پاک امریکہ تعلقات پر ایک مذاکرہ

 پاک امریکہ تعلقات پر ایک مذاکرہ
 پاک امریکہ تعلقات پر ایک مذاکرہ

  

 آپ میں سے بہت سے قارئین نے وہ سٹوری تو پڑھ لی ہو گی جو کل (23نومبر 2022ء) کے روزنامہ ڈان کے صفحہ اول پر شائع ہوئی اور جس کا عنوان تھا: ”امریکہ اور پاکستان کے باہمی روابط کا فیصلہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں، چیف آف آرمی سٹاف کرتا ہے“۔

یہ وہی حقیقت ہے جسے PTI کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم، عمران خان سات آٹھ ماہ سے روزانہ بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے بیانیے کی صداقت اب پاکستان کے بچے، بوڑھے، مرد، عورت، بزرگ اور نوجوان پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔ یہ حقیقت 10اپریل 2012ء سے پہلے پاکستان کے صرف چند لوگوں کو معلوم تھی۔ جمہوری طرزِ حکومت کا خلاصہ تو یہی ہے کہ یہ حکومت، عوام کی طرف سے اور عوام کے لئے ہوتی ہے۔ عوام، حکومتی نمائندوں کو الیکشن کے ذریعے منتخب کرتے ہیں اور پھر انہی منتخب اراکین کا ایک لیڈر وزیراعظم بن کر ملک کی باگ ڈور سنبھالتا اور فرائضِ حکمرانی ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ کتابی بیانیہ ہے۔ اسے آپ ”آئینی بیانیہ“ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بات کہ کسی جمہوری ملک میں اصل فیصلے وہاں کا آرمی کمانڈر کرتا ہے وزیراعظم نہیں، ایک انوکھا استدلال ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ یہ کہہ دیا جائے کہ امریکہ یا فرانس کا صدر، برطانیہ کا وزیراعظم اور جرمنی کا چانسلر اپنے اپنے ملک کے اہم فیصلے خود نہیں کر پاتے بلکہ یہ فیصلے وہاں کے آرمی چیفس کرتے ہیں جو وردی پہن کر سویلین قائدین کی پشت پر کھڑے ہوتے ہیں یعنی نام صدر یا وزیراعظم کا اور کام آرمی کمانڈر کا!…… پنجابی کا وہ محاورہ یاد آ رہا ہے کہ ”ناواں لکُھّو دا تے تھیوا بکُھّو دا“……

واشنگٹن، امریکہ کا دارالحکومت ہے اور وہاں پیر (22نومبر2022ء) کی شام ایک سیمینار میں یہی حیران کن استدلال کیا گیا۔ یہ سیمینار، واشنگٹن میں قائم ایک ادارے ”مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ“ کے ڈائریکٹر مسٹر مارون وِن بام  (Marvin Weinbaum)کی طرف سے منعقد کیا گیا جو اس انسٹی ٹیوٹ میں ”پاک۔ افغان سٹڈیز“ کا ڈائریکٹر ہے۔ اس سیشن میں جن مبصروں نے حصہ لیا ان میں مسز لیزا کرٹس (Lisa Curtis) پیش پیش تھی جو ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی کرتا دھرتا ہیں …… اس کے علاوہ جن تین دوسرے مبصروں نے اپنی آراء کا اظہار کیا ان میں ڈگلس لندن جو CIA کے ایک سابق اہلکار اور تجزیہ نگار ہیں، مسٹر جاوید احمد جو متحدہ عرب امارات میں افغانستان کے ایک سابق سفیر ہیں اور مسٹر حسین حقانی شامل ہیں جو واشنگٹن میں پاکستان کے ایک سابق سفیر رہ چکے ہیں اور جن کے نام و مقام سے پاکستان کے دانش وروں کی ایک کثیر تعداد آگاہ ہے۔

مسز لیزا کرٹس نے کہا: ”میرا خیال نہیں کہ پاکستان میں مستقبل میں پاک۔ امریکہ تعلقات کا دارومدار اس بات پر ہو گا کہ وہاں وزیراعظم کون بنتا ہے…… میرے خیال میں اس کا انحصار اس امر پر ہو گا کہ پاکستان میں اگلا آرمی چیف کون بنتا ہے“۔…… مسز لیزا کرٹس نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں پاک آرمی ہی ان اہم معاملات پر فیصلے کرتی ہے جن کا تعلق امریکہ سے ہوتا ہے مثلاً پاکستان کا جوہری پروگرام، پاک،بھارت روابط اور پاکستان میں دہشت گردی کے انسداد کے لئے کئے جانے والے اقدامات!…… اس نے اپنی گفتگو کو بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ”آج کل پاکستان میں جو ”ہائی برڈ“ (Hybrid) جمہوریت چل رہی ہے وہ دراصل ایک غیر مستحکم طرزِ حکمرانی ہے جو پاکستان کے لئے کسی بھی صورت کوئی احسن سنریو نہیں“۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج جو رنگارنگ (Hybrid) جمہوریت چل رہی ہے وہ 13 سیاسی پارٹیوں کا ملغوبہ ہے اور یہ ملغوبہ کسی بھی لحاظ سے پاکستان کو وہ سیاسی استحکام عطا نہیں کر سکتا جس کی آج اسے سخت ضرورت ہے۔ جب مسز لیزا سے پوچھا گیا کہ عمران خان کو اگر دوبارہ اقتدار ملا تو کیا اس سے پاک۔ امریکہ تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا؟ تو اس سوال پر اس کا جواب بہت معنی خیز تھا۔ اس نے کہا: ”جب عمران خان سے اقتدار چھن گیا تھا تو انہوں نے امریکہ کو قربانی کا بکرا بنانے کی ایک ناکام کوشش کی تھی لیکن اگر انہیں دوبارہ اقتدار ملا تو پاک۔ امریکہ تعلقات میں مساوات کے حصول کے لئے ایک حقیقت پسندانہ کاوش اور کوشش درکار ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ (عمران خان) واشنگٹن سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے اقدام کریں گے“۔ …… مسز کرٹس نے اس مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکہ کی اصل پریشانی ایک تو پاکستان کے جوہری اثاثے ہیں اور دوسرے اس کا دیوالیہ ہونے کا خطرہ۔ اس نے کہا کہ: ”جب عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا تو آرمی کو یہ اندازہ نہ تھا کہ ان کی سپورٹ کا سکیل اس قدر وسیع اور کثیر (Massive) ہوگا لیکن آج پاکستان کی جو صورتِ حال ہے وہ آنے والے آرمی چیف کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا اور انہیں اپنے ادارے میں پھر سے اتفاق رائے پیدا کرنا پڑے گا۔ عمران خان کی شخصیت ایک کرشماتی شخصیت ہے اور اگر وہ چاہیں تو پاکستان میں امریکہ کے خلاف جو جذبات پائے جاتے ہیں ان کو اعتدال کی راہ پر لا سکتے ہیں“۔

مسٹر ڈگلس لندن نے اس سیمینار میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جب امریکہ، افغانستان سے نکل گیا تھا تو پاک، امریکہ آویزش / کشیدگی میں کمی آ گئی تھی اور امریکہ، پاکستان کو اپنے ہاتھ سے نکالنے کا خواہش مند نہ تھا کیونکہ پاکستان ایک جوہری ملک ہے…… آج صورتِ حال یہ ہے کہ دونوں ممالک (امریکہ اور پاکستان) کی ملٹری اور انٹیلی جنس سروسز میں وہ پوشیدگی نہیں پائی جاتی جو پہلے تھی۔ اب یہ پوشیدگی، اگرچہ آشکاریت (Open-ness)میں تبدیل ہو چکی ہے لیکن اس کا اب کوئی زیادہ ”فائدہ“ نہیں رہا!مسٹر جاوید احمد نے الگ سے ایک ڈینگ ماری اور فرمایا: ”پاکستان میں وہ تمام اجزاء موجود ہیں جو اس کو خود تخریبی (Self-destruct) کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

جب مسٹر حسین حقانی کی باری آئی تو انہوں نے کہا: ”پاکستان آرمی اب بھی سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے لیکن چلمن کے پیچھے بیٹھ کر…… پی ٹی آئی چیف، الیکشن جیت سکتے ہیں لیکن یہ جیت ”آل آؤٹ“ نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو جتنا مقبول اور ہر دلعزیز لیڈر خیال کرتے ہیں، اس میں کوئی حقیقت نہیں۔“آخر میں مسٹر جاوید احمد نے ایک عجیب بات کہی کہ: ”پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں امریکہ، ایک پارٹی بن چکا ہے اور اس کی وجہ وہ الزامات ہیں جو عمران خان، امریکہ پر لگاتا چلا آ رہا ہے“…… اور اس کے بعد مسٹر لندن  (London) نے یہ حقیقت افروز تبصرہ کیا کہ: ”اگر پاکستان میں جلد الیکشن نہ کروائے گئے تو سارا ملک شعلوں میں نہا سکتا ہے“

قارئین گرامی! ہمارے ہاں بھی روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کے ”سیمینار“ منعقد ہوتے ہیں جن کو ہم ٹاک شوز کا نام دیتے ہیں اور ان میں اسی طرح کے ایسے تبصرے اور تجزیئے بھی کئے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے 180 ڈگری مختلف اور متضاد ہوتے ہیں لیکن جب کسی امریکی تھنک ٹینک میں اس طرح کی گفتگو ہوتی ہے تو ہمیں براہِ راست امریکیوں کی زبان سے وہ باتیں سننے کو ملتی ہیں جن کو آج ہر پاکستانی اپنے دل و دماغ میں محسوس کرتا ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کی آبادی کے مختلف طبقات میں آج ایک ایسا شعور پیدا ہو چکا ہے جو بین الاقوامی شعور کا ڈپلی کیٹ کہا جا سکتا ہے اور یہ تبدیلی پاکستان کے مستقبل کے لئے ایک نیک فال ہے۔

مزید :

رائے -کالم -