لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کی پاک فوج میں خدمات

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کی پاک فوج میں خدمات
لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کی پاک فوج میں خدمات

  

راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)چئیر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے نامزد لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کا تعلق پنجاب کے ضلع چکوال سے ہے۔ وہ سنہ 2021 سے فوج میں تھری سٹار جنرل کے طور پر راولپنڈی کور کمانڈ کر رہے ہیں۔

ساحر شمشاد کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر جون 2019 میں ترقی دی گئی تھی جبکہ انہوں نے بطور ایڈجوٹینٹ جنرل اور چیف آف جنرل سٹاف کے فرائض بھی انجام دیے ہیں۔ان کا تعلق سندھ ریجمنٹ کی آٹھوں بٹالین سے ہے اور وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 76 لانگ کورس کا حصہ رہے ہیں۔انہوں نے بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس بھی فرائض انجام دیے ہیں جبکہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے دوران انہوں نے انفنٹری ڈویژن بھی کمانڈ کیا ہے۔

ایک سابق فوجی افسر کے مطابق ساحر شمشاد بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس ابھرے اور یہ دور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا تھا۔

اس دوران ساحر شمشاد جی ایچ کیو میں راحیل شریف کی ٹیم کا حصہ بھی رہے اور مختلف فوجی آپریشن کی سرپرستی بھی کی۔ جن میں تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن بھی شامل ہیں۔ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک افسر نے بتایا کہ پاکستان، چین، امریکہ اور افغانستان کے درمیان بات چیت کے سلسلے کو شروع کرنے اور اسے جاری رکھنے والوں میں ساحر شمشاد کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

فوجی افسر نے بتایا کہ تھری سٹار جنرل کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ان کو چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔’یہ کافی طاقتور عہدہ ہوتا ہے۔ جس میں فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ خارجہ امور اور قومی سلامتی کے معاملات بھی دیکھنے ہوتے ہیں۔‘اکتوبر 2021 میں انہیں بطور کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کیا گیا۔فوج کے افسران بتاتے ہیں کہ اس عہدے پر آنے کا ایک مقصد ’سینیئر عہدوں اور آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے کی ذمہ داری سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ افسر کو ہر طرح کی کمانڈ میں پرکھنا پڑتا ہے اور اس حوالے سے ساحر شمشاد کو آل راؤنڈر کہنا غلط نہ ہو گا۔‘

’نیوٹرل،‘ ’غیر متنازعہ‘ اور ’آل راؤنڈر‘ یہ چند الفاظ ہیں جو لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کے بارے میں ان کی سینیئر افسران نے استعمال کیے، جب ان سے ساحر شمشاد کے بارے میں پوچھا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے ساحر شمشاد کے بارے میں کہا کہ ’سینیئر ہونے کے ساتھ ساتھ ساحر شمشاد کو مختلف عہدوں پر پرکھا گیا۔ ان کے بارے میں کوئی نجی نوعیت کی خبر اب تک سننے میں نہیں آئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی پروفیشنل زندگی ان کی لیے اہمیت رکھتی ہے۔‘

مزید :

قومی -