بنا بے بنیاد بیانات داغتا رہا۔

آئین کے آرٹیکل 243 کے سیکشن تین کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی سفارش پر نئے سروسز چیف کا تقرر کرتے ہیں، عمومی طور پر جی ایچ کیو  سینئر تھری سٹار جرنیلوں کے نام وزارت دفاع کو بھجواتا ہے، یہ کوئی سمری نہیں ہوتی،نہ ہی آرمی قوانین کے مطابق کسی سمری کی ضرورت ہوتی ہے  نہ وزیراعظم اس کا محتاج ،یہ وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ وہ کسی بھی تھری سٹار جنرل کو آرمی چیف بنا سکتا ہے،ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے جب جنرل ضیاء الحق کو پروموٹ کیا تو وہ ساتویں نمبر پر تھے، کسی تھری سٹار جنرل کی طرف سے کور اور جی ایچ کیو  دونوں میں کام کرنا  بھی آرمی رولز اور انسٹرکشنز  کے مطابق ضروی نہیں ہے مگر اب اسے آرمی کی ایم ایس برانچ نے اپنی پالیسی بنا لیا ہے۔ وزیراعظم  چاہیں تو کا بینہ یا کسی  اور سے  مشاورت کر سکتے ہیں مگر یہ بھی ان کے لئے ضروری نہیں ہے، بعدازاں  وزیراعظم کی طرف سے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف  بنائے جانے والوں کی سمری پر صدر نے رسمی طور پر دستخط کرنے ہوتے ہیں۔

آرمی ایکٹ کے تحت کسی بھی افسر کی  سینیارٹی  لانگ کورس میں سنیارٹی،ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر ملنے والے نمبرز جسے پاک آرمی یا پی اے نمبر کہا جاتا ہے کی بنیاد پر کی جاتی ہے،سروس کی مدت یا رینک کیلئے مخصوص مدت میں سے جو پہلے آئے اس کے مطابق ریٹائرمنٹ ہو جاتی ہے،موجودہ آرمی چیف اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک ہی دن پاس آؤٹ ہوئے مگر آرمی چیف بننے سے قبل وہ اپنے کورس میں سنیارٹی میں چھٹے نمبر پر تھے جس کی وجہ سے ان کا پی اے نمبر تھا،اس وقت 76ویں لانگ کورس کے افسر فوج میں سب سے زیادہ سینئر ہیں،اس کورس کے سینئر ترین جرنیل سید عدنان اکتوبر میں ریٹائر ہو چکے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف جنرل قمر جاوید کی مدت ملازمت کے خاتمہ سے آٹھ دن پہلے  ریٹائر ہوئے،ان کے بڑے بھائی نعیم اشرف بھی سینئر تھے،جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع نہ ملتی تو وہ تین سینئر ترین جرنیلوں میں سے ایک تھے،لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا تعلق اس کورس سے ہے جو75ویں لانگ کورس سے جونئیر اور 76ویں لانگ کورس سے سینئر ہے،ان کی ترقی اکتوبر2018ء میں ہوئی مگر انہوں نے رینک ڈیڑھ ماہ کی   تاخیر سے لگایا جس بناء  پر  ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ ان کے جونئرز کے بھی بعد ہے،جنرل قمر جاوید کی سبکدوشی سے دو روز قبل وہ بھی ریٹائر ہو رہے ہیں ان کی چار سالہ مدت 27نومبر کو پوری ہو جائے گی،آرمی چیف کے عہدے پر انہیں اگر ریٹائرمنٹ  سے پہلے کسی بھی وقت ترقی مل جائے تو یہ کوئی غیر آئینی کام نہیں ہو گا انہیں دو دن توسیع لینے کی ضرورت ہی نہیں،جنرل جہانگیر کرامت18 دسمبر کو آرمی چیف کے عہدے  کے لئے پروموٹ ہوئے مگر انہوں نے اپنا چارج 12جنوری کو سنبھالا،اسی طرح جنرل آصف نواز بھی تین ماہ پہلے آرمی چیف کے عہدے کے لئے چن لئے گئے تھے۔  

جنرل عاصم منیر کے بعد اس کورس میں پہلا نام لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کا ہے،لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر چھٹے نمبر پر ہیں،اس کورس کے تمام افسر مضبوط پروفائل رکھتے ہیں،سنیارٹی میں دوسرا نمبر چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کا ہے، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں مگر مضبوط کیرئر کے حامل ہیں،لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہیں۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں فوجی سربراہان کی تعیناتی ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے مگر ہم  ہمیشہ اسے فیثا غورث کا مسئلہ بنا دیتے ہیں،افواہ سازی عروج پر ہوتی ہے،قیاس آرائی،گمان،ٹامک ٹوئیاں،ہر کوئی خواہش کو خبر بنانے کی تگ و دو میں رہتا ہے،فوجی ترجمان متعدد بار کہہ چکے فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،ہم نیوٹرل ہیں مگر سیاسی میدان کے شہسوار فوجی قیادت کی حمائت کو اہم سمجھتے ہیں اور انہیں سیاست سے الگ نہیں کر پاتے،سیاسی قیادت اس حوالے سے ہوا کا رخ دیکھ کر اپنا مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتی ہیں،نئے نعرے گھڑے جاتے ہیں، موقف بھی اچھوتا اپنایا جاتا ہے،اگر چہ اس حساس عہدہ پر تعیناتی کا قانون بھی سیاستدانوں نے تشکیل دیا مگر اس کے تحت تعیناتی پر معترض ہیں،قانون میں اگر کوئی خامی تھی تو اسے دور کرنے کی کسی نے جرآت نہ کی،قصہ کوتاہ  حالیہ تقرری کے دوران جو گرد اڑائی گئی اس کو دیکھتے ہوئے اس مسئلہ  کا کوئی مستقل حل تلاش کرنا ہو گا جیسے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی کے حوالے سے ایک اصول طے کیا گیا ہے،ایسے ہی اس معاملہ کو بھی ہمیشہ کیلئے طے کر  کے ایسی صورت حال سے بچنے کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔

بدلتی رت میں عمران خان نے کارکنوں کو26نومبر کو اسلام آباد میں جمع ہونے کی ہدائت کی ہے،شنید ہے وہ خود بھی اس اجتماع میں شامل ہوں گے اور اہم ترین اعلانات بلکہ اپنا مستقبل کا لائحہ عمل پیش کریں گے،آصف زرداری نے اسلام آباد میں مستقل ڈیرے لگا لئے ہیں،نواز شریف الزامات اور افواہوں کی زد پر ہیں، حکومت معاملات کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہے،عمران خان نئے الیکشن کی تاریخ سے کم پر بات چیت کرنے کو تیار نہیں،صدر عارف علوی کی بیک ڈور ڈپلومیسی بھی ناکامی سے دوچار ہو چکی،جب اتنی ان ہونیاں ایک جگہ جمع ہو جائیں تو اس کا نتیجہ کسی بڑی  خبر کی صورت میں نکلتا ہے،بحرحال مستقبل میں کیا منظر ابھرتا ہے اس کا فیصلہ 30نومبر سے قبل ہو جائے گا لیکن اگر سیاسی اشرافیہ نے اپنی روش نہ بدلی تو کوئی اچھی منظر کشی کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہ ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -