عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فل بنچ تشکیل، ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع

عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فل بنچ تشکیل، ممنوعہ فنڈنگ ...

  

      لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو عہدہ سے ہٹانے کیلئے دائر درخواست پرتین رکنی فل بنچ تشکیل دے دیا،چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں قائم 3رکنی بنچ اس درخواست پر سماعت کرے گا، فاضل بنچ کے دیگر ارکان میں مسٹرجسٹس عابدعزیزشیخ اور مسٹرجسٹس ساجد محمود سیٹھی شامل ہیں،یادرہے کہ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے درخواست کی سماعت کیلئے لارجر بنچ بنانے کی سفارش کیساتھ فائل چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے لارجربنچ بنانے کی سفارش کی تھی۔درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ عمران خان حلقہ این اے95سے نااہل قرار دئیے جاچکے ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کیبعد عمران خان نا اہل ہو چکے، عمران خان پارٹی چیئرمین شپ کا استحقاق بھی نہیں رکھتے، عدالت سے استدعاہے کہ عمران خان کو پارٹی چیئرمین کے عہدہ سے ہٹانیکا حکم دیا جائے۔

فل بنچ 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) بینکنگ کورٹ اسلام آباد نے ممنوعہ فنڈنگ اور فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر کر دی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کے وکیل کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست میں موقف اپنایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پہلے عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں، طبیعت کی ناسازی کے باعث پیش نہیں ہو سکے، آج کا استثنا دیا جائے۔عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور فیصل مقبول کی طبی بنیادوں پر استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی جبکہ بینکنگ کورٹ کیس میں دیگر شریک ملزمان سردار اظہر، سید یونس، حامد زمان، طارق شفیع، سیف اللہ نیازی،عامر محمود کیانی کی بھی ضمانتوں میں توسیع کی گئی ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے این اے 45 کرم میں عمران کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کافیصلہ محفوظ کرلیا، جبکہ چیف الیکشن کمشنرنے ریمارکس دئیے کسی کو بھی الیکشن کمیشن کی توہین کی اجازت نہیں۔چیف الیکشن کمشنرز کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس پرسماعت کی، سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کرم الیکشن میں سرکاری گاڑیاں استعمال کی گئیں، عمران خان پہلے بھی خلاف ورزیاں کرچکے ہیں، ہماری گزارش ہے اقبال وزیر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے انہوں نے لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے، ان کی ٹویٹس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہوئی۔چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے خلاف ورزی کی ہے تو اس کا اثر امیدوار پر پڑتا ہے، اس کو اندازہ نہیں ہوگا اس نے کہا تھا وزارت قربان کرنے کیلئے تیارہیں نوٹسز تو پنجاب میں بھی ہوئے ہیں، کسی کو بھی الیکشن کمیشن کی توہین کی اجازت نہیں۔

ضمانت میں توسیع

مزید :

صفحہ اول -