سوشل میڈیا،مغربی یلغار، نوجوان دین سے دور،صورتحال سنگین

 سوشل میڈیا،مغربی یلغار، نوجوان دین سے دور،صورتحال سنگین

  

بہاولپور(ڈسٹرکٹ بیورو)سوشل میڈیا پر مغربی یلغار نوجوان نسل کی اخلاقیات کوبگاڑ رہی ہے نوجوانوں میں بے حیائی کے کلچر کافروغ اوربے پردہ داری دین سے دوری کی نشانی ہے ہمیں پیارے بنیؐ کی سنت اور اللہ تعالی کے احکامات کی بجاآوری کرناہوگی موبائل فون اورانٹرنیٹ نے اولاد کوماں باپ سے دورکردیاہے یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ہمیں پانچ(بقیہ نمبر56صفحہ6پر)

 وقت کی نماز کی ادائیگی اوروالدین کی خدمت پرتوجہ دیناہوگی۔ ان خیالات کااظہار وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈانیمل سائنسز پروفیسرڈاکٹرمحمدسجادخاں مذہبی سکالر مولانامحمدعمران نے چولستان یونیورسٹی میں سیرت النبیؐ کے اخلاقی اورمعاشرتی پہلو کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسر ڈاکٹرمحمدسجاد خان نے کہاکہ ہماری بدقسمتی ہے کہ دین کاکام سیکھنا اوراس پرعمل کرنا ایک مشکل ٹاسک بن چکاہے جبکہ بے حیائی اورعریانی کی سہولت مفت میں دستیاب ہے جس سے نوجوان نسل کااخلاق تباہ ہورہاہے مذہبی سکالر مولانامحمدعمران نے کہاکہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایااورپھرہمیں پیارے نبیؐ کی امت میں شامل کیاہمارے نبیؐ نے سب سے زیادہ اپنی امت کی فکر کی اوراس کی بخش کیلئے دعائیں کیں جبکہ ہم اپنے نبیؐ کی سنتوں کواپنانے سے منہ پھیررہے ہیں انہوں نے کہاکہ والدین کی خدمت سب سے اہم فریضہ ہے اللہ تعالی نے ماں کے قدموں اورتلوارکے نیچے جنت کی بشارت دی ہے اس کے علاوہ جنت میں جانے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ہم نے اپنی ماؤں کی خدمت کوچھوڑکراپنے آپ کو موبائل فون میں گم ہوگئے ہیں  عریانی بے حیائی اوربے پردگی کوفروغ دیاجارہاہے۔ ہمارے نبیؐ نے فرمایا تھاکہ ایک وقت آئے گاکہ مسلمان بچی کوپردہ کرنابھی مشکل ہوجائیگایہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے یہ بھی فرمایاکہ جومیری سنت کوزندہ کرے گااسے100 شہیدوں کاثواب ملے گا اگرہم نبیؐ کی سنت کواپنالیں توزندگی کی تمام مشکلات حل ہوجائیں گی اورہمارے کاموں میں برکت آجائیگی۔ انہوں نے کہاکہ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اپنے موبائل فون کی زندگی سے نکل کراپنے والدین کووقت دیں ان کی قدرکریں اگرخدانخواستہ یہ نایاب ہیرے ہم سے چھن گئے توپوری دنیابھی سمیٹ لیں ہمیں زندگی میں کبھی سکون نہیں ملے گا۔ آخرمیں انہوں نے خصوصی دعابھی کرائی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -