نئے آرمی چیف کا تقرر معمول کا معاملہ ہونا چائیے،میاں زاہد حسین 

نئے آرمی چیف کا تقرر معمول کا معاملہ ہونا چائیے،میاں زاہد حسین 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر معمول کا معاملہ ہونا چائیے جسے بعض عناصر نے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر ملک کو سیاسی عدم استحکام، معاشی زوال، ڈیفالٹ کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے، کاروبار ٹھپ کر دیے ہیں اور اب کرنسی بحران کی باتیں ہو رہی ہیں جس سے کاروباری برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ایک اہم عہدے پر سیاست کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ افسوسناک ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بری افواج کے نئے سربراہ کا فوری انتخاب کرے تاکہ کم ازکم ایک مسئلہ ختم ہو جائے جس سے ملک میں موجود سیاسی ہیجان اور افواہوں کے سلسلے میں  کمی آئے گی، معیشت میں استحکام آئے گا، دوست ممالک سے مالی امداد، قرضوں کے حصول میں سہولت پیدا ہوگی اور ڈیفالٹ کا راگ الاپنے والوں کے منہ بند ہونگے۔ اس وقت ملک سنگین اقتصادی اور موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اور معیشت خود پیدا کردہ مسائل کے گرداب میں ڈوب رہی ہے مگرعوامی حمایت کے دعویدار، سیاسی اور معاشی استحکام کو ضروری نہیں سمجھ رہے اور اپنی اپنی بانسری بجا رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ آرمی چیف کا تقرر ایک معمول کی کاروائی ہے جس کا طریقہ کار آئین میں واضح ہے مگر ماضی میں کبھی اس تقرری کو اس قدر متنازعہ نہیں بنایا گیا جیسا کہ اب کیا جا رہا ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ حکومت بھی اس معاملہ پر اپنی نہ ختم ہونے والی مشاورت بند کر کے مناسب فیصلہ کرے تاکہ غیر ذمہ دار عناصر کے پراپیگنڈے کو بے اثر کیا جا سکے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایٹمی طاقت کے حامل ملک میں یہ ایک انتہائی اہم منصب ہے جس کے لئے گلی کوچوں کے لڑکوں کی رائے کو اہمیت نہیں دی جا سکتی یہ کام حکومت اور فوج کی ہائی کمان کو ہی زیب دیتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے جنرل باجوہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ چھ سال تک آرمی چیف رہ کر ریٹائر ہو رہے ہیں اور انکے اعلانات کے مطابق فوج اب سیاست سے دور اور نیوٹرل رہنا چاہتی ہے مگر کچھ لوگوں کو یہ بھی قبول نہیں ہے اور انکا مطالبہ ہے کہ انکی ہر قسم کی جائز و ناجائز مدد کی جائے جو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -