لانگ مار چ پر خودکش حملے کا خطرہ، پی ٹی آئی راولپنڈی میں عوامی اجتماع کو مؤخر کرے: وزارت داخلہ 

لانگ مار چ پر خودکش حملے کا خطرہ، پی ٹی آئی راولپنڈی میں عوامی اجتماع کو مؤخر ...

  

       اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)  تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں، گلگت اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کو خطوط لکھ دیئے جبکہ وفاقی پولیس نے 26 نومبر کو فیض آباد مکمل بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے معاملے پرآئی جی اسلام آباد کی زیر صدارت پولیس افسران کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 26 نومبر کو فیض آباد مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ٹریفک کیلئے متبادل پلان، اندرون شہر ٹریفک رواں رہے گی، فیض آباد بس اڈہ اور مارکیٹ بھی جلسے کے دوران بند ہو گا اور آئی جے پی روڈ کو ٹریفک کیلئے استعمال کیا جائے گا۔فیض آباد پر پولیس، ایف سی اور رینجرز کی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایف سی کے مزید 1500 اہلکار بھی بلانے کا فیصلہ ہوا ہے دوسری طرف وزارت داخلہ کی جانب سے خط میں تمام صوبائی حکومتوں، جی بی اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کو بتایا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔خط میں مزید کہا گیا کہ حقیقی آزادی مارچ کی جڑواں شہروں میں آمد کی رسک اسسمنٹ کی گئی، مختلف گروپوں نے لانگ مارچ سے متعلق تھریٹ جاری کررکھے ہیں۔ وزارت داخلہ نے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر کو بھی لانگ مارچ پر دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔وزارت داخلہ نے اسد عمر کو ارسال مراسلے میں ملک میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔خط میں لکھا گیا کہ انتہا پسند گروپ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر دہشتگردی کا حملہ کر سکتے ہیں، حملے میں بیرونی عناصر کی جانب سے بھی کارروائی کا اندیشہ ہے، عوامی اجتماعات کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، عوامی اجتماعات میں خودکش یا بم حملہ بھی ہو سکتا ہے، پاکستان تحریک انصاف راولپنڈی میں عوامی اجتماع کو موخر کرے۔

وزارت داخلہ 

مزید :

صفحہ اول -