ڈھاکہ ایک رات کی کارروائی سے قابو میں آگیا لیکن چٹاگانگ اور دوسرے شہروں میں شدید مزاحمت ہوئی 

ڈھاکہ ایک رات کی کارروائی سے قابو میں آگیا لیکن چٹاگانگ اور دوسرے شہروں میں ...
ڈھاکہ ایک رات کی کارروائی سے قابو میں آگیا لیکن چٹاگانگ اور دوسرے شہروں میں شدید مزاحمت ہوئی 

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:60

سالک کے مطابق ڈھاکہ تو ایک رات کی کارروائی سے قابو میں آگیا لیکن چٹاگانگ اور دوسرے شہروں میں بنگالیوں کی طرف سے شدید مزاحمت ہوئی جسے فرو کرنے کے لیے فوج کا کافی جانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس کی ایک وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ فوج نے بنگالیوں کو کمزور سمجھا اور بہتر منصوبہ بندی نہ کی مثلاً 28مارچ 1971ءکو چٹاگانگ کے ایس پی نے فوج کے کمپنی کمانڈر کو بتایا کہ سرحدی قصبے میںبہت سے باغی جمع ہیں لیکن فوجیوں نے زیادہ اقدامات نہیں کیے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ فوجیوں کے پاس اسلحے کی کمی تھی۔

فوج کی ناکامی کی وجوہ میں باغیوں کی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔جو فوجی قافلوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ، پل تباہ کرتے قافلوں پر حملے کرتے۔ اس کے علاوہ مشرقی پاکستان کا جغرافیہ کھیت ‘ جنگل ‘ ندی نالے‘ باغیوں کو چھپنے اور فرار میں مددد یتے۔ سب سے بڑھ کر بنگالی عوام کا ”جذبۂ آزادی“ فوج کے آڑے آرہا تھاجو ہر قیمت پر آزادی چاہتے تھے۔

فوجی کارروائیوں کے ساتھ ”مکتی باہنی“ کی کارروائیاں بھی بڑھتی گئیں۔ عوام فوج اور مکتی باہنی دونوں کے غضب کا نشانہ بنتے ”مکتی باہنی“ کو بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ وہ بھارتی فوج کے زیر اثر باقاعدہ تربیت حاصل کرتے انہوں نے 9ماہ کی خانہ جنگی میں فوج کے مورال کو کمزور کیا اور خود قوت پکڑی۔

پاک فوج کی طرف سے عوام پر بمباری ‘قتل وغارت‘ اور آبروریزی کے واقعات کا تناسب متنازعہ رہا ہے۔ بنگالی اور غیر ملکی اخبارات آبرو ریزی کی وارداتیں ہزاروں لاکھوں میں بیان کرتے تھے۔ صدیق سالک نے اس قسم کے صرف 9 واقعات کی تصدیق کی ہے اور جن کے مرتکب فوجیوں کو عبرتناک سزائیں ملی ‘ لکھتے ہیں:

”مگر ان سزاﺅں سے رسوائی کا داغ نہ دھویا جا سکا مجھے ایسے واقعات کی مجموعی تعداد کا اندازہ نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ایک واقعہ بھی پوری فوج کو رسوا کرنے کے لیے کافی تھا۔“ 

سالک کے اس بیان پر ”روشن خیال“ طبقے نے تنقید کی کہ یہ حقائق سے آنکھیں چرانے کا نام ہے اور انہوں نے فوج کا حصہ ہوتے ہوئے فوج کی طرفداری کی۔ سالک فوج کاحصہ تھے اور یہ کتاب سانحے کے چند سال بعد لکھی گئی لیکن آج سقوط ڈھاکہ کے 39 سال بعد کے حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش میںعصمت دری کے واقعات کی بیان کردہ شرح حقیقت سے بہت زیادہ ہے۔

معروف کالم نگار ارشاد احمد حقانی نے روزنامہ جنگ میں اپنے کالم ”بنگلہ دیش میں عصمت دری کے واقعات۔حقیقت واضح ہوتی ہے“ میں امریکہ کی وزارت داخلہ کے تحت ہونے والے سیمینار میں امریکی پروفیسر مس سرمیلا بوس کے حوالے سے لکھا ہے کہ بنگلہ دیش میں پاک فوج کی طرف سے بنگالی خواتین کی عصمت دری کے واقعات میں حقیقت نہیں ‘ان کے مطابق ظلم ضرور ہوئے لیکن یہ یک طرفہ نہ تھے۔ارشاد احمد حقانی مزید لکھتے ہیں کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے ایک بیرونی ملک سے میڈیکل مشن بلایا تاکہ ایسی خواتین کا جائزہ لے سکے تو اس ٹیم کے سامنے صرف 200 خواتین پیش ہوئیں۔ حقانی صاحب کے مطابق اگر فرض کر لیا جائے کہ اتنی ہی خواتین بوجوہ پیش نہیں ہوئیں تو بھی یہ تعداد لاکھوں کی تعداد سے بہت کم ہے اس کالم کے ذریعے حقانی صاحب بھی صدیق سالک کی طرح پاک فوج کا دفاع نہیں کر رہے بلکہ حقیقت بیان کر رہے ہیں۔عصمت دری کے متعلق ان کی رائے صدیق سالک کی رائے سے بہت مماثلت رکھتی ہے:

”اگر مشرقی پاکستان میں کسی بنگالی عورت کی عصمت دری کا ایک بھی واقعہ ہوا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے بعض واقعات ہوئے ہیں تو ان کی بھی سخت ترین مذمت کی جانی چاہیے۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -