سرکاری کالجز میں بے حیائی کا فروغ سازش ہے: پروفیسر ابراہیم 

      سرکاری کالجز میں بے حیائی کا فروغ سازش ہے: پروفیسر ابراہیم 

  

       پشاور(سٹی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا و نگران شعبہ تعلیم جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر محمد ابرہیم خان نے کہا ہے کہ حکومت سندھ این جی اوز‘دوربین’اور‘ ادارہ تعلیم و آگہی’کے اشتراک سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے نام پر  تعلیمی اداروں میں بے حیائی کے فروغ میں سرگرم ہے۔  گذشتہ دنوں گورنمنٹ ایلیمنڑی کالج حسین آباد،کراچی میں ''اساتذہ کا تعلیمی جشن'' (ٹیچر لرننگ فیسٹیول) کے نام سے ایک ایونٹ کا انعقاد کیا گیا،جس کے ٹرینرزلبرل اورسیکولرز ذہن کے حامل مرد وخواتین سپیکرزاورموسیکارتھے۔ ایونٹ کے مرکزی پروگرامات میں ایجوکیشن میں موسیقی کی اہمیت، استعمال کے طریقے اور تھیٹر کی مہارتیں یعنی رقص اور اداکاری سکھانا شامل تھے۔یہ ایونٹ سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم میں موسیقی کی تعلیم کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کا تسلسل  تھا،جو نظریہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سنگین سازش ہے۔ہم اس ایونٹ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے تعلیمی کنونشن سے خطاب اور شعبہ تعلیم کے ذمہ داران کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کیا۔اُنھوں نے کہا کہ مسلمان معاشرے میں رقص، موسیقی اور اداکاری کو اسکول کی سطح پر شامل کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا تشویش ناک ہے۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حکومتی سطح پر اسکولوں میں موسیقی، رقص اور اداکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اسی لیے حکومت سندھ نے گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج حسین آباد  کو سنگر شہزاد رائے کی این جی او‘ زندگی’کی نگرانی دیا ہے،جو موسیقی  اور رقص کو پروان چڑھانے والی این جی او ہے۔یہ فیصلہ بھی حکومت سندھ کی بدنیتی اور اسلام دشمنی کا بین ثبوت ہے۔حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے،یہاں کا آئین اسلامی ہے اور آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ملک میں کوئی قانون یا اقدام اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہو ں گے۔اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے این جی اوز کے ساتھ مل کراس ایونٹ کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ کی ذہنی صحت، ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج)، تحریری مہارتوں،بالخصوص شاعری لکھنا، قصہ گوئی (سٹوری ٹیلنگ) کی جدید تعلیمی و تدریسی مہارتیں سکھانے کی آڑ میں ملک عزیز کی نئی نسل کو لادینیت کی راہ پر ڈالنا ایک سگین  سازش ہے۔ہم حکومت سندھ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کے فروغ کے نام پر نظام تعلیم اور نصاب تعلیم میں موسیقی، رقص اور اداکاری کو شامل کیا جانا بالکل بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔اس پر مسلمانان پاکستان کی طرف سے شدید رد عمل آئے گا۔اس لیے ناگزیر ہے کہ مغرب زدہ این جی اوز کے ساتھ جو بھی معاہدے ہوئے ہیں،وہ  معاہدات فی الفور ختم کیے جائیں اور آیندہ صوبے میں کوئی بھی تعلیمی ادارہ موسیقی،رقص اور اداکاری کے مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -