سپریم کورٹ، سرکاری املاک اور دستاویزات پر سیاستدانوں کی تصاویر لگانے پر پابندی عائد

      سپریم کورٹ، سرکاری املاک اور دستاویزات پر سیاستدانوں کی تصاویر لگانے ...

  

       اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) سپریم کورٹ نے سرکاری املاک اور دستاویزات پر سیاستدانوں اور پبلک آفس ہولڈرز کی تصاویر چسپاں کرنے پر پابندی عائد کر دی۔سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی کچی آبادی سے متعلق فیصلہ جاری کردیا جو کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری وسائل پر ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پاکستان کسی کی جاگیر نہیں جہاں عوام حکمرانوں کے سامنے جھک جائیں، جمہوری ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری املاک پر ذاتی تشہیر کے لیے تصاویر چسپاں کرنا اخلاقی اقدار کو مجروح کرتا ہے، تمام چیف سیکرٹریز اور وفاقی انتظامیہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

تصاویر پر پابندی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) چیف سیکریٹری پنجاب جبری رخصت کیس میں چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کسی کی ذات پر بات نہ کریں نظام کی بات کریں،نام لینے سے دوستیاں دشمنیاں بنتی ہیں۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ پولیس افسران کے تبادلوں میں فوجداری نظام انصاف متاثر ہورہا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق چیف سیکرٹری کی مدت 4 سال ہے، چیف سیکرٹری پنجاب کیس میں قانونی نکتہ شامل ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا پولیس افسران کے تبادلوں میں فوجداری نظام انصاف متاثر ہو رہا تھا؟، سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی تعیناتی وفاقی حکومت کرتی ہے، تعینات ہونے والے افسران بعض اوقات پنجاب سے زیادہ وفاق سے ہوتے ہیں،اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا بتائیں عدالت کس حد تک انتظامی معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے؟۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موجودہ چیف سیکرٹری کو زبردستی چھٹی پر بھیج دیا گیا، چیف سیکرٹری پنجاب نے تو چھٹی کی درخواست بھی نہیں کی تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کسی کی ذات پر بات نہ کریں نظام کی بات کریں، نام لینے سے دوستیاں دشمنیاں بنتی ہیں، چیف جسٹس نے کہا اس کیس کو پولیس کیس کے ساتھ سنیں گے۔سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 15 روز کیلئے ملتوی کر دی۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو سیاسی مداخلت پر پولیس افسران کے تبادلہ پر جواب طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پنجاب محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت پر ٹرانسفر پوسٹنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار وکیل کی استدعا پر مقدمہ کا دائرہ وفاق اور دیگر صوبوں تک وسیع کرتے ہوئے وفاق اورباقی صوبوں سے بھی پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے وفاق اور صوبوں سے گذشتہ آٹھ سالوں میں محکمہ پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے دو ہفتوں میں وفاق اور صوبوں کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں ڈی پی او کی اوسط ٹرم پانچ ماہ ہے۔ ڈیٹا کے مطابق چار سالوں میں پنجاب میں 268ڈی پی اوز کے تبادلے ہوئے۔ جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ یہ اعدادوشمار آپ نے کہاں سے حاصل کیے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ اعداد وشمار سی پی آفس سے حاصل کیے ہیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پولیس میں سیاسی تبادلوں سے کرمینل جسٹس سسٹم کی کارکردگی پر فرق پڑتا ہے۔ وکیل نے بتایا کہ پنجاب میں آئی جی پولیس کی ایوریج ٹرم 6 ماہ ہے جو قانون کے مطابق تین سال ہونے چاہیے۔ چار سالوں میں پنجاب میں پولیس افسران کو کسی وجہ کے بغیر تبدیل کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس افسران کے کسی وجہ سے بغیر تبادلوں سے کرمینل جسٹس سسٹم کی پافار منس پر اثر پڑتا ہے۔ ان حالات میں افسران میں سیاسی اثرو رسوخ سے اعلی عہدے حاصل کرنے کا رحجان بڑھتا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ وکیل درخواست گزار کا کہنا ہے معاملہ کا دائرہ وفاق اور دیگر صوبوں یک بڑھایا جائے۔  وکیل درخواستگزار کے مطابق یہ معاملہ پنجاب تک محدود نہیں۔ اسلام آباد کے سابق آئی جی بڑے پڑھے لکھے اور ڈیسنٹ افسر تھے۔ عدالتِ عظمی نے کہا کہ سابق آئی جی سندھ ہاوس پرحملہ کے معاملہ بڑے اچھے انداز میں ڈیل کیا۔ سابق آئی جی اسلام آباد بھی تبدیل ہوگئے۔

سیاسی تبادلے کیس

مزید :

صفحہ اول -