صوبے میں جاری ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کی تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: محمود خان 

صوبے میں جاری ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کی تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں ...

  

         پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمو د خان نے یونیورسٹی آف شانگلہ کا باضابطہ افتتاح کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت شانگلہ کو ترقی دینے کا اپنا وعدہ پورا کر رہی ہے۔ شانگلہ یونیورسٹی میں مائن ورکر ز کے بچے مفت تعلیم حاصل کریں گے، خواہش ہے کہ یہاں کے نوجوان کوئلے کی مزدوری کی بجائے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، صوبائی حکومت شانگلہ کے مغوی کان کنوں کی بازیابی کیلئے بھی بلوچستان حکومت کیساتھ رابطے میں ہے اور امید ہے کہ انہیں جلد بازیاب کرالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت فنڈز کی کمی کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں آڑے نہیں آنے د ے گی۔ ہم وفاقی حکومت کیساتھ رابطے میں ہیں، اپنا حق نہ ملا تو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔  خیبرپختونخوا سے حقیقی آزادی مارچ ہفتے کے روز راولپنڈی کی طرف روانہ ہوگا۔ صوبائی وزراء او ر اراکین اسمبلی اپنے اپنے حلقوں سے قافلوں کی قیادت کریں گے۔  وزیراعلیٰ نے بدھ کے روز ضلع شانگلہ کا مختصر دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے یونیورسٹی آف شانگلہ کا افتتاح کیا اور عوامی اجتماع سے خطاب بھی کیا۔ یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر چار شعبہ جات میں بی ایس پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ اس وقت یونیورسٹی میں 556 طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ کمپیوٹر سائنس کو یونیورسٹی کا فلیگ شپ پروگرام ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو اور جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ یونیورسٹی کا قیام اربوں روپے کا منصوبہ ہے جس سے ضلع شانگلہ کی تعلیمی پسماندگی دور ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع خصوصاً پسماندہ اضلاع میں یونیورسٹی موجود ہو تاکہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم وتحقیق کے مواقع میسر آسکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے سرکاری کالجز میں مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے مقامی سطح پر ایجوکیشن کارڈ متعارف کرا رہے ہیں۔صوبائی حکومت نا صرف معیار ی تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں ہے بلکہ سیاحت و صنعت کو ترقی دے کر روزگار کے مواقع بھی پید ا کر رہی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو روزگار کیلئے دیگر صوبوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ضلع شانگلہ میں ترقیاتی منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 27 کلومیٹر طویل چکیسر اور کروڑہ تا اجمیر روڈز کے منصوبوں کو ایشیائی ترقیاتی بنک کے پورٹ فولیو میں شامل کیا گیا ہے جس کی تکمیل سے ٹریفک کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ ضلع شانگلہ میں کانا تحصیل کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے جو لوگوں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ علاوہ ازیں چکیسر سپورٹس گراؤنڈ ز کی تعمیر پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبائی حکومت کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ صوبائی حکومت کو وفاق کی طرف سے حقوق کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے تاہم صوبائی حکومت نے اپنی منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ ہم صوبے میں جاری ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کی تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہم وفاق سے اپنا حق لینے کیلئے ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے اور ضرورت پڑنے پر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 62 ارب روپے وفاقی حکومت کے ذمہ بقایا ہے۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز اور صوبے کا این ایف سی میں شیئر بھی نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے آزادی مارچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام آزادی مارچ میں بھر پور انداز میں شرکت کریں گے۔ یہاں کے لوگ پہلے بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ راولپنڈی جلسے میں عمران خان جو لائحہ عمل دیں گے اس پر عمل کریں گے۔ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا ہے عمران خان کی قیادت میں حاصل کرکے رہیں گے۔ دریں اثناء بلدیاتی نمائندوں کے وفد نے میئر مردان حمایت اللہ مایار کی سربراہی میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ملاقات کی جس میں بلدیاتی حکومتوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ ملاقات کے بعد میئر مردان حمایت اللہ مایار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کے بعد انہوں نے صوبائی دارالخلافہ پشاور میں مجوزہ احتجاج کرنے کی کال واپس لے لی۔ 

مزید :

صفحہ اول -