گندم کاشت،پیداواری اہداف پر فوکس، حسین جہانیاں 

گندم کاشت،پیداواری اہداف پر فوکس، حسین جہانیاں 

  

ملتان(سپیشل رپورٹر) وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ گندم کی کاشت اور اس کے پیداواری ہدف کے حصول کے لئے پرعزم ہیں اور حکومت پنجاب کاشتکاروں کوہر ممکن مددورہنمائی فراہم کر رہی ہے۔ گندم کی فصل ملکی فوڈ سیکیورٹی میں (بقیہ نمبر38صفحہ6پر)

کلیدی کردار کی حامل ہے۔ ملک میں گندم کی مجموعی پیداوار میں صوبہ پنجاب کا حصہ 76 فیصد ہے۔ امسال صوبہ پنجاب کے لئے گندم کا پیداواری ہدف 2 کروڑ 10 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے جسے یقینی بنانے کے لئے کاشتکار گندم کی منظور شدہ اقسام کا بیج استعمال کریں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے محکمہ زراعت پنجاب اور نجی کھادکمپنی کے باہمی تعاون سے ملتان میں زیادہ گندم اگاؤ مہم کے سلسلہ میں منعقدہ کسان کنونشن میں ویڈیو پیغام میں کیا۔ صوبائی وزیر زراعت نے مزید کہا کہ امسال حکومت پنجاب گندم کے بیج و دیگر زرعی مداخل پر 2 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے ملکی فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔ گندم کی امدادی قیمت بڑھاکر 3000 روپے فی من مقررکر دی ہے تاکہ کاشتکار گندم کو ایک منافع بخش فصل کے طور پر زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کریں۔ صوبائی وزیر زراعت نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ملتان ڈویژن میں 18 لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبہ پر گندم کاشت ہوئی جس سے 26 لاکھ ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل کو مزید منافع بخش بنانے کے لئے اس کی فی ایکڑ پیداوارمیں مزید اضافہ نا گزیر ہے۔ حکومت پنجاب نے گندم کی 15 نئی اقسام کے 90 لاکھ تھیلوں کی کاشتکاروں تک فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ کاشتکاروں کی فی ایکڑ پیداواری لاگت میں کمی کیلئے 1200 روپے فی تھیلا سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جڑی بوٹی مار زہروں اور جدید مشینری پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر کے ملکی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ کاشتکاروں میں جدید پیداواری ٹیکنالوجی متعارف کروانے کے لئے نمائشی پلاٹ، سیمینارز اور یوم کاشتکاران کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ گندم کی زیادہ پیداوار کے لئے جاری مہم کو کامیاب بنانے کے لئے کاشتکاروں کی عملی شرکت لازمی ہے اور اس مقصد کے لئے محکمہ زراعت کا عملہ ان کے شانہ بشانہ شریک ہوگا۔ وزیر زراعت پنجاب نے گندم کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے محکمہ زراعت کی سفارشات، متوازن ومتناسب کھادوں اور تصدیق شدہ بیجوں کے استعمال پر زور دیا اور ہدایت کی کہ رواں ماہ گندم کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت مکمل کریں۔تقریب سے ایڈیشنل سیکرٹری زراعت ٹاسک فورس جنوبی پنجاب امتیاز احمد وڑایچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امسال کاشتکاروں کو کم سے کم خرچ سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے تحت آگاہی دی جا رہی ہے اور زیادہ گندم اگاؤ مہم کو کامیاب کرنے کے لئے محکمہ تمام ذرائع بروئے کار لا رہا ہے۔ اس موقع پر وائس چانسلر ایم این زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ گندم کی پیداوار میں اضافہ ہمارا قومی فریضہ ہے۔ زرعی جامعہ کے طلبہ و طالبات بھی محکمہ زراعت کے شانہ بشانہ فیلڈ میں کاشتکاروں کی رہنمائی میں مصروف عمل ہیں۔ اس موقع پرنجی کمپنی کے زرعی ماہر ڈاکٹر سعید اقبال نے گندم کی فصل میں کھادوں کے متوازن استعمال پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کاشتکاروں کو سفارش کی کہ وہ گندم کی فصل میں فاسفورسی، پوٹاش اورنائٹروجنی کھادوں کے توازن کا خاص خیال رکھیں۔ کسان کنونشن میں ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب محمد رفیق اختر سمیت محکمہ زراعت کے افسران اور کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔  صوبہ میں 146 زرعی منڈیوں کو آپس میں لنک کیا جا رہا ہے۔ان ماڈل منڈیوں میں کاشتکاروں کی فلاح کے پیش ِ نظر کسان پلیٹ فارم کا قیام او اینڈرائیڈ ایپلکیشن'' منڈی ایپ'' کے ذریعے مارکیٹ فیس وصولی کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ مڈل مین کا کردار محدود کیا جا سکے اور کاشتکاروں کو اُن کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔اس کے علاوہ ماڈل منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری بھی کی جارہی ہے۔ نئی فروٹ و سبزی منڈیاں ترجیحاً گاؤں کے پاس قائم کی جا رہی ہیں تاکہ کاشتکاروں کو اپنی اجناس کی فروخت کیلئے دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے جڑانوالامیں فروٹ و سبزی منڈی کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت نے مزید کہا کہ زرعی منڈیوں سے ناجائز تجاوزات سے پاک رکھنے کے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں اور ماڈل منڈیوں میں مارکیٹ فیس کا شیڈول،کمیشن اور روزانہ کے نرخ واضح جگہوں پر آویزاں جا رہے ہیں۔ پامرا ایکٹ کے نافذ العمل ہونے کے بعدزرعی منڈیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے جس سے تمام اسٹیک ہولڈرز مستفید ہورہے ہیں۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اب تک100 سے زائد نئی منڈیاں قائم کی گئی ہیں تاکہ کاشتکار براہ راست مستفیدہو سکیں اور مڈل مین کے کردار کو محدود کیا جاسکے۔ کاشتکاروں کو اُن کی محنت کا معقول معاوضہ مل سکے۔اس کے علاوہ صوبہ بھر میں ماڈل منڈیوں میں صفائی ستھرائی کے معیاری انتظامات مکمل انتظامات کئے گئے ہیں اورروزانہ کے آکشن کی بنیاد پر نرخ وضع کئے جارہے ہیں۔اس موقع پرڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد عبدالحمید،ڈائریکٹر اصلاح آبپاشی فصیل آباد سمیت محکمہ زراعت پنجاب کے افسران و ملازمین ا ور کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -